Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ان میں سے اصحاب بصیرت واہل دانش سے مشورہ طلب کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حروب ارتداد، فتوحات شام، فقہی اور اسلامی معاشرہ میں نوآمدہ مسائل میں یہی اصول اختیار فرمایا اور اپنے قائدین کو بھی اس کا حکم فرمایا کہ وہ آپس میں نصیحت اور رائے ومشورہ کرتے رہیں۔ 

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 143)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس سلسلہ میں قدوہ کی حیثیت رکھتے تھے حروب ارتداد میں سیدنا ابوبکرؓ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا: اے عمرو! تم قریش میں صاحب رائے ہو، طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے اس سلسلہ میں تمہارا کیا خیال ہے اور ان سے مشورہ طلب کیا، پھر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو لشکر کی قیادت کے لیے منتخب فرمایا تو ان سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے متعلق سوال کیا، جس کا جواب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دیتے ہوئے فرمایا: ’’وہ تو جنگی پالیسی کے ماہر، موت کے ساتھی اور فاختہ کے انتظار و تحمل اور شیر کی اچھل کود کے مالک ہیں۔‘‘ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خالد رضی اللہ عنہ کو قیادت سونپ دی۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 129)

اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو اس کا مکلف کر دیا گیا، وہ اس کی تنفیذ کے لیے روانہ ہوئے اور برابر مرتدین سے جنگ کے لیے منصوبہ بندی کرنے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ لیتے رہے اور مرکزی قیادت کو لشکر کی قرار دادوں سے مطلع کرتے رہے۔

( الفتوح: ابن اعثم: جلد 1 صفحہ 29)

جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رومیوں پر حملہ کرنے کا ارادہ فرمایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مشورہ کیا۔ جب سیدنا ابوبکرؓ نے ان کی رائے معلوم کر لی اور ایک رائے پر متفق ہو گئے تو سیدنا ابوبکرؓ نے فوج کو تیاری کا حکم صادر فرمایا

(تاریخ فتوح الشام: 2، الفتوح: ابن اعثم: جلد 1 صفحہ 81)

اور سیدنا ابوبکرؓ نے لشکر شام کے قائدین وامراء کو آپس میں مشورہ کرنے کی نصیحت فرمائی چنانچہ آپؓ نے یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ’’یہ ربیعہ بن عامر ( ربیعہ بن عامر قرشی عامری رضی اللہ عنہ کا ذکر فتوحات میں آیا ہے، یہ صحابی ہیں، ان کا شمار اہل فلسطین میں ہوتا ہے۔)ہیں، شرف و منزلت کے مالک ہیں، ان کی جنگی قوت تم جانتے ہو، میں نے ان کو تمہارے ساتھ لگا دیا ہے اور تمہیں ان کا امیر بنایا ہے۔ ان کو اپنے ساتھ مقدمۃ الجیش میں رکھنا اور ان سے مشورہ کرتے رہنا، ان کی مخالفت نہ کرنا۔‘‘

(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 22)

اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: جب تم فوج کو لے کر راستہ طے کرو تو اپنے اور اپنے ساتھیوں پر تنگی و مشقت نہ ڈالنا، اپنی قوم اور ساتھیوں پر غصہ نہ ہونا، ان سے برابر مشورہ کرتے رہنا اور عدل وانصاف کو قائم رکھنا۔

(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 22)

مزید فرمایا: جب تم مشورہ لو تو خبر سچی بتاؤ، تمہیں سچا مشورہ ملے گا اور مشیروں سے بات مت چھپاؤ ورنہ تمہاری ہی وجہ سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔

(مروج الذہب: جلد 2 صفحہ 309)

یہ اور اس طرح دیگر شورائیت کے اصول و مبادی سے متعلق یزید رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں اور ایسے ہی دیگر لشکر شام کے امراء وقائدین کو بھی نصیحت فرمائی۔

(تاریخ فتوح الشام للازدی: صفحہ 13، 15، 20، 21)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قائدین کو مشورہ کرنے سے متعلق جو نصیحت فرمائی اس کو انہوں نے نافذ کیا چنانچہ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عمرو! وہ دن تمہارے لیے بہتر ہے جس میں مسلمانوں کو تمہاری رائے اور حاضری سے برکت حاصل ہو۔ میں بھی تو تم میں سے ایک فرد ہوں اگرچہ میں تم پر والی مقرر کیا گیا ہوں لیکن میں تم لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا لہٰذا روزانہ تم اپنی رائے سے مجھے مطلع کر دیا کرو۔ میں تم سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔

(تاریخ فتوح الشام للازدی: صفحہ 51، 84)

مزید برآں میدان قتال سے قائدین کا مرکزی قیادت سے مشکل عسکری امور سے متعلق جنگی منصوبہ وضع کرنے اور اس کی تنفیذ اور قیدیوں کے ساتھ تعامل کے لیے مشورہ طلب کرنا شامل تھا۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 272)