Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قتال سے مقصود اللہ کے دین کی نصرت ہو

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو شام روانہ کرنے کے سلسلہ میں جو خط ارسال فرمایا اس خط سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں کوشش کرنے اور نیت کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا حکم دیا۔ خود پسندی، تکبر اور فخر و غرور سے منع فرمایا کیونکہ یہ خواہش نفس ہے جو عمل کو برباد کر دیتی ہے اور انہیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ وہ اپنے عمل کے ذریعہ سے اللہ پر احسان جتلائیں کیونکہ احسان کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ توفیق اسی کے ہاتھوں میں ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 295)

یہ بعض تعلیمات تھیں جو اس خط میں سیدنا ابوبکرؓ نے دی تھیں: ’’اے ابوسلیمان! اخلاص ونصیب مبارک ہو، اپنی ذمہ داری پوری کرو اللہ تمہارے لیے اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ خود پسندی تمہیں لاحق نہ ہو، ایسی صورت میں تم کو نقصان اور رسوائی لاحق ہو گی۔ خبردار! تم اپنے کسی عمل کی وجہ سے احسان نہ جتلاؤ، حقیقت میں اللہ ہی احسان کرنے والا ہے اور وہی بدلہ دینے والا ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 202 )