لشکر کو قتال پر برانگیختہ کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجاہدین کو قتال پر برانگیختہ کرتے، ان کے نفوس میں قوت پیدا کرتے، جس سے ان کے اندر ظفر وفتح مندی کا شعور بیدار ہوتا۔ ان سے فتح ونصرت کے اسباب بیان کرتے جس سے دشمن ان کی نگاہوں میں کم نظر آتا اور اس کے خلاف جرأت پیدا ہوتی اور جرأت سے فتح وکامرانی آسان ہو جاتی ہے۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 234)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو قتال پر برانگیختہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’موت کے حریص بنو، حیات عطا ہو گی۔‘‘
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 238)
اور جس وقت شام کی فتح کے لیے فوج کو تیار کیا اس وقت انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دی، اس پر برانگیختہ کیا اور ان کو نصیحت کرتے رہے اور اللہ سے فتح و نصرت کی دعا میں لگے رہے۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 11، 15)