فصل :....[حجیت اجماع کی بحث] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

تو ان سے کہا جائے گاکہ : ’’ اگر آپ لوگ اجماع سے استدلال نہیں کریں گے تو تمہارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول چند سمعی دلائل کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اس لیے کہ جو چیز روافض حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے ائمہ سے نقل کرتے ہیں وہ اس وقت تک حجت نہیں ہوسکتی جب تک ان ائمہ میں سے کسی ایک کا معصوم ہونا معلوم نہ ہوجائے۔ اور ان میں سے کسی ایک کا معصوم ہونا کسی معصوم کی نقل سے ہی معلوم ہوسکتا ہے۔ اور یہ معصوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے عقیدہ کے مطابق کو ئی نقل ثابت ہی نہیں تو پھر ان کے پاس سرے سے کوئی سمعی دلیل باقی ہی نہیں رہتی؛ نہ ہی اصول دین میں اور نہ ہی فروع میں ۔ تو اس صورت میں معاملہ پھر اس دعوی کی طرف لوٹے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔ اگر تم اس نص کو اجماع سے ثابت کرو گے تو ایسا کرنا[تمہارے نزدیک ]باطل ہے۔اور اگر تم اسے صرف نقل خاص سے ہی ثابت کرو جیسا کہ تمہارے بعض لوگوں کا عقیدہ ہے؛ تو پھر بھی کئی وجوہات کی بنا پر اس کاباطل ہونا ظاہر ہوجاتا ہے ۔ اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جمہور اوراکثر شیعہ جو اس قول کے خلاف نقل کرتے ہیں وہ یقینی طور پر جھوٹ ہے۔

جو کوئی اس مسئلہ پر غور کرے گا تو اس پر واضح ہوجائے گا کہ امامیہ کے پاس جمہور سے ہٹ کر کوئی دلیل ہی نہیں ؛ نہ ہی عقلی دلیل نہ ہی نقلی دلیل۔ اور نہ ہی نص اور اجماع۔ بس ان کی بنیاد ایسی جھوٹی منقولات پر ہے جن کا جھوٹ ہونا ہر ایک کے لیے بالکل واضح ہے۔یا پھر ایسی نص اور قیاس کا دعوی کرتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ ان کے حق میں ایسی نصوص میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ۔

روافض اور دوسرے تمام اہل بدعت اگرچہ حقیقت میں کسی بھی ایسی صحیح عقلی یا نقلی دلیل کی طرف رجوع نہیں کرتے جس سے ان کی حجت ثابت ہوسکے؛ بلکہ ان لوگوں کے کچھ شبہات ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کے دلائل روافض کے عقلی و سمعی دلائل کی نسبت زیادہ قوی ہیں ۔اور صحیح نصوص میں ان کا شبہ روافض کے شبہ سے زیادہ قوی اور مضبوط ہے۔

مزید برآں تمام اہل بدعت روافض سے بڑھ کر حدیث وآثارکے عالم ہوتے ہیں ۔ روافض احادیث و آثار اور احوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے بڑھ کر جاہل ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں میں جو جہالت اور جھوٹ کی بھر مار ہے ؛ وہ دوسرے تمام اہل بدعت گروہوں کی کتابوں میں نہیں ہے۔ایسے ہی دیگر اہل بدعت کے قیاسات کمزور اور فاسد ہونے کے باوجود رافضہ کے قیاسات سے بہت زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔

مزید برآں ہم کئی مقامات پر تفصیلی دلائل کے ساتھ اجماع کے حجت ہونے کی جانب بھی اشارہ کر چکے ہیں ۔ اور ہر مقال کے لیے اس کے مناسب مقام ہوتا ہے۔

ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت کرنے کے لیے کسی اجماع کے محتاج نہیں ‘ اور نہ ہی کسی دوسرے خلیفہ کی خلافت ثابت کرنے کے لیے اجماع کے محتاج ہیں ۔ اور نہ ہی کسی کی امامت کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں ۔ مگر جب رافضی نے تذکرہ کیا ہے کہ اہل سنت والجماعت اجماع پر اعتماد کرتے ہیں تو ہم اس موضوع پر کلام کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں پر ہم بعض ان امور کی طرف اشارہ کریں جو اجماع کے درست ہونے پر دلالت کرتے ہیں ۔

سب سے پہلی بات : ہم کہتے ہیں : کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہے جس پر امت جمع ہوئی ہو ‘ مگر اس پر نص ضرور موجود ہوتی ہے۔ پس یہ اجماع ائمہ کے ہاں معلوم شدہ نص کے موجود ہونے پر دلیل ہوتی ہے۔ ان چیزوں میں سے نہیں ہوتا جن کا علم ختم ہوچکا ہو۔

اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ اجتہاد کی اساس پر اجماع منعقد کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ ہم اس بات کو جائز کہتے ہیں کہ اجماع کرنے والے بعض لوگ اپنے اجتہاد سے کوئی بات کہیں ۔ لیکن یہ نص اجماع کرنے والے مجتہدین پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اجماع کا علم ہو‘ مگر اس بات کا علم بھی ساتھ ہی ہوتا ہے کہ اس بارے میں نص بھی موجود ہے۔سو اس صورت میں اجماع نص کے وجود پر دلیل ہوتا ہے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی﴾ (النساء:۱۱۵)

’’جو شخص بھی ظہور ہدایت کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا، اور مومنین کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ پر چلے گا تو جدھر کو وہ مڑے گا ہم اس کو اسی طرف موڑ دیں گے۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے وعید کو رسول کی نافرمانی اور غیر سبیل المؤمنین کی اتباع کے ساتھ معلق کیا ہے۔حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہی وعید کو واجب کردیتی ہے۔ لیکن یہ دونوں چیزیں متلازم ہیں ۔ اسی لیے وعید کوان دونوں باتوں کے ساتھ معلق کیا گیا ہے ۔جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کو ایک دوسرے کے ساتھ معلق کیا جاتا ہے ؛ اس لیے کہ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو متلازم ہیں ۔

خلافت صدیقی بھی اسی قبیل سے ہے؟ اس کے بارے میں بہت ساری نصوص موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی امامت و خلافت مبنی برحق و صواب تھی۔ اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ۔ اختلاف کا مبنیٰ یہ ہے کہ آیا خلافت کا انعقاد نص خاص کی بنا پر ہوا ہے-جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت- یا اجماع و اختیار کی اساس پر؟

جب کہ دلالۃ النص کی روشنی میں آپ کی خلافت حق اور صواب ہے۔ علماء اہل سنت میں سے کسی ایک نے بھی اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ ہر ایک آپ کی خلافت کی صحت پر نصوص سے استدلال کرتا ہے۔ جب ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ جس چیز پر اجماع منعقد ہو وہ منصوص علیہ ہوتی ہے ۔تو یہی اجماع کا ذکر ہے ۔ اس لیے کہ اجماع نص پر دلیل ہے۔ جو اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوسکتا۔ [ہمارا زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ نص و اجماع باہم لازم ملزوم ہے]۔

ہم یہاں پر کچھ دلائل ذکرکریں گے جن سے مطلق طور پر اجماع پر استدلال کیا جاسکتا ہے ۔ اوران سے وہ لوگ بھی استدلال کرتے ہیں جو کہتے ہیں :’’بسا اوقات اجماع کے ساتھ نص نہیں ہوتی ۔‘‘ اسکی دلیل یہ آیت ہے:

صفحہ 2 از 6