فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ولایت منصب] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ولایت منصب]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے کسی کو مجال انکار نہیں ؛ اور نہ ہی اس میں کسی دو نے اختلاف کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی سن ۹ھجری کا حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کروایا۔ پھر شیعہ کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو واپس بلا لیا تھا؟ البتہ مشرکین سے کیے ہوئے معاہدوں کے اختتام کا اعلان کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا تھا۔[اس میں دوسری مصلحت یہ تھی کہ سورۂ توبہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی مدح و ستائش پر متضمن ہے نبی کریم چاہتے تھے کہ اس ثناء کا اظہار حج کے موقع پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زبان سے ہوتا کہ اﷲ کے دشمن ہمیشہ کے لیے شرم سار ہوں اور جب بھی اس پر غوروفکر کریں ان کا مصنوعی دین دھڑام سے نیچے گر پڑے۔ متقدمین شیعہ میں سے اﷲ کے دشمن اﷲ شیطان الطاق نے بدحواسی کے عالم میں کہا کہ یہ الفاظ﴿ ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ﴾ اﷲ کے فرمودہ نہیں ہیں ۔ جیسا کہ مشہور ادیب جاحظ نے اپنے استاد ابراہیم نظام وبشربن خالد سے سن کر بیان کیا۔ (دیکھیے الفصل امام ابن حزم: ۴ ؍ ۱۸۱)۔ متاخرین شیعہ میں سے طاغوت الکاظمیہ نے حواس باختہ ہو کر کہا کہ آیت قرآنی ﴿ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہما کو شامل نہیں ، بلکہ یہ خالص الایمان لوگوں کے لیے مختص ہے۔ ( دیکھیے کاظمی کی کتاب احیاء الشریعۃ فی کتب الشیعۃ ،ص:۶۳۔۶۴) سیدنا علی کو سورۂ توبہ دے کر مکہ بھیجنے کے واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و علی ایک صف میں تھے اور اعداء صحابہ ان کے مدمقابل دوسری جانب، ان دونوں کا اتصال دین و دنیا میں کسی طرح ممکن نہیں ۔(علامہ خطیب) درحقیقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کو جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا تھا اس وقت ابھی سورہ توبہ کی یہ آیات نازل نہیں ہوئی تھیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ابھی اثنائے سفر میں ہی تھے کہ سورہ توبہ کی چالیس آیتیں نازل ہوئیں جس کا اعلان براء ت حج میں ہونا ضروری تھا، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے ہی روانہ کردیا تاکہ اعلان بروقت ہو سکے، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت کو توڑا نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا، بلکہ امارت حج بدستور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہی اور سیدنا علی کو ان کے ماتحت رہنے دیا۔]

اس لیے کہ عربوں کے یہاں رسم تھی کہ عہد باندھنے یا توڑنے کا کام حاکم خود کرتا یا اس کے اہل بیت میں سے کوئی شخص یہ کام انجام دیتا۔ہر ایک سے اس کی بات قبول نہیں کرلیتے تھے۔ [بنا بریں اعلان براء ت کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا تھا]۔

٭ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے امیر حج ہونے کے دن بزمرہ موذنین بھیجا تاکہ ہم منی میں یہ اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ(ہو کر) طواف کرے۔‘‘اور ایک روایت میں ہے: ’’ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ سورت برات کا اعلان کریں ، علی رضی اللہ عنہ نے قربانی کے دن ہمارے ساتھ منی میں لوگوں میں اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوی برہنہ(ہو کر)کعبہ کا طواف کرے۔‘‘[صحیح بخاری:ح 362]

٭ آپ فرماتے ہیں : پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا عہد اس سال واپس کردیا۔حجۃ الوداع کے سال جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ‘ تو اس سال کسی بھی مشرک نے حج نہیں کیا۔

ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ حج میں جو کچھ ہوا اس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بہت بڑے فضائل ہیں ۔ اس لیے کہ اس سال اس عظیم الشان اجتماع سے آپ نے ہی خطاب کیا ۔اورلوگ خاموشی سے آپ کا خطبہ سنتے رہے۔ آپ کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کی جملہ رعیت میں سے ایک تھے۔ اس سورت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان اور غار کاذکرہے۔ سو یہ سورت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر لوگوں کو سنائی۔ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں انتہائی حد اورقطعی حجت ہے۔

٭ مزیدار بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر امیر بنانے کا واقعہ اس فرمان کے بعد کا ہے:

((أما ترضی اَنْ تَکون مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی۔))

’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے لیے بلحاظ منزلت ایسے ہی ہو جیسے ہارون حضرت موسیٰ کے ساتھ ۔‘‘

٭ مقام حیرت ہے کہ شیعہ مصنف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت و سوانح اور عصر و عہد کے واقعات سے نابلد محض ہونیکے باوجود علم و فضل کا دعوے دار ہے۔اوریہ ان متواتر واقعات سے بھی جاہل اور لاعلم ہے جنہیں وہ لوگ بھی جانتے ہیں جنہیں علوم سیرت سے ادنیٰ سی شناسائی ہوتی ہے۔مگریہ ایسے واقعات تلاش کرتے ہیں اور پھر ان میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کرتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگوں کو خاموش رہنا زبان سخن دراز کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔مگر کیا کریں اس رافضی مصنف نے بھی وہی کچھ کیا ہے جو کہ اس کے ان اسلاف نے کیا ہے جن کا یہ مقلد ہے۔اس نے ان کے کلام کی کوئی تحقیق نہیں کی۔ اور نہ ہی ان چیزوں کا مراجعہ کیا ہے جو اہل علم کے ہاں صرف معلوم ہی نہیں بلکہ متواتر کی حد تک معروف ہیں ۔اور خاص و عام انہیں جانتے ہیں ۔[ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو اندھا کردیا ہو اور اس کی نیت خراب ہو تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ وہ مصنف کٹر شیعہ ہے؛ اوراپنے اسلاف کی راہ پر گامزن ہے جو کہ تقیہ اور کذب و افتراء سے عبارت ہے]۔


صفحہ 2 از 2