فصل :....[حجیت اجماع کی بحث] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

’’ اللہ تعالیٰ میری امت کو کبھی بھی گمراہ پر جمع نہیں کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔‘‘[سنن الترمذي ۳؍۳۱۵۔ ورواہ الہیثمي في مجمع الزوائد ۵؍۲۱۸۔ اس روایت کے الفاظ یوں ہیں : ’’لن تجتمع أمتي علی ضلالۃ ؛فعلیکم بالجماعۃ فإن یداللہ علی الجماعۃ۔‘‘ اس طبرانی نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور کہا: ان میں سے ایک سند کے راوی ثقہ ہیں ‘اورسند صحیح ہے۔امام حاکم نے مستدرک میں ۱؍۱۱۶ میں دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ دوسری سند میں ابراہیم بن میمون عدنی ہے ۔اسے امام عبدالرزاق صنعانی نے عادل کہتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔ علامہ ذہبی کہتے ہیں : ابراہیم بن میمون کو عبدالرزاق نے عادل ہے اورابن معین نے ثقہ کہا ہے۔ ]

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی ؛ اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا۔‘‘[مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۷۔دو سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔ ایک سند صحیح اور بخاری ومسلم کی شرط پر ہے۔]

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی ؛ اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا؛ یہاں تک کہ وہ اس سے رجوع کرلے۔اور جو انسان اس حالت میں مرا کہ اس پر کوئی امام نہ ہو ‘ وہ جاہلیت کی موت مرا ۔‘‘[مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۷۔یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر ہے۔ ]

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی تم لوگوں کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے:۱۔ بات سننا۔ ۲۔اطاعت کرنا۔ ۳۔جہاد کرنا ۴۔ ہجرت کرنا۔ ۵۔مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ منسلک رہنا۔ اس لیے کہ جو جماعت سے ایک بالشت کے برابر بھی الگ ہوا اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی مگر یہ کہ وہ دوبارہ جماعت سے مل جائے۔‘‘[سنن الترمذي ۴؍۲۲۵؛ کتاب الأمثال ‘باب ما جاء مثل الصلاۃ و الصیام والصدقۃ۔ قال الترمذي: حسن صحیح غریب۔ وصححہ الألباني في ’’صحیح الجامع الصغیر ۲؍۹۷۔]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جو جماعت سے ایک بالشت کے لیے بھی علیحدہ ہوا وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘[مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۸۔ ولم یعلق علیہ الذہبي۔]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے امت سے علیحدگی اختیار کی ؛ یا پھر وہ ہجرت کے بعد دوبارہ بادیہ نشین ہوگیا تو قیامت والے دن اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔‘‘[مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۸۔ ولم یعلق علیہ الذہبي۔ ]

حضرت ربعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں ان راتوں میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔تو آپ نے فرمایا: میں نے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:

’’جس انسان نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی ‘ یا پھر امارت کو تبدیل کیا؛ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔‘‘[مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۹۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :یہ حدیث صحیح ہے۔ اور ابن قطان سے دوسرے بھی بہت سارے لوگوں نے روایت کیاہے۔ نیزدیکھیں : مجمع الزوائد ۵؍۲۲۲]

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا: ایک وہ آدمی جس نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور اپنے امام کی نافرمانی کی ؛اور اسی نافرمانی کی حالت میں اس کی موت آئی ....‘‘ [مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۸۔قال الحاکم: صحیح علی شرط الشیخین؛ وافقہ الذہبي۔]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ایک فرض نماز دوسری فرض نماز تک درمیانی عرصہ کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔جمعہ سے جمعہ تک درمیانی وقت کے گناہوں کا کفارہ ہوتاہے۔ اور ایسے ہی ایک رمضان دوسرے رمضان تک ۔ درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔‘‘....

اس کے بعد فرمایا....:’’ سوائے تین چیزوں کے۔‘‘تو مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ کوئی نئی بات ہے۔‘‘

توآپ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا؛ اور خریداری کو توڑنا ؛ سنت کو ترک کرنا۔او ریہ کہ کوئی آدمی قسم پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اس کی مخالفت کرے اور اپنی تلوار سے اس سے لڑائی کرے۔ سنت ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے ۔‘‘[مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۹۔ صححہ الحاکم وقال: علی شرط الشیخین ۔و وافقہ الذہبي۔]

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا:

’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے حدیث سنی اور سے یاد کیا یہاں تک کہ اسے آگے دوسروں تک پہنچایا۔ پس بہت سے فقہ کے حامل ایسے ہیں جو اس کو زیادہ فقیہ لوگوں تک پہنچا دیں گے۔‘‘اور تین باتیں ایسی ہیں جن پر مؤمن کا دل کبھی بھی بخل نہیں کرتا۔۱۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص عمل۔ ۲۔ حکام کی خیر خواہی ۔ ۳۔ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ لزوم۔‘‘

یہ حدیث امام حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے ؛ اورکہا ہے: شیخین کی شرائط پر صحیح ہے۔[سنن ابوداؤد:کتاب العلم ‘ باب :فضل نشر العلم؛ ح268۔ سنن الترمذي کتاب العلم باب ماجاء في الحث علی التبلیغ والسماع ۴؍۱۴۱۔ وقال: حدیث حسن صحیح۔ وