فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے…

فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 9

((أ مِرت أن أقاتِل الناس حتی یقولوا: ألا ِإلہ ِإلا اللّٰہ وأنِی رسول اللّٰہِ، ویقِیموا الصلاۃ ویؤتوا الزکاۃ، فإِذا فعلوا ذلکِ عصموا مِنِی دِمائہم وأموالہم ِإلا بِحقِہا ))

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں یہاں تک کہ وہ کہہ دیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ‘اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں ۔اور نمازقائم کریں اور زکواۃ ادا کریں ۔جب وہ ایسا کریں تومجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کرلیں گے مگر اسلام کے حق کے ساتھ ۔‘‘ [متفق علیہ]۔

یہ دوسرا لفظ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی فقہ پر دلالت کرتا ہے۔جوکہ مانعین زکواۃ سے قتل کے بارے میں صریح اور قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ َو احْصُرُوْہُمْ وَ اقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ﴾ [التوبۃ۵]

’’تم قتل کرو ان مشرکوں کو جہاں بھی انہیں پا انہیں پکڑو، ان کا گھیرا کرو، اور ان (کی خبر لینے)کے لیے بیٹھ جا ہر گھات میں ، پھر بھی اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور(اسلام لاکر)نماز قائم کریں ، اور زکو ادا کریں ، تو تم خالی کردو ان کاراستہ۔‘‘

یہاں راستہ خالی کرنے کو ایمان ؛ قیام نماز اور ادائیگی زکواۃ کے ساتھ معلق کردیا گیا ہے۔

ان لوگوں کے بارے میں کئی واقعات مشہور ہیں ۔ان میں سے بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے زکواۃ وصول کر لی تھی؛ مگر جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے لوگوں کووصول کردہ زکواۃ واپس کردی۔اور بعض لوگ حالات کے منتظر تھے۔پھر ان میں سے جن لوگوں کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی تو پھرسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے عاملین زکواۃ ویسے ہی زکواۃوصول اور خرچ کرنے لگ گئے جیسے آپ کے عہد میں کیا کرتے تھے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عاملین زکواۃ کے نام ایک خط لکھا تھا؛ جس میں انہوں نے لکھا تھا:

’’بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

زکواۃ وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کیا ہے اور اس کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ۔‘‘

یہ خط او راس جیسی دوسری دستاویز سے تمام علماء اسلام مسائل اخذ کرتے ہیں ۔آپ نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی نہیں لیا ۔ اور نہ ہی اپنے کسی قریبی کو کوئی عہدہ تفویض کیا؛ اورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی کوئی بات کی؛ بخلاف حضرت عثمان وعلی رضی اللہ عنہما ؛ ان دونوں حضرات نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بڑے بڑے منصب تفویض کیے تھے۔

اگر یہ جائز ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر اعتراض کیا جائے کہ انہوں نے مال لینے کے لیے ان سے قتال کیا تھا تو پھر کسی بھی دوسرے پر اس کی بہ نسبت بہت آسانی سے اعتراضات کیے جاسکتے ہیں ۔اور اگر حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کا دفاع واجب ہے تو پھر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا دفاع اس سے بھی بڑا واجب ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس لیے جنگ و قتال کیا کہ لوگ آپ کی اطاعت کریں ‘ اور آپ ان کے جانوں اور اموال کے بارے میں فیصلے کرسکیں ۔پھر اس قتال کو کیسے دین پر قتال کہا جاسکتا ہے ؟ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تو ان لوگوں سے جنگیں لڑی تھیں جو اسلام چھوڑ کر مرتد ہوچکے تھے ؛ اور اللہ تعالیٰ کا ایک فریضہ ترک کررہے تھے ۔ آپ کی جنگ کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے لگ جائیں ۔ تو پھر کیا یہ دین پر قتال نہیں ہوسکتا؟

شیعہ مصنف نے جن اکابر صحابہ کا نام لیکر بتایا ہے کہ انھوں نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت میں شرکت نہیں کی تھی؛ یہ ان لوگوں پر بہتان ہے؛ ان لوگوں کا بیعت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما میں شرکت کرنا اظہر من الشمس ہے، البتہ سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی۔اس پر تمام سیرت نگاروں ؛ مؤرخین ؛ محدثین اوردیگراہل علم کے سلف و خلف کا اتفاق ہے۔

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ لشکر کے ساتھ اس وقت روانہ ہوئے تھے جب آپ نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی۔ اسی لیے آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یاخلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر مخاطب کررہے تھے۔

باقی جن لوگوں کا ذکر رافضی مصنف نے کیا ہے ؛ انہوں نے بیعت کرلی تھی سوائے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے ۔آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب تھے۔ جب آپ نے وفات پائی تو خالد رضی اللہ عنہ نے کہا :’’میں اور کسی کا نائب نہیں بننا چاہتا۔‘‘یہ کہہ کر آپ نے ولایت چھوڑ دی ؛ ورنہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اقرار کرتے تھے۔ یہ بات تواتر کے ساتھ معلوم ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے سوا سب صحابہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔

جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر بنو ہاشم کا تعلق ہے، ان میں سے کوئی بھی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کیے بغیر فوت نہیں ہوا تھا۔ البتہ ایک قول کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ بعد آپ کی بیعت کی تھی۔جبکہ دوسرے قول کے مطابق انھوں نے آپ کے انتخاب کے دوسرے دن بخوشی بغیر کسی سختی کے آپ کی بیعت کر لی تھی۔

پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا سب صحابہ نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی بیعت میں شرکت کی تھی۔بنو ہاشم یا کوئی دوسرا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا۔ جب کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت پر تمام لوگوں کا اتفاق ہوگیا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ خلافت فاروقی میں فوت ہوئے تھے۔اس لیے بیعت عثمانی کے دور کو نہیں پاسکے۔اس کا سبب معروف ہے۔ آپ چاہتے تھے کہ ایک امیر انصار میں سے ہو‘ [ اوروہ امیر منتخب ہوجائیں ] اور ایک امیرمہاجرین میں سے ہو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا مطالبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نص اور اجماع امت کی روشنی میں صحیح نہیں تھا۔

صفحہ 5 از 9