فصل:....[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات] - ردِ رافضیت…

فصل:....[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

فصل:....[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات]

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:چودھواں سبب: ’’عثمان رضی اللہ عنہ نے بہت سے ناروا کام کیے تھے،ان کا کرنا ہر گز جائز نہ تھا۔ یہاں تک کہ سب مسلمان آپ پر اعتراض کرنے لگے اور آپ کو قتل کرنے پر متفق ہو گئے۔آپ کے قتل کرنے پر یہ اجتماع آپ کی امامت اور صحابیت کے اجتماع سے زیادہ تھا۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:اس کے جواب میں کئی نکات ہیں :

اول : یہ دعوی ایک کھلا ہوا جھوٹ[ شیعہ کے جہل و افتراء کی کرشمہ سازی ] ہے۔ اس لیے کہ تمام لوگوں نے مدینہ میں اور باقی شہروں میں کامل اتحاد اور یگانگت کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔آپ کی بیعت پر کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا؛ اور کوئی شخص بھی آپ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا تھا۔امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کہ آپ کی بیعت دوسروں کی نسبت زیادہ پختہ اورمؤکد تھی۔ اس لیے کہ تمام لوگوں کا آپ پر اتفاق تھا۔ [ بخلاف ازیں بہت سے لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت میں شرکت نہیں کی تھی]۔

[یہ جھوٹ ہے کہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بارے میں متحد الخیال تھے]،آپ کو قتل کرنے والے چند باغی اور ظالم لوگ تھے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پرلعنت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’ وہ چوروں کی طرح بستی کی پچھلی جانب سے داخل ہوئے۔ اللہان کوہر طرح سے غارت کرے۔ ان میں سے وہی لوگ بھاگنے میں کامیاب ہوئے جو راتوں رات بھاگ گئے تھے [اور مسلمانوں کو خبر بھی نہ تھی]۔‘‘

یہ بات تو تواتر کے ساتھ معلوم ہے کہ شہروں کے رہنے والے آپ کے قتل میں شریک نہ تھے۔ اور جتنے لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی ؛ اتنوں نے تو آپ کو قتل نہیں کیاتھا۔ اور سابقین اوّلین صحابہ میں سے کوئی بھی قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک نہ تھا۔ حالانکہ یہ سبھی لوگ آپ کی بیعت میں شریک ہوئے تھے۔بلکہ آپ کو قتل کرنے والوں کی تعداد بیعت کرنے والوں کی تعداد کا سوواں حصہ بھی نہ تھی۔تو پھر یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ آپ کو قتل کرنے پر بیعت سے زیادہ بڑا اجماع ہوا تھا۔یہ بات صرف وہی انسان کہہ سکتا ہے جو تاریخی حقیقت سے بالکل جاہل ہواور سب سے بڑاجھوٹا اورمکار ہو۔

دوم : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے اور ان پر طعن و تشنیع کرنے والوں کی تعداد قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے کئی گنا زیادہ تھی اور جن لوگوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگیں لڑیں ‘ ان کی تعداد بھی قاتلین عثمان سے کئی گنا زیادہ تھی۔ آپ کے لشکر کے ہزاروں آدمی ان ہی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کو کافر قرار دیا اور آپ کے خلاف خروج کیا تھا ۔اور کہنے لگے: آپ اسلام سے مرتد ہوچکے ہیں ۔ہم اس وقت تک آپ کی اطاعت نہیں کریں گے جب تک آپ دوبارہ اسلام میں داخل نہ ہوں ۔ آخر کاران ہی لوگوں میں سے آپ کو قتل کرنے کی حلت کا اعتقاد رکھتے ہوئے؛ اور اس قتل سے اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول کی امید پر آپ کو قتل کیا۔[چنانچہ آپ بھی اپنے پھوپھی زا د بھائی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح شہادت حاصل کی۔ اللہ ان کے قاتل کو غارت کرے]۔آپ کے قاتل کا عقیدہ قاتلین عثمان کے عقیدہ سے بھی زیادہ برا تھا۔ 

جن لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تھا ‘ وہ آپ کے کفر کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ بلکہ وہ ظلم کا دعوی [اورشکایت]کرتے تھے۔جب کہ خوارج علی الاعلان حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر کہتے تھے۔ان کی تعداد بھی ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ تھی جن لوگوں نے آکر مدینہ کا محاصرہ کرلیا تھا یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا۔

اگر یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر قدح کرنے میں حجت ہوسکتی ہے؛ تو خوارج کا دعوی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل میں بطریق اولیٰ حجت ہوسکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں باطل دعوے ہیں ۔لیکن قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کی حجت قاتلین علی رضی اللہ عنہ کی حجت سے زیادہ بودی اور بے کارہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین اور آپ سے لڑنے والے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین و قاتلین سے کئی گنا زیادہ تھے۔ بلکہ جن لوگوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ لڑی وہ باتفاق مسلمین قاتلین ومحاصرین عثمان سے کئی درجہ افضل تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ لڑنے والوں میں عابد و زاہد لوگ بھی تھے۔ قاتلین عثمان میں نہ ہی دیندار لوگ تھے اور نہ ہی وہ مقاتلین علی رضی اللہ عنہ کی طرح تکفیر کا اظہار کرتے تھے۔ حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت خلیفہ راشد ہیں ‘ اور ان کے خون کو حلال جاننے والے ظالم و سرکش باغی تھی۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین ان سے بڑے ظالم و سرکش تھے۔

سوم : یہ کہ : یہ بات تواتر کیساتھ معلوم ہے کہ تمام مسلمانوں نے اتفاق کیساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی اور کوئی ایک بھی آپ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا۔ حالانکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے نہ ہی آپ کی اور نہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا تخلف آپ کی خلافت میں قادح نہیں ہوسکتا؛اس لیے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے خود ان پر کوئی تنقید نہیں کی؛ اور نہ ہی آپ کے افضل المہاجرین ہونے کا انکار کیا ہے۔ بلکہ یہ ساری چیزیں وہ لوگ جانتے تھے؛ مگر ان کا مطالبہ تھا کہ ایک امیر انصار میں سے ہو ۔ یہ بات نصوص متواترہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’الأئمۃ من قریش ۔‘‘ ’’ ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔‘‘ [سبق تخریجہ]

اس معلوم شدہ نص کی بنا پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا گمان غلط تھا۔ تونص سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آپ کا بیعت سے پیچھے رہنا غلطی تھا ۔اور جب نص سے غلطی ثابت ہوجائے تو پھر اجماع میں اس سے حجت نہیں لی جاسکتی۔

صفحہ 1 از 2