فصل :....[حجیت اجماع کی بحث] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’اجماع کسی مسئلہ پر دلالت کرنے میں اصل شرعی کی حیثیت نہیں رکھتا ؛بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اجماع کرنے والے اس حکم پر کسی دلیل کو مستند مانیں تاکہ اس پر ان کا اجماع ہوسکے۔ وگرنہ یہ غلطی ہوگی۔اور یہ دلیل یا توعقلی ہوگی یا پھر نقلی۔ جہاں تک عقلی دلیل کا تعلق ہے کوئی عقلی دلیل امامت پر دلالت نہیں کرتی۔ باقی رہی نقلی دلیل تو اہل سنت کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی امام مقرر کیے بغیر وفات پائی تھی۔اورامامت پر کوئی نص نہیں تھی۔قرآن اس سے خالی ہے۔ بنا بریں اگر اجماع منعقد ہوا بھی ہے تو وہ غلط ہونے کی وجہ سے کسی مسئلہ پر دلالت نہیں کرتا۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں :اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلی بات : شیعہ مصنف کا یہ قول کہ : ’’جماع کسی مسئلہ پر دلالت کرنے میں اصل شرعی کی حیثیت نہیں رکھتا ۔‘‘

جواب:’’ اگر اس قول سے تمہاری مراد یہ ہے کہ ارباب اجماع کے امیر کی اطاعت بذات خود واجب نہیں ہے ، بلکہ اس لیے ضروری ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ و رسول کا حکم معلوم ہوتا ہے تو یہ صحیح ہے۔اس سے ہمارے نظریہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا، اس لیے کہ رسول بھی بذات خود مطاع نہیں ، بلکہ آپ کی اطاعت اس لیے ضروری ہے کہ آپ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے، کیوں کہ اسلام میں مُطاع حقیقی صرف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ﴾(الأعراف:۵۴)’’اوراللہ کے لیے ہی ہے پیدا کرنا اور حکم چلانا ۔‘‘

نیز فرمایا:﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ﴾ (الانعام:۵۷)

’’ بیشک حکم صرف اللہ کے لیے ہے ۔‘‘

اللہ کے علاوہ کسی کا کوئی حکم نہیں چلتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اس لیے واجب ہوتی ہے کہ آپ کی اطاعت حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے۔ اور کسی چیز پر اجماع کرنے والے اہل ایمان کی اطاعت اس لیے واجب ہوتی ہے کہ حقیقت میں ان کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا اس لیے واجب ہے کہ آپ کا حکم حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ ایسے ہی امت کے اجماع کا مسئلہ بھی ہے ۔ ان کا حکم اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔صحیحین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے : آپ نے فرمایا:

’’ جس شخص نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی حکم عدولی کی، اور جس نے میرے امیر کے حکم سے سرتابی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب یقاتل من وراء الامام و یتقی بہ،(حدیث:۲۹۵۷) ، صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ (حدیث: ۱۸۳۵) باختلاف۔]

بہت ساری احادیث اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ امت کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی ۔بلکہ جس چیزکا حکم امت دے ؛ وہ اللہ اوراس کے رسول کا حکم ہوتا ہے۔

امت نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت میں ان کی اطاعت کا حکم دیا ؛ تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول نے یہ حکم دیا تھا۔ پس جس نے آپ کی نافرمانی کی ؛ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والا ہے۔

اگر تمہارا(شیعہ کا) مقصد یہ ہے کہ اجماع کبھی حق کے موافق ہوتا ہے اور کبھی مخالف تو یہ حجیت اجماع پر طعن ہے ۔ جہاں تک اس دعویٰ کا تعلق ہے کہ پوری امت خطا پر جمع ہو سکتی ہے جیسا کہ نظام اور بعض روافض کا خیال ہے؛ تو یہ غلط ہے۔[ ہم امامت صدیق رضی اللہ عنہ کے اثبات میں ایسے دعویٰ کے محتاج نہیں ہیں ۔اور ہمیں شرط لگانے کی بھی ضرورت نہیں ، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ اجماع سے جو حکم ثابت ہوتا ہے، اس پر دلالت کرنے والی نص موجود ہوتی ہے، اجماع سے صرف اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ فلاں مسئلہ کے بارے میں نص موجود ہے۔]

اس صورت میں یہ کہا جائے گا کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا امام اور معصوم ہونا؛ اور اس کے علاوہ جو روافض کے اصول ہیں ؛ امامیہ نے انہیں اجماع سے ثابت کیا ہے۔ اس لیے کہ ان کے قول کے مطابق ان کی مذہب کی بنیاد اجماع اور عقلیات پراور ان کی منقولات پر ہے۔یہی لوگ کہتے ہیں کہ :

’’ عقل سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے لیے امام معصوم اور منصوص علیہ کا ہونا ضروری ہے۔اوربالاجماع حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ نہ ہی کوئی دوسرا معصوم ہے اورنہ ہی منصوص علیہ ہے۔تو پھر معصوم صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی ہوئے؛ [لہٰذاوہی امام ہوں گے ]۔‘‘ ان کے علاوہ بھی اس طرح کے ان کے مقدماتی دلائل ہیں ۔ ‘‘

ان سے کہا جائے گا کہ : ’’ اگر اجماع حجت نہیں تو یہ تمام دلائل باطل ٹھہرے۔ پس ان کے اصول کی بنیاد جس عقیدہ پر کھڑی تھی وہ بھی باطل ٹھہری ۔اوران عقیدہ باطل ٹھہرا اور اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ثابت ہوگیا۔

اگر اجماع حق ہے ؛ تو پھر بھی اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ثابت ہوگیا۔اور روافض کے عقیدہ کا بطلان ثابت ہوگیا بھلے وہ اجماع کو حجت مانیں یا نہ مانیں ۔جب ان کا مذہب باطل ٹھہرا تو اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ثابت ہوگیا ؛ یہی چیز اصل میں مطلوب ہے۔

اگر روافض یہ کہیں کہ: ’’ہم اجماع کا دعوی نہیں کرتے ؛ اور نہ ہی اپنے دین کے اصولوں پر اس سے استدلال کرتے ہیں ۔ بلکہ ہماری بنیاد عقل اور ائمہ معصومین سے وارد نقل پرہے۔‘‘

صفحہ 1 از 6