فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے…

فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 9

’’ اسے نیک گھروالوں میں سے ایک نیک انسان نے قتل کیا ہے ۔‘‘[اس کا ذکر ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ الاستعیاب ‘‘میں کیا ہے؛ علی ہامش الاصابۃ۳؍۲۰۲ ۔ابن عمر سے روایت ہے:جس رات اسود عنسی قتل ہوا ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمانوں سے خبر پہنچ گئی۔آپ ہمیں بشارت سنانے کے لیے باہرنکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’آج رات اسود قتل ہوگیا اور اسے ایک مبارک گھرانے کے مبارک انسان نے قتل کیا ہے ۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یارسول اللہ! اسے کس نے قتل کیا ؟آپ نے فرمایا: فیروز الدیلمی نے ۔‘‘]

٭ اسود عنسی نے علیحدہ سے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا؛ اس نے صرف شراکت داری پر اکتفاء نہیں کیا تھا۔اور یمن پر غلبہ پاکر وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کونکال دیا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کیا ‘اور مسلمانوں کوکئی معرکوں کے بعد اس پر فتح عطا فرمائی ۔ یہ واقعات اہل علم کے ہاں مشہور و معروف ہیں ۔

جب کہ مسیلمہ کذاب نے نبوت میں شراکت کادعوی کیا تھا۔اوریہ انسان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام تک زندہ رہا۔ صحیح بخاری میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو مجھے فکر ہوئی اور خواب میں وحی آئی کہ آپ ان کو پھونک دیجئے، میں نے ان کو پھونک دیا تو وہ اڑگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے لی جو میرے بعد ظاہر ہوں گے پس ان میں سے ایک صنعاء [کا اسود عنسی] اور دوسرا یمامہ کا [رہنے والا مسیلمہ کذاب ]تھا۔‘‘ [ بخاری:ح841]

مسیلمہ کے واقعات ؛ اس کا نبوت کا دعوی کرنا‘بنی حنیفہ کا اس کا اتباع کرنا اتنی مشہور خبریں ہیں جو صرف ایسے انسان سے مخفی رہ سکتی ہیں جو علم و معرفت سے انتہائی دور اوربیگانہ ہو۔

مسیلمہ کذاب کی خبریں مسلمان تومسلمان یہود ونصاری تک جانتے ہیں ۔اوراس نے اپنا جوقرآن پیش کیا تھا اس کی کئی سورتیں آج تک لوگوں کویاد ہیں ۔مثال کے طور پر وہ کہتا ہے:

۱....(( یَا ضِفْدَعُ بِنْتُ ضِفْدَ عَیْنِ نَقِیٌّ کَمْ تَنَقِّیْنَ ، لَا الْمَائَ تُکَدِّرِیْنَ وَ لَا الشَّارِبَ تَمْنَعِیْنَ، رَاسُکِ فِی الْمَائِ وَ ذَنْبُکِ فِی الطِّیْنِ۔))

’’اے مینڈکی دو مینڈکوں کی بیٹی ! تم چلاؤ کتنا چلاؤ گی۔نہ ہی تم پانی کوگدلا کرتی ہو اور نہ ہی پینے والے کو روکتی ہو تمہارا سر پانی میں ہے اور دم مٹی میں ہے ۔‘‘

اس کی جھوٹی وحی میں سے یہ بھی تھا:

۲....(( اَلْفِیْلُ مَا الْفِیْلُ وَ مَا اَدْرَاکَ مَا الْفِیْلُ، لَہٗ زَلُوْمٌ طَوِیْلٌ ، اِنَّ ذَالِکَ مِنْ خَلْقِ رَبِّنَا لقلیل۔))

’’ ہاتھی ؛ ہاتھی کیا ہے اور تمہیں کیا پتہ ہاتھی کیا ہے ‘اس کی ایک لمبی سونڈ ہے ۔بیشک یہ ہمارے رب کی تخلیق میں بہت کم ہے۔‘‘

۳....(( إنا أعطیناک الجماہر فصل لربک و ہاجر و لا تطع کل ساحر وکافر۔))

’’بیشک ہم نے آپ کوجماہر عطا کیے ہیں ۔ آپ اپنے رب کی نمازپڑھو اورہجرت کرو؛ کسی بھی جادو گر اورکافر کی بات مت مانو۔‘‘

۴....((والطاحنات طحناً فالعاجنات عجناً فالخابزات خبزاً إھالۃ و سمناً إن الأرض بیننا و بین قریش نصفین ؛ ولکن قریشاً قوم لا یعدلون۔))

’’ اور قسم ہے چکی پیسنے والیوں کی جب وہ چکی پیسیں ؛ اور آٹا گوندھنے والیوں کی جب وہ آٹا گوندھیں ۔او رروٹیاں پکانے والوں کی جب وہ روٹیاں پکائیں ؛ اورپراس پر گھی اور سالن ڈالیں ۔بیشک زمین ہمارے اور قریش کے مابین آدھی آدھی ہے ؛ مگر قریش کے لوگ انصاف نہیں کرتے۔‘‘

مسیلمہ نے جو قرآن مرتب کیا تھا، وہ حد درجہ مضحکہ انگیز اور اس کی حماقت وسفاہت کا آئینہ دار تھا۔جب مسیلمہ کے قتل کے بعد بنو حنیفہ کا وفد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا توآپ نے ان سے مسیلمہ کا کچھ کلام سنانے کو کہا۔جس پر انہوں نے یہ کلام سنایا توآپ نے فرمایا:

’’تمہارے لیے ہلاکت ہو ! مسیلمہ تمہاری عقلوں کو کہاں لیے جا رہا ہے، یہ کلام اللہ کا نازل کردہ نہیں ۔‘‘

اس مسیلمہ کذاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی زندگی میں یہ خط بھی لکھا تھا:

’’ مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف ؛ اما بعد !

’’ بیشک میں اس امر [نبوت و رسالت ] میں آپ کا شریک ہوچکا ہوں ۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ خط تحریر فرمایا :

’’ محمد رسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی جانب ۔‘‘

جب مسیلمہ کذاب کا نمائندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: کیا تم بھی یہ گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ۔

تو آپ نے فرمایا: اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا۔‘‘

پھر ان دوسفیروں میں سے ایک کوفہ میں ملا ‘ جسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی بنیاد پر قتل کروادیا۔[اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں : سیرت نبوی از ابن کثیر۴؍۹۷۔ سیرت ابن ہشام ۴؍۲۴۷۔ إمتاع الأسماع ۵۰۸۔ زاد المعاد ۳؍۶۱۰۔]

صفحہ 2 از 9