فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے…

فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 9

ان میں سے بعض واقعات ایسے ہیں جو کہ خواص و عوام کے ہاں تواتر کے ساتھ مشہور ہیں ؛ اور بعض واقعات ثقہ راویوں نے نقل کیے ہیں ۔ او ربعض ایسی مراسیل اور منقطع اخبار ہیں جن کے سچ یا جھوٹ ہونے کا احتمال ہے؛ اوربعض روایات کے متعلق صاف واضح طورپر معلوم ہے کہ یہ جھوٹے اور من گھڑت واقعات ہیں ۔

لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مسیلمہ کذاب سے قتال اور جنگیں ایسے مشہور ہیں جیسے ہرقل ‘ قیصر اور کسری اور دیگر ان اقوام کے ساتھ جنگوں کے واقعات مشہور ہیں جن سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عمر فاروق یاحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے جنگیں کیں ۔ اورجیسے ان مشرکین و یہود لوگوں کے کفر کا تواتر کیساتھ مشہور ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں لڑیں مثلاً : عتبہ؛ ابی بن خلف ؛ حیی بن اخطب وغیرہ ۔اور جیسے عبداللہ بن ابی ابن سلول اور دیگر کے نفاق کا تواتر کے ساتھ مشہورہے۔ 

بلکہ مسیلمہ کے ارتدار اور حضرت صدیق اکبر کے اس کے ساتھ قتال کا تواتر لوگوں میں جمل اورصفین ؛ اور طلحہ و زبیر کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال ؛اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہ جانے کے تواتر سے بڑھ کر مشہور ہے۔

صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسیلمہ کذاب نے آ کر عرض کیا کہ:’’ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے خلافت عطا کر دیں تو میں ان کا تابع ہو جاتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے بہت لوگوں کو اپنے ساتھ لایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کذاب کے پاس معہ اصحاب جا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا :

’’اگر تو مجھ سے بقدر اس لکڑی کے ٹکڑے کے طلب کرے تو میں تجھ کو نہ دوں گا اور خدا تعالیٰ کا جو حکم تیرے بارے میں ہو چکا ہے تو اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اور اگر تو کچھ روز زندہ رہا تو خدا تجھ کو ہلاک کر دے اور یقیناً میں تجھ کو وہی شخص سمجھتا ہوں جس کی نسبت میں نے خواب میں دیکھا ہے۔اور یہ ثابت رضی اللہ عنہ ہے جو تمہیں میری طرف سے جواب دے گا۔‘‘

پھر آپ وہاں سے پلٹ گئے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان :’’ اور یقیناً میں تجھ کو وہی شخص سمجھتا ہوں جس کی نسبت میں نے خواب میں دیکھا ہے‘‘کے بارے میں پوچھا؛تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ:

’’ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو مجھے فکر ہوئی اور خواب میں وحی آئی کہ آپ ان کو پھونک دیجئے، میں نے ان کو پھونک دیا تو وہ اڑگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے لی جو میرے بعد ظاہر ہوں گے پس ان میں سے ایک عنسی اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ کذاب تھا۔‘‘[صحیح بخاری:ح 841]

[حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہل ارتداد کا قتل]:

[اشکال]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ: ’’ عمر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف جنگ آزما ہونے پر اعتراض کیا تھا۔‘‘

[جواب]: یہ بہت بڑا جھوٹ اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ پرصریح بہتان ہے۔بلکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا [مرتدین ] مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ پر اتفاق تھا۔لیکن ایک دوسرا گروہ تھا جواسلام کا اقرار کرتے تھے ؛ مگر زکواۃ ادا کرنے کا انکار کرتے تھے ‘ ان کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلاشبہ توقف کیا تھا۔اس لیے کہ شروع میں آپ کے دل میں شبہ تھا مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے تبادلہ افکار کرنے پر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کے واجب ہونے کوواضح کیا؛ تو بعد آپ نے اپنے زاویۂ نگاہ سے رجوع کر لیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ متفق ہو گئے تھے۔یہ قصہ بڑا مشہور ہے۔

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت آپ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا:

((کیف تقاتل الناس وقد قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :’’ أمرت أن أقاتل الناس حتی یقولوا لا إلہ إلا اللہ؛ فإذا قالوا عصموا منی دمائہم و أموالہم إلا بحقہا وحسابہم علی اللّٰہ۔)) قال أبوبکر رضی اللہ عنہ : ألم یقل بحقہا؟ فإن الزکواۃمن حقہا۔ واللّٰہ لو منعونی عناقا کانوا یؤدونہا إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لقاتلتہم علی منعہا ))۔ قال عمر رضی اللّٰہ عنہ فواللہ ما ہو إلا أن رأیت اللّٰہ قد شرح اللّٰہ صدر أبی بکر رضی اللّٰہ عنہ : فعرفت أنہ الحق))[متفق علیہ]

’’ آپ ان لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ لاإ ِلہ إِلا اللہ کہیں ؛ جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں تو مجھ سے اپنا جان ومال بچالیں گے مگر اس کے حق کے عوض اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ’’ مگر اس کلمہ کے حق کے ساتھ ۔‘‘بیشک زکواۃ بھی اس کلمہ کا حق ہے۔و اللہ اگر انہوں نے ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیتے تھے تو اس کے نہ دینے پر میں ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم ! اللہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے استدلال کیا جو آپ تک پہنچی تھی یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔توحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ واضح کردیا ’’کلمہ طیبہ کا حق‘‘ زکواۃکو بھی شامل ہے ‘کیونکہ یہ مالی حق ہے ۔‘‘

صحیحین میں حضرت ابن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 4 از 9