فصل:....[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات] - ردِ رافضیت…

فصل:....[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

جب کہ حضرت عثمان کے دور میں خلافت اسلامیہ کے افریقہ سے لیکر خراسان تک ؛ اور شام کے ساحلوں سے لیکر یمن کی آخری حدوں تک پھیلے ہوئے ہونے کے باوجود کوئی ایک بھی آپ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا۔ اس وقت مسلمان اپنے اہل کتاب و مشرکین پر غالب تھے اور ان سے جنگیں بھی لڑ رہے تھے۔ اس سے فتح و نصرت میں اضافہ ہوا ۔ ملک کو دوام ملا ۔ اورچھ سال یعنی خلافت کے نصف عرصہ تک مسلمان آپ کی بیعت پرقائم رہے ؛ آپ کی مدح و ثناء کرتے اور تعظیم سے پیش آتے تھے۔ اس دوران کسی ایک نے بھی آپ کی شان میں کوئی ایک کلمہ تک بھی نہیں کہا۔

پھر اس کے بعد کچھ لوگ آپ پر باتیں کرنے لگے۔ جب کہ جمہور مسلمین خیر کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہتے تھے۔ آپ کی امارت کا عرصہ لوگوں پر طویل ہوگیا تھا۔ اس لیے کہ آپ بارہ سال تک امیر المؤمنین رہے۔خلفاء اربعہ میں سے کسی ایک کو بھی اتنا عرصہ خلافت کرنے کا موقع نہیں ملا جتنا لمبا عرصہ آپ کو موقع ملا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت دو سال چارماہ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت دس سال او رکچھ ماہ رہی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت چار سال اور کچھ عرصہ رہی۔ آپ کے عہد خلافت میں وہ لوگ بھی پروان چڑھے جو مجبوراً اسلام کا اظہار کررہے تھے ؛ مگر حقیقت میں وہ منافق تھے۔

جیسا کہ عبداللہ بن سبا ء؛اور اس کے امثال و ہمنوا۔ اور یہی وہ لوگ تھے جو آپ کے قتل کی سازش کے پیچھے بطور محرک کام کررہے تھے۔ ادھر اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود تھے[ جو بغیر کسی تحقیق ] منافقین کی باتیں سن لیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :

﴿لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاْاَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ وَ فِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَہُمْ ﴾ [التوبۃ۴۷] 

’’اگر وہ تم میں نکلتے تو خرابی کے سوا تم میں کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور ضرور تمھارے درمیان (گھوڑے) دوڑاتے، اس حال میں کہ تم میں فتنہ تلاش کرتے، اور تم میں کچھ ان کی باتیں کان لگا کر سننے والے ہیں ۔‘‘

یعنی تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی باتیں سنتے ہیں او رپھر ان کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ او ران کی باتیں مان لیتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر کلام کو ملتبس کردیتے ہیں۔

یہ منافقین کا کردار رہا ہے کہ انہوں نے محبین عثمان رضی اللہ عنہ پر معاملہ ملتبس کردیا۔ اوربغض رکھنے والے بغض میں بڑھ گئے ؛ یہاں تک کہ لوگ آپ کی نصرت کرنے کے لیے کما حقہ کھڑے نہ ہوسکے۔

جو لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے‘ وہ بعض قبائل کے اوباش نوجوان تھے۔ جن کا اسلام میں کوئی ذکرخیر تک نہیں تھا۔ اگر یہ فتنہ پیش نہ آیا ہوتا تو شاید لوگ ان کے نام سے بھی واقف نہ ہوتے۔

جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سے مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ کی بیعت سے آدھے سے زیادہ مسلمان سابقین اولین مہاجرین و انصار اور دوسرے لوگ پیچھے رہے۔جو لوگ بالکل بیٹھ گئے تھے او رانہوں نے آپ سے جنگ نہیں او رنہ ہی آپ کے ساتھ مل کر جنگ کی ‘ ان میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ؛ حضرت عبداللہ بن عمر؛ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل ہیں ۔ او ران میں سے بعض نے آپ سے جنگ لڑی ۔

پھر آپ کی بیعت کرنے والے لوگوں میں سے بھی بہت سارے لوگوں نے اس بیعت سے رجوع کرلیا۔ او ران میں سے بعض نے آپ کی تکفیر شروع کردی؛ اورآپ کو حلال الدم کہنے لگے۔ اور ان میں سے بعض حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے جیسے آپ کے بھائی حضرت عقیل رضی اللہ عنہ او راس طرح کے دوسرے لوگ ۔ اور شیعان عثمان ہمیشہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے رہے۔ اور اس سے وہ دلیل لیتے رہے کہ آپ خلیفہ راشد نہیں ہیں ۔ ان کی حجت بھی رافضیوں کی حجت سے بڑھ کر نہیں تھی۔ اگر ان لوگوں کی دلیل بودی او ربیکار ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ مظلوم شہید کیے گئے ہیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بطریق اولی مظلوم شہید ہوئے ہیں ۔


صفحہ 2 از 2