شیعہ مناظر کا اہم علمی نکتہ:عالم کے قول کی حیثیت! - سنی…

شیعہ مناظر کا اہم علمی نکتہ:عالم کے قول کی حیثیت!

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

آپ اس روایت کو ضعیف ثابت کرسکتے ہیں تو شوق سے کوشش کیجئے گا۔ علمی بحث ہے کوئی انا کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں اپنے دلائل اور استدلال کا دفاع کروں گا اور آپ میرے استدلال کو رد کرنے کی کوشش کریں گے۔ مناظروں اور مکالموں میں یہی تو ہوتا ہے۔

 اچھا ایک نکتہ رہ گیا۔ جب دلیل سے میں شیعیت کے بنیادی عقائد کا موجد ابن سبا کو ثابت کروں گا اور جید شیعہ علماء کی تائید بھی دکھاؤں گا تو آپ اپنی عقائد کی کتب سے رد اس طرح بھی کر سکتے ہیں کہ 

معتبر روایات سے ثابت کریں کہ۔۔۔

⬅️ ابن سبا کے دور سے پہلے بھی وہ بنیادی عقائد موجود تھے اور عوام میں رائج تھے۔

ظاہر ہے ابن سبا اگر ان عقائد کا بانی نہیں ہے تو دور نبوی ﷺ اور دور خلفائے ثلاثہ میں یہی عقائد موجود ہونے چاہئیں۔

  اور   بالکل درست فرمایا۔۔۔ ہم دور عثمان اور دور سیدنا علی میں جائیں گے اور اہل سنت و اہل تشیع کی معتبر روایات سے اس ملعون کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ان شاء اللہ

روایات تو کاپی پیسٹ ہی کی جاتی ہیں۔ میں بڑی بڑی تحاریر کاپی پیسٹ کرنے سے روک رہا ہوں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : میں دوسروں کی تحقیقات سے استفادہ ضرور کرتا ہوں ، انہیں ہو بہو یا لمبا لمبا کاپی کرنا میری روش نہیں ہے ، البتہ اپنے طور پر نکات نکالنا اور ان پر بحث میں کوئی خامی نہیں سمجھتا ۔

  محترم آپ جس بھی عقیدہ کا بانی آپ ابن سباء کو ثابت کریں گے آپ کی یہ بات تبھی قابل قبول ہوگی جب وہ اس کے علاوہ کسی بھی فرد سے وہ عقیدہ ثابت نا ہوگا ۔ ورنہ تو مسلمہ بات ہے کہ وہ اس عقیدے کا راوی تو ہو سکتا ہے بانی نہیں ہو سکتا۔

   جعفر صادق: مطلب  پہلی صدی میں ابن سبا کے گھڑے گئے عقیدے کو آپ چوتھی صدی کی کتب سے اس طرح ثابت کریں گے کہ ہمارے چوتھے یا پانچویں امام جن کا دور ہی ابن سبا کے بعد آتا ہے  ، انہوں نے یہ عقائد بیان فرمائے ہیں۔ یعنی دور نبویﷺ  اور دور خلفائے ثلاثہ میں سوائے ابن سبا کے کسی بنی بشر کو پتہ ہی نہ تھا کہ یہ بنیادی عقائد بھی اسلام کا حصہ ہیں۔ کمال کی بات لکھ دی ہے۔

   چلیں آپ اقرار کریں کہ دور نبوی ﷺ اور دور خلفائے ثلاثہ میں شیعہ کے بنیادی عقائد کا علم کسی کو نہ تھا۔ ابن سبا نے وہ عقائد پھیلا کر دین کی بڑی خدمت کردی۔۔۔ بعد میں ائمہ معصومین نے بھی انہی عقائد کی تبلیغ شروع کی تو اصحاب ائمہ معصومین نے روایت کرنا شروع کردیا۔۔ چوتھی صدی میں کلینی کو *خفیہ معتبر ذرائع* میسر آگئے تو  بیٹھے بٹھائے ایک ضخیم کتاب تصنیف کردی۔ بعد میں تو نقل در نقل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔

  رانا محمد سعید شیعہ : آپ کے نوالے میں کیوں لوں محترم ۔ میں نے اوپر جو اصول بیان کیا ہے اس میں  کچھ غلط بات   ہے تو اعتراض کریں میں جواب دینے کو تیار ہوں ، نئی فرمائش اور نیا موضوع اٹھا کر پرانے موضوع سے ہاتھ مت اٹھائیے۔

