فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے…

فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

پس جب کوئی ایک شخص معلوم شدہ نص کی مخالفت کرے گا تو اس کے قول کو شاذ قرار دیا جائے گا، مثلاً سعید بن مسَیّب رحمہ اللہ کا یہ قول کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں ، جب وہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے تو صرف نکاح کرنے ہی سے وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔‘‘

یہاں پر اس قول کی کوئی اہمیت نہیں ؛ اس لیے کہ صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد نصوص اس کے خلاف وارد ہوئی ہیں ۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی خواہش یہ تھی کہ انصار میں سے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری ایسی نصوص منقول ہیں جن کی روسے امامت قریش میں تسلیم کی گئی ہے۔اگر اس موقع پر مخالف بھی قریشی ہوتا اور فیصلہ اس کے خلاف ہوجاتاتو پھر ایک شبہ سا باقی رہتا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ قریش میں سے تھے ؛ اور یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے بخوشی و رضامندی سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی۔

دوسری وجہ:....جس قدر لوگوں کا اختلاف رافضی مصنف نے ذکر کیا ہے ‘ اگر اس سے تین گنا زیادہ لوگوں کا اختلاف بھی اگر فرض کرلیا جائے تو بھی اس سے خلافت کے ثبوت میں قدح وارد نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ خلافت کے مسئلہ میں اہل شوکت اوران جمہور کا اتفاق شرط ہے جن کی وجہ سے خلافت کا انعقاد ممکن ہوسکتا ہو[انعقاد خلافت کے لیے صرف ارباب حل و عقد اور جمہور کا اتفاق شرط ہے]؛ تاکہ امامت کے مقاصد پورے ہوسکیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جماعت

[معجم کبیر طبرانی(۱۲؍۴۴۷)، الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ(ح:۲۱۶۶)، لیکن اس میں ’’جماعت سے وابستہ رہیے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں ، وہ دوسری روایت (ح:۲۱۶۵) میں ہیں ۔امام ترمذی فرماتے ہیں :’’ یہ حدیث غریب ہے۔ ابن عباس سے ہم تک یہ روایت صرف اس ایک سند سے پہنچی ہے۔ اسے البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے (صحیح الجامع الصغیر ۶؍۳۳۶)۔ سنن نسائی میں کتاب تحریم الدم ‘ باب : قتل من فارق الجماعۃمیں ہے :’’ حضرت عرفجہ بن شریح الاشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’ میرے بعد بعض برے امور ہوں گے۔ پس جس کو دیکھو کہ وہ جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے؛ یا امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے قتل کردو ؛ خواہ وہ کوئی بھی ہو۔بیشک اللہ تعالیٰ کاہاتھ جماعت پر ہوتا ہے ؛ اور شیطان جماعت سے علیحدہ ہوکر چھلانگیں لگانے والے کے ساتھ ہوتا ہے ۔‘‘ [سنن الترمذی۳؍۳۱۵۔]]

سے وابستہ رہیے، اس لیے کہ جماعت پر اللہ کا فضل و احسان ہوتا ہے۔‘‘

نیز ایک روایت میں ہے: ’’ شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے ؛اور دو سے وہ بہت دو ررہنے والا ہوتا ہے ۔‘‘[یہ ایک طویل حدیث کا مختصر حصہ ہے۔اس میں ہے :’’ لوگو!تم پر جماعت کے ساتھ چلنا واجب ہے۔بلاشبہ شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے بہت دور ہوتا ہے۔تم میں سے جو کوئی جنت کی خوشبو پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ جماعت کا ساتھ دے۔ جسے بھلائی پر خوشی ہو اور برائی نا گوار گزرے تووہ انسان مؤمن ہے۔‘‘ سنن الترمذي ؛ کتاب الفتن ؛ باب لزوم الجماعۃ؛ ۳؍۳۱۵۔ ]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ بیشک شیطان ایسے انسانوں کے لیے بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کے لیے بھیڑیا ہوتا ہے۔ اوربھیڑیا ریوڑ سے بچھڑی ہوئی بکری کو ہی شکار بناتا ہے۔‘‘[یہ حدیث حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ المسند ۵؍۲۳۲۔]

آپ نے فرمایا:’’سواد اعظم کا دامن نہ چھوڑیے، جو جماعت سے الگ ہوا وہ الگ ہو کر جہنم میں جائے گا۔‘‘[مستدرک حاکم (۱؍۱۱۵۔۱۱۶)۔]

تیسری وجہ: ....یہ بھی کہا جائے کہ : یہ امر بھی قابل غور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت پر امت کا جو اجماع ہوا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت پر نہیں ہو سکا تھا۔ ایک تہائی بلکہ اس سے کم و بیش لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت میں شرکت نہیں کی تھی۔بلکہ انہوں نے آپ سے جنگ کی۔[بہت سے اکابر نے علیحدگی اختیار کرلی تھی]۔ اور ایک تہائی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں ساتھ نہیں دیا۔ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ کی بیعت ہی نہیں کی۔اور جن لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی ؛ ان میں سے بھی بہت سارے ایسے لوگ تھے جنہوں میں جنگوں میں آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ اگر امت کے چند افراد کی عدم شرکت سے کسی شخص کی خلافت میں قدح وارد ہوتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت جرح و قدح کی زیادہ مستحق ہو گی۔

اگریہ کہا جائے کہ : جمہور امت نے آپ سے جنگ نہیں کی ۔ یا یہ کہا جائے کہ : اہل شوکت اور جمہور نے آپ کی بیعت کرلی تھی ؛ تو اس صورت میں بھی یہی دلیل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

٭ اگر شیعہ کہیں کہ امامت علی رضی اللہ عنہ نص سے ثابت ہے، لہٰذا اجماع کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ تو ہم کہیں گے کہ:’’ قبل ازیں ذکر کردہ نصوص سے صراحۃً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہم بتا چکے ہیں اور آگے بھی اس کا ذکر آئے گا [کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اجماعاً آپ کی بیعت کی تھی اور آپ کو خلیفۂ رسول کا لقب بخشا تھا]۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور میں خلیفہ نہیں تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے اجماع کی ضرورت ہی نہ تھی؛ بلکہ صحیح اور صریح نصوص کی روشنی میں آپ کی خلافت کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ اور اس کے خلاف کا انتفاء ثابت ہوتا ہے۔

چوتھی وجہ:....ان سے کہا جائے گا کہ : خلافت صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں دو طرح سے گفتگو کی جا سکتی ہے:

 پہلا موضوع کلام یہ ہے کہ فی الواقع حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہو ئے تھے یا نہیں ؟

۲۔ دوسرا یہ کہ آپ خلافت کی صلاحیت و اہلیت سے بہر ہ ور تھے بھی یا نہیں ؟

صفحہ 8 از 9