Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

میدان جنگ میں فوج کی ترتیب

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قائدین اپنے جنگی معرکوں میں صف بندی کے نظام کو قائم کرتے تھے اور میدان قتال میں قائد کی صواب دید اور وقت کی ضرورت کے مطابق صفوں کی تعداد میں کمی وزیادتی ہوتی رہتی تھی 

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 231)

لیکن معرکہ یرموک میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کردوس کا نظام متعارف کروایا۔ کردوس کے نظام میں فوجیوں کا ایک مجموعہ صفوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔ یہ صفیں دوسری سے جدا نہیں ہوتیں، ہر دو کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے کہ آسانی سے نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ کردوس کا نظام اختیار کرتے ہوئے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے لشکر سے فرمایا: تمہارا دشمن تعداد میں زیادہ ہے اور سرکشی پر اتر آیا ہے اور کردوس کے نظام سے بڑھ کر کوئی نظام نہیں ہے جس میں بظاہر فوج زیادہ نظر آئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 215)

چنانچہ قلب پر کردوسوں کو رکھا اور ان کے ساتھ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور میمنہ پر کردوسوں کو رکھا اور ان کے ساتھ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور ان کے ساتھ شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میسرہ پر کردوسوں کو رکھا اور ان پر یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو مقرر فرمایا۔ اس طرح آپ نے چھتیس (36) سے چالیس (40) کردوس مقرر کیے اور فوج کو میدان میں اس طرح منظم کیا، جس تنظیم سے عرب واقف نہ تھے اور انتظامی امور کی ادارت وذمہ داری قائدین کے درمیان تقسیم کر دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 215)

مگر واقعہ یرموک کے بعد صفوں کا نظام اسلامی جنگی نظام میں معمول بہ رہا۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 232)