شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کے پندرہویں پارہ کی آیت نمبر 60 میں الشجرہ الملعونہ سے مراد بلا اختلاف ائمہ مفسرین اور بالاتفاق شیعہ سنی بنو امیہ ہیں اس لیے بنو امیہ قرآن کے فرمان کے مطابق ملعون ہوئے اس لئے ان پر لعنت بھیجنا ضروری ہے
مولانا ابوالحسن ہزارویشیعہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کے پندرہویں پارہ کی آیت نمبر 60 میں الشجرہ الملعونہ سے مراد بلا اختلاف ائمہ مفسرین اور بالاتفاق شیعہ سنی بنو امیہ ہیں اس لیے بنو امیہ قرآن کے فرمان کے مطابق ملعون ہوئے اس لئے ان پر لعنت بھیجنا ضروری ہے
جواب اہلسنّت
مذکورہ آیت کریمہ کا معنی و مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں شیعہ حضرات کی عمومی عادت ہے کہ لوگوں پر اپنی غلط بات کا تاثر قائم کرنے کے لیے شیعہ کتاب کے حوالے کو اہلسنت کے نام یا بلا اختلاف یا بالاتفاق شیعہ سنی کے الفاظ کے ساتھ پیش کرتے ہیں تاکہ سادہ لوح سنیوں کو اپنے شیعہ عقائد کی طرف بہکایا جا سکے
چنانچہ بحث آیت کے معنی و مفہوم میں شیعہ احباب کا بار بار لفظ بالاتفاق استعمال کرنا سراسر غلط اور دروغ گوئی ہے تمام صحابہ کرام اور بالخصوص ماہرین قرآن صحابہ کرام جنہوں نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید سیکھا ہے اور قرآن نے امت کو ان سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا ہے انہوں نے اور تمام اہل سنت کے مفسرین نے مذکورہ آیت میں الشجرہ ملعونہ کا معنی شجرہ زقوم کیا ہے چنانچہ تفسیر طبری تفسیر مدارک تفسیر جلالین تفسیر روح البیان تفسیر ابن کثیر ملاحظہ ہو اور اہل سنت کے تمام مفسرین نے اس لفظ سے بنوامیہ مراد لینے کی سختی سے تردید کی ہے اس لئے شیعہ احباب کا یہ کہنا( لا اختلاف بین احد انہ ارادبھا بنی امیة )کہ اس بات میں کسی ایک شخص کا بھی اختلاف نہیں ہے کہ آیت مذکورہ میں شجرہ ملعونہ سے مراد بنوامیہ ہیں بالکل غلط ہے۔ نمونہ کے طور پر امام المفسرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سیکھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی اور امت کو ان سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا ہے ان کا حوالہ پیش خدمت ہے۔ اور یہ تفسیر اس مفسر کی ہے جس نے اپنی کتابوں میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر لعنت اللہ لکھا ہے (نعوذباللہ)
(تفسیر طبری جلد 15)
قال ابن عباس رضی اللہ عنہ والشجرہ الملعونہ فی القران قال شجرة الزقوم (تفسیر طبری ج15)
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں (الشجرہ ملعونہ) سے مراد زقوم کا درخت ہے یہ درخت جہنم کی تہہ میں اگا اور دوزخیوں کی خوراک ہوگی درخت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں دکھایا گیا تھا اور اسے کفار کے لیے آزمائش بنا دیا گیا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے تو پھر یہ درخت کیسے اگے گا،
دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ آیات جس سورۃ میں واقع ہے وہ سورت مکی ہے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا خاندان فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا ہے اس اعتبار سے بھی شجرہ ملعونہ سے مراد بنو امیہ لینا غلط ہے۔