فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے…

فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 9

مسیلمہ کذاب اس سے پہلے بنو حنیفہ کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام کا اظہار کر چکا تھا۔ پھر جب واپس اپنے علاقہ میں چلا گیا تو اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگا: ’’مجھے محمد نے اپنے ساتھ نبوت میں شریک کرلیا ہے ۔‘‘ اور اس پر دو آدمی گواہ بھی پیش کیے ۔ ان میں سے ایک رحال بن عنفوۃ تھا۔اس نے اس بات کی گواہی دی۔ یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین آدمیوں سے جن میں ایک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دوسرا یہی رحال بن عنفوۃ تھا ؛ فرمایا تھا: ’’ تم میں سے ایک آدمی داڑھیں جہنم میں فلاں اور فلاں سے بڑی ہیں ۔‘‘[علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سیرت نبویہ ۴؍۹۷ پر لکھا ہے: ’’ امام سہیلی اور دوسرے سیرت نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ : اس رحال بنوعنفوہ کا اصل نام نہار تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا ‘اور کچھ قرآن بھی سیکھا؛ اور ایک مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر گزر ہوا تو یہ تین افراد بیٹھے ہوئے تھے: فرات بن حیان ‘ ابوہریرہ اور رحال بن عنفوہ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم میں سے ایک آدمی داڑھیں جہنم میں فلاں اور فلاں سے بڑی ہیں ۔‘‘ پس یہ دونوں مخلص صحابی ڈرنے لگ گئے ۔ یہاں تک کہ رحال بھی مسیلمہ کذاب کے ساتھ مرتد ہوگیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹی گواہی دی کہ آپ نے مسیلمہ کو اپنے ساتھ نبوت میں شریک کرلیا ہے۔اور جو کچھ قرآن اسے یاد تھا اسے لوگوں میں سنا کر مسیلمہ کی طرف منسوب کرنے لگا۔اس طرح بنی حنیفہ میں بہت بڑا فتنہ پیدا ہوا۔ جنگ یمامہ کے موقع پر زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا ۔]

ان میں سے ایک کو اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہوگئی۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی طرح لرزاں و ترساں رہے یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کیا تو اس رحال نے اس کے نبی ہونے کی گواہی دی اوراس کی اتباع اختیار کرلی۔اب اس میں کوئی شک باقی نہ رہا ہے فرمان نبوت سے مراد یہی رحال بن عنفوہ تھا۔

مسیلمہ کا مؤذن جب اذان دیتا توکہتا :

’’ أشہد أن محمدًا و مسیلمہ رسولا اللّٰہ۔‘‘

’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اور مسیلمہ دونوں اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘

بنو حنیفہ کا ارتداد اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :

امت کے اولین و آخرین کے نزدیک بنو حنیفہ کا قتل اور ان کا قیدی بنانا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا عظیم کارنامہ ہے۔اس لیے کہ لوگوں میں سب سے بڑے مرتد بنی حنیفہ تھے۔ آپ نے عدم ادائیگی زکوٰۃ کی بنا پر ان کو قتل نہیں کیا تھا، بلکہ اس لیے قتل کیا تھا کہ وہ مسیلمہ کذاب پر ایمان لائے تھے۔ ان کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن حنفیہ کی ماں بنو حنیفہ ہی میں سے آپ کی باندی تھی۔اس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جوکہ مرتد خواتین کوقیدی بنانے کو جائز کہتے ہیں ؛ جب کہ مرتدین اہل حرب میں سے ہوں ۔اگریہ لوگ مسلمان اور معصوم الدم تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے کیسے یہ جائز ہوگیا کہ ان کی عورتوں کو قیدی بھی بنائیں اور پھر ان سے ہم بستری بھی کریں ۔

جن قبائل کے خلاف حضرت صدیق عدم ادائیگی زکوٰۃ کی بنا پر نبرد آزما ہوئے تھے وہ بنو حنیفہ کے علاوہ دیگر قبائل تھے۔ انھوں نے بالکل ترک زکوٰۃ کو مباح قرار دیا تھا؛ اور کلیۃً زکواۃ کی ادائیگی کاانکار کردیا تھا؛ اس لیے ان کے خلاف اس بات پر جنگ آزمائی کی نوبت آئی۔جنگ کی وجہ یہ نہیں تھی کہ زکواۃ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچائی جائے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اتباع کارجیسے حضرت امام ابوحنیفہ و احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ کا خیال ہے  کہ جب کوئی قوم یہ کہے کہ ہم زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں ، مگر ہم فلاں امام کو نہیں دیں گے، تو ان کے خلاف صف آرائی جائز نہیں ۔اور یہ بھی علم میں ہونا چاہیے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جنگ کرنے کی وجہ زکواۃ کی ادائیگی کا بالکل انکار تھا۔یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کوزکواۃ ادا نہیں کررہے۔

بلکہ اگریہ شیعہ مصنف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کرنے والوں کو یہود ومجوس اور نصاری کے برابر کرتا؛ تو یہ بھی ایسا ہی ہوتا جیسے وہ بنو حنیفہ کو شمار کررہا ہے۔بلکہ بنو حنیفہ بعض وجوہات کی بنا پر یہود و نصاری اور مجوس سے بڑے کافر تھے۔اس لیے کہ وہ پیدائشی کافر ہیں اور یہ مرتدکافر تھے۔پیدائشی کافر کو جزیہ پر برقرار رکھا جاسکتا ہے؛جب کہ انہیں جزیہ پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔اور ان لوگوں کے پاس کتاب یا شبہ کتاب موجود ہے ‘ اور ان کے پاس کوئی کتاب نہیں ۔یہ لوگ ایک جھوٹے مفتری کے پیروکار تھے؛ لیکن ان کا مؤذن یہ نداء لگایا کرتا تھا:

’’ أشہد أن محمدًا و مسیلمہ رسولا اللّٰہ۔‘‘

’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اور مسیلمہ دونوں اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘

اس طرح یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسیلمہ کذاب کو برابر کردیتے تھے۔

مسیلمہ کذاب کا معاملہ تمام ان کتابوں میں مشہور و معروف ہے جن میں ایسے واقعات ذکر کیے جاتے ہیں ؛ مثلاً کتب تفسیر؛ حدیث؛ مغازی؛ فتوح؛ فقہ اور اصول اور علم کلام وغیرہ۔حتی کہ تاریخ اسلام میں یہ واقعہ اس قدر مشہور ہے کہ پردہ نشینان حرم بھی اس سے آگاہ ہیں ۔[ پھر شیعہ مصنف کی اس واقعہ سے بے خبری بڑی حیرت کی موجب ہے]۔تاریخی واقعات جمع کرنے والوں نے اس مسئلہ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں :سیف بن عمر رضی اللہ عنہ کی کتاب الرِدّۃ اور الواقدی کی کتاب الردۃ؛ اوردوسرے مصنفین کی کتابیں جن سے سب لوگ واقف ہیں ،جن میں اہل ارتداد کے ساتھ جنگوں اور ان واقعات کا ذکر ہے۔ ایسے واقعات مغازی رسول اور فتوح شا م جیسی کتابوں میں بھی موجود ہیں ۔[ مگر شیعہ ان کتب سے بھی نابلد ہے، ورنہ بنو حنیفہ کے ارتداد سے جاہل نہ رہتا]۔

صفحہ 3 از 9