فصل :....[حجیت اجماع کی بحث] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ﴾(آل عمران:۱۱۰)

’’تم بہترین جماعت ہو، جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو۔‘‘

اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ وہ ہر معروف بات کا حکم دیتے ہوں ‘ اور ہر منکر بات سے منع کرتے ہوں ۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ:’’ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب کردہ کو واجب سمجھنا اور حرام کردہ کو حرام سمجھنا ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ امت پر واجب ہے کہ ہر اس حکم کو واجب سمجھیں جیسے اللہ اور اس کے رسول نے واجب ٹھہرایا ہو۔اورہر اس چیز کو حرام سمجھیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہو۔اس صورت میں یہ بات ممتنع ہوجاتی ہے کہ وہ کسی حرام کو واجب قرار دیں یا پھر کسی واجب کو حرام ٹھہرائیں ۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ حق بات بیان کریں اور خاموش نہ رہیں ۔ پھر حق کے بیان سے خاموش رہنا اور اس کی نقیض باطل کی تائید میں بولنا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تویہ لوگ برائی کا حکم دینے والے اور نیکی سے منع کرنے والے ہوتے جو کہ نص صریح کے خلاف ہے۔

نظر برایں اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت حرام و منکر ہوتی تو اس سے لوگوں کو باز رکھنا امت پر واجب اور اس سے خاموش رہنا ناروا ہوتا اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت واجب ہوتی تو یہ ایک بڑی نیکی تھی، جس کا حکم دینا نہایت ضروری تھا۔جب ایسا ہوا نہیں تو معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت نہ ہی معروف تھی؛ نہ ہی واجب اورنہ ہی مستحب۔اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں کوئی برائی نہیں تھی۔یہی چیز ثابت کرنا یہاں پر مطلوب و مقصود ہے۔مزید برآں اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ﴾ (التوبہ:۷۱)

’’مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ہم درد ہیں وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ۔‘‘

اس سے استدلال پہلے گزر چکا ہے۔

نیز فرمایا:

﴿وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ﴾ (البقرۃ:۱۴۳) 

’’اسی طرح ہم نے تم کو ایک امت وسط بنایا تاکہ تم دوسروں پر نگاہ رکھو۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ہُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَي النَّاسِ﴾ [الحج۷۸]

’’ اسی نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی، تاکہ رسول تم پر شہادت دینے والابنے اور تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔‘‘

جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس امت کو شاہد کا درجہ دیا گیا ہے تو ان کو یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس بات کی شہادت دیں گے۔اوروہ اپنی اس شہادت و گواہی میں عدل و انصاف سے کام لینے والے ہوں ۔ اگر یہ امت اللہ کی حلال کردہ اشیاء کو حرام اور محرمات کو حلال قرار دینے والی ہوتی؛اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے معاف رکھا ہے ‘ اسے واجب کرنے والی ہوتی؛ اور اس کے واجبات کو ساقط کرنے والی ہوتی تو اس کو شاہد نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح اگر اس امت کے افراد قابل مدح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم اشخاص کی مدح میں رطب اللسان ہوتے تب بھی وہ اس منصب پر فائز نہیں کیے جا سکتے تھے۔ بنا بریں جب یہ امت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے استحقاق خلافت کی گواہی دے تو اس کااس گواہی میں صادق ہونا؛ اور جس چیز کی گواہی دے رہے ہیں اس کا عالم ہونا ضروری ہوجاتا ہے ۔اسی طرح جب یہ بالاتفاق کسی کے نیک یا بد ہونے کی شہادت دیں ؛ یا کسی کے ایسے فعل کی گواہی دیں جس پر وہ ثواب کا مستحق ہو‘ اور دوسرے کسی کے متعلق ایسے فعل کی گواہی دینا جس پر وہ عقاب کا مستحق ہو‘ تو ان کی یہ گواہی قبول کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ لوگوں پر گواہی دینا ان کے ممدوح یا مذموم افعال کو شامل ہوتاہے۔اس لیے کہ کسی کے بارے میں یہ گواہی دینا کہ فلاں فرمانبردار ہے اور فلاں نافرمان ہے ؛ یہ ان کے افعال اور افعال کے احکام اوران کی صفات کو متضمن ہوتی ہے اور یہی مطلوب ہے۔

صحیحین میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :

’’بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس جنازے والے کی تعریف بیان کی گئی۔توآپ نے فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ پھر ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی، تو آپ نے فرمایا کہ واجب ہوگئی ۔لوگوں نے پوچھا کہ:یارسول اللہ! کیا چیز واجب ہو گئی؟ توآپ نے فرمایا: ’’جس جنازہ پر تم نے خیر کے الفا ظ کہے ؛ اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔اورجس جنازہ پر برے الفاظ کہے ‘ اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی ۔ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔‘‘[متفق علیہ و رواہ الترمذي و النسائی و ابن ماجۃ ]۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی﴾ ( نساء:۱۱۵)

’’جو شخص بھی ظہور ہدایت کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا، اور مومنین کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ پر چلے گا تو جدھر کو وہ مڑے گا ہم اس کو اسی طرف موڑ دیں گے۔‘‘

اس آیت میں مخالفت رسول اور مومنین کی راہ کو چھوڑ کر دوسرے راستوں پر چلنے کی ممانعت کی گئی ہے،اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں مذموم ہیں ۔اس لیے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی بالاجماع مذموم ہے۔جب اس امت کے لوگ کسی چیز کی حلت یا حرمت پر متفق ہوں اور کوئی شخص ان کی مخالفت کرے تو اس نے مومنین کے سوا دوسروں کی راہ اختیار کی۔اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًاo یُضَاعَفْ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَانًا

صفحہ 3 از 6