فصل :....[حجیت اجماع کی بحث] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا۔ اس کے لیے قیامت کے دن عذاب دگنا کیا جائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلیل کیا ہوا رہے گا۔‘‘[الفرقان ۶۸۔۶۹]

اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان تینوں میں سے ہر ایک خصلت از روئے شریعت مذموم ہے۔

پس درایں صورت جب مومنین کسی چیز کو واجب قرار دیں اورکچھ چیزوں کو حرام ٹھہرائیں اور کوئی مخالفت کرنے والا ان کی مخالفت کرے ؛ او رکہے کہ: جس چیز کو انہوں نے واجب قراردیا ہے وہ واجب نہیں ہے او رجس چیزکو حرام ٹھہرایا ہے وہ حرام نہیں ہے؛ تو یقیناً اس صورت میں وہ اہل ایمان کے راستے کو چھوڑ کر غیر کی راہ پر چلتا ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی راہ سے مراد ان کے اعتقادات اور افعال ہیں ۔ جب یہی بات ہے تو ان کی مخالفت مذموم ٹھہری ۔ اگر ان اہل ایمان کی راہ حق اورصواب نہ ہوتی تو ان کی مخالفت کرنے والے کی مذمت نہ کی جاتی۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ [النساء۵۹]

’’ فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹا، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔‘‘

یہاں پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کے حکم کو تنازع کے ساتھ معلق کیا گیاہے۔ حکم شرط کے ساتھ معلق ہوتا ہے ۔ جب شرط نہ پائی جائے تو حکم نہیں پایا جاتا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ عدم تنازع کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنا واجب نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا اجماع حق اور صواب ہے۔ اس لیے کہ اگر اجماع باطل اور خطاء ہوتا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رد کرنے کا وجوب ساقط نہ ہوتا‘ اس لیے کہ اہل اجماع کا حکم جو باطل اور غلط ٹھہرا۔اور اس لیے بھی کہ ان کے اجماع اورنزاع کسی بھی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم حق ہے۔ جب اجماع کی صورت میں واجب باقی نہ رہا تو معلوم ہوا کہ اجماع اس حق کے موافق تھا مخالف نہیں تھا۔ جب اجماع سے استدلال کرنے والا حقیقت میں نصوص شریعت کا پیروکار ہوتا ہے تو اسے کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔

مزیدبرآں کہ فرمان ِالٰہی ہے:﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ (آل عمران:۱۰۳)

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اجتماعیت کا حکم دیا ہے اور فرقہ بندی سے منع کیا ہے۔ اگر اجتماع کی حالت میں بھی کبھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوتے اور کبھی نافرمان ہوتے تو پھر اجتماعیت کا حکم دینا جائز نہ ہوتا۔ سوائے اس صورت کے کہ جب اطاعت کے کاموں پر اجتماع ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر مطلق طور پر حکم دیاہے۔اگر حالت ِ اجتماع میں بھی مسلمانوں کے درمیان کامل اتحاد و یگانگت موجود نہ ہو تو پھر اجتماع و انتشار میں کیا فرق ہوا؟اس لیے کہ اگر افتراق کی صورت میں اطاعت تو یہ مامور بہ ہوجاتاہے۔مثال کے طور پر لوگوں کی دو اقسام ہوں ۔ ایک قسم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزار ہو اور دوسری قسم نافرمان۔تواس صورت میں واجب ہوتا ہے کہ اطاعت گزاروں کا ساتھ دیا جائے ۔ اگرچہ اس میں افتراق ہی کیوں نہ ہوتا ہو۔پس جب اللہ تعالیٰ نے اجتماعیت کا حکم دیا ہے تو دلیل ہے کہ اجتماعیت اطاعت الٰہی کو مستلزم ہے۔

مزید برآں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ (المائدۃ:۵۵)

’’اللہ تعالیٰ، اس کا رسول اور اہل ایمان تمہارے دوست ہیں ۔‘‘

اس آیت میں مومنین کی دوستی کو اللہ و رسول کی دوستی کی طرح قرار دیا گیا ہے۔اللہ اور اس کے رسول کی دوستی ان کی اطاعت کیے بغیر ممکن نہیں رہتی۔ایسے ہی اہل ایمان کی دوستی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک ان کی اطاعت نہ کرلی جائے۔اورایسا کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کا آپس میں اتفاق و اتحاد ہو۔اس لیے کہ اگر ان میں سے بعض ایک چیز کا حکم دیں ‘اور بعض دوسرے اس کے خلاف دوسری چیز کا حکم دیں ؛ تو اس صورت میں ایک گروہ کی اطاعت دوسرے گروہ کی اطاعت سے زیادہ اولی نہیں ہوسکتی۔اس اختلاف کی صورت میں اطاعت گزاری یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کیاجائے۔

مزید برآں یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث مبارکہ میں جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے اور اجماعیت اختیار کرنے کا حکم ثابت ہے اور ایسا کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اور ان سے جدا ہونے والوں کی مذمت کی گئی ہے ۔

اور یہ خبر وارد ہوئی ہے کہ :خیر و رحمت اور ہدایت جماعت کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ اللہتعالیٰ اس امت کو ضلالت پر جمع نہیں ہونے دے گا؛ اور اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا؛ ان کی مخالفت کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اور اللہ تعالیٰ اس دین میں ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے گا جو اس کی اطاعت کے کام کرتے رہیں گے۔اور یہ کہ اس امت کے بہترین لوگ قرن اول کے لوگ تھے۔پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔

امام حاکم رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 4 از 6