فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے…

فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات سے حقیقت کو پا گئیں ؛اوراس مسئلہ میں گفتگوکرناچھوڑ دی۔اور تاوفات پھر دوبارہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ میں گفتگو نہ کی، آپ کی وفات کے بعد وہ چھ ماہ بقید حیات رہیں ۔ جب فوت ہو گئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو راتوں رات دفن کردیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ دی؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خودہی ان کا جنازہ پڑھایا۔

جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بقید حیات تھیں تو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا احترام کرتے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد وہ بات نہ رہی۔آخر کار آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مصالحت و مبایعت کی سلسلہ جنبانی شروع کی۔ ہنوز آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجا کہ آپ تنہا میرے گھر آئیں ۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے ہم راہ نہ ہوں ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ آپ کا تنہا جانا مناسب نہیں ۔‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرینگے اللہ کی قسم! میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں ضرور جاؤں گا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھ کر کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کی اللہداد صلاحیتوں سے آگاہ ہیں اور آپ کی امامت و خلافت پر شک نہیں کرتے۔ مگر آپ نے ہم پر زیادتی کی، ہم قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا پر اپنے آپ کو خلافت کا حق دار قرار دیتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مصروف گفتگو رہے۔ یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھے اپنے رشتہ داروں کی نسبت زیادہ پاس ہے ۔ جہاں تک ہمارے مابین مالی تنازعات کا تعلق ہے میں نے ان میں حق سے انحراف نہیں کیا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ضمن میں جو کچھ کرتے دیکھا وہی کیا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں آج بعد دوپہر آپ کی بیعت کروں گا۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھ کر منبر پر کھڑے ہوئے۔ مسنون خطبہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت و فضیلت اور بیعت نہ کرنے کی وجہ بیان کی۔اور جو عذر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیے تھے وہ لوگوں کے سامنے پیش کیے ‘حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کی ‘اور ان کے لیے عظمت و فضیلت کی گواہی دی۔

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ مسنونہ کے بعد تقریر کرتے ہوئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ رشک کی وجہ سے میں نے بیعت میں تاخیر نہیں کی تھی۔ نہ میں آپ کے خدادادفضائل کا منکر ہوں ۔ بات یہ تھی کہ میں اپنے کو خلافت کا اہل خیال کرتا تھا ؛جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلافت پر فائز ہو گئے تو ہم سمجھے کہ آپ نے ہمارا حق ماراہے؛ یہ بات ہمارے دلوں میں تھی ؛ اس لیے ہم آپ سے ناراض ہوگئے ۔ مسلمان یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور انھوں نے کہا:’’ آپ نے ٹھیک کیا‘‘ جب آپ نے امر بالمعروف کی طرف رجوع کرلیا تو اس بات سے مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قریب تر ہوتے چلے گئے۔[صحیح بخاری ، کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر(حدیث:۴۲۴۰، ۴۲۴۱)، صحیح مسلم، کتاب الجہاد۔ باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم’’ لا نورث ما ترکنا ....‘‘ (حدیث: ۱۷۵۹)۔]

ایک یا دو اشخاص کی مخالفت انعقاد خلافت کے لیے مضر نہیں :

اس میں شبہ نہیں کہ امامت کے لیے جو اجماع معتبر ہے اس میں ایک یا دو آدمیوں کایا کسی چھوٹے گروہ کا تخلف ضرر رساں نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو کسی خلیفہ کی امامت و خلافت کبھی منعقد نہ ہوتی ۔امامت ایک امر معین ہے۔ کبھی ایسا بھی ہو سکتاہے کہ کوئی انسان ایسی کسی خواہش کی وجہ سے بھی پیچھے رہ سکتا ہے جس کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہ ہو۔جیسا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بیعت نہ کی تھی۔اس لیے کہ آپ کی خواہش یہ تھی کہ انصار کے امیر آپ ہوں ۔مگر ایسا نہ ہوسکا؛ تو یہ بات آپ کے دل میں رہ گئی۔پس جو انسان خواہش نفس کی وجہ سے کوئی چیز چھوڑ دے ؛ تو اس کا یہ فعل کوئی مؤثر نہیں ہوتا۔[بخلاف عام شرعی احکام پر اجماع عام کے؛ جیسے : واجب ‘ حلال و حرام اورمباح وغیرہ کے بارے میں جو اجماع منعقد ہوتا ہے، اس میں اختلاف ہے کہ آیا ایک یا دو اشخاص کی مخالفت معتبر ہے یا نہیں ؟ اس ضمن میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دو قول منقول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ ایک یا دو آدمیوں کی مخالفت معتبر نہیں ہے، محمد بن جریر طبری وغیرہ کا قول بھی یہی ہے ۔ امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ احکام میں ایک یا دو شخصوں کی مخالفت معتبر ہے۔اکثر علماء اسی قول پر ہیں ۔

عام شرعی احکام اور امامت کے مابین فرق یہ ہے کہ : شرعی حکم عام ہوتا ہے جو کہ سب کو شامل ہوتا ہے۔ اور شرعی حکم میں کسی چیز کو واجب کہنے والا اسے اپنی ذات پر بھی واجب کرتا ہے او ردوسروں پر بھی۔اور کسی چیز کو حرام کہنے والا بھی اس چیز کو اپنی ذات پر بھی اور دوسرے لوگوں پر بھی حرام کرتا ہے۔اس میں تنازع کرنے والے پر کوئی تہمت نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کسی واقعہ میں فریق مقابل کے خلاف بطور حجت اگر ایک انسان بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کررہا ہوتو اسے قبول کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ حدیث عام ہوتی ہے ‘ جو اس روایت کرنے والے اور دوسرے تمام لوگوں کو شامل ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث کی بنا پر اگر آج کسی کے حق میں فیصلہ ہورہا ہے تو کل اسی کی بنا پر اس کے خلاف بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔بخلاف اس کے کوئی اپنی ذات کے متعلق گواہی دے۔یہ گواہی قبول نہیں کی جاسکتی ۔ اس لیے کہ یہی فریق مخالف ہے۔اور فریق مخالف کی گواہی اس کے حق میں قبول نہیں ہوتی۔

صفحہ 7 از 9