  جعفر صادق: ہم نے دلائل کو رد کرنے کے تمام آپشن ڈسکس کر لئے ہیں۔ میرے دلائل شیعہ کی صحیح روایات ہیں اور میرا استدلال بھی ذاتی نہیں ہوگا بلکہ جید شیعہ علماء کا استدلال ہوگا۔دلائل کا رد مسلمہ اصولوں کے مطابق کرنا ہوگا۔

روایت ⬅️ ضعیف ہے۔

یا، استدلال ⬅️ درست نہیں ہے بلکہ جید شیعہ علماء ان روایات سے یہ مطلب نکالتے ہی نہیں ہیں۔

یا

روایات اور استدلال سب ثابت ہیں لیکن ابن سبا وہ پہلا شخص نہیں ہے جس نے یہ عقائد گھڑے تھے کیونکہ وہ عقائد تو پہلے سے ہی عوام میں مشہور و معروف تھے یا کم از کم کچھ شخصیات میں رائج تھے۔

⬅️ اس کی تائید میں آپ اسی درجے کی روایات اور جید شیعہ علماء کے اقوال پیش کریں گے۔

   آپ نے کوئی اصول پیش ہی نہیں کیا بلکہ یہ کہا ہے کہ شیعہ عقائد کی کتب سے عقائد ثابت کروں گا۔۔ دوبارہ سمجھ لیں! مجھے یہ ثابت نہیں کرنا کہ وہ عقائد شیعہ کے ہیں یا نہیں۔۔۔بلکہ مجھے ان *شیعہ عقائد کا وجود ثابت کرنا ہے کہ وہ آخر کہاں سے آگئے۔* آپ ابن سبا کے بعد ان عقائد کو ثابت کر کے یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ عقائد شروع اسلام سے موجود تھے۔ آپ کو کم از کم ایک صحیح روایت تو پیش کرنی ہوگی کہ وہ عقائد ابن سبا سے پہلے بھی موجود تھے۔ جب میں اتنی بڑی حقیقت ثابت کر رہا ہوں تو آپ کو بھی بھرپور دفاع کرنا چاہئے۔

شیعہ مناظر کا أصول:اہل سنت استدلال اس وقت باطل ہوگا جب وہ عقیدہ کسی دوسری شخصیت سے ثابت ہوگا۔(آخر میں اپنے ہی أصول سے فرار ہوگیا!)

 رانا محمد سعید شیعہ : محترم میری بات غور سے پڑھیں ۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ آپ کو ثابت کرنا ہوگا ۔ میں نے آپ کے سامنے ایک اصول پیش کیا  ہے کہ آ پ کی یہ بات تبھی قابل قبول  ہوگی جب آپ  کسی عقیدہ کے بارے میں یہ دعویٰ کریں گے کہ یہ عقیدہ ابن سباء کی ایجاد ہے ۔ اور وہ اس کے علاوہ اور کسی  سے ثابت نہیں ہوگا ۔ اگر وہ عقیدہ کسی دوسری شخصیت سے ثابت ہوگا تو آپ کا استدلال باطل ہوگا۔

    یہ اصول ہم اپنے روایت و درایت کے اصولوں پر رہتے ہوئے لاگو کریں گے ۔ اس پر کوئی اشکال ہے تو پیش کریں ۔

  جعفر صادق: آپ نے میرے جوابات پر غور ہی نہیں کیا۔*میں ذاتی رائے سے ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ ان عقائد کا بانی ابن سبا ہے۔*آپ میرے دلائل کا علمی رد کریں گے تو آپ کی بات تسلیم کی جائے گی بصورت دیگر آپ اپنی صحیح روایات اور ان جید شیعہ علماء سے اظہار لاتعلقی کر لیجئے گا۔

⬅️ میرے دلائل کا رد صحیح روایات اور جید شیعہ علماء سے ہی کرنا ہوں گے۔

 اہم بات:عقائد کی تائید ابن سبا کے بعد دکھانے سے آپ کا مؤقف کمزور ہوگا۔ مثال کے طور پر میں بارش کی شروعات صبح دس بجے سے ثابت کردوں تو آپ کا یہ ثابت کرنا کہ بارش دوپہر ایک بجے  ہو رہی تھی کسی کام کا نہیں ہوگا۔۔۔ یا تو آپ کو بارش صبح آٹھ بجے سے ثابت کرنی ہوگی یا مجھے جھوٹا ثابت کرنا ہوگا کہ بارش دس بجے نہیں ایک بجے ہی شروع ہوئی تھی۔

صفحہ 2 از 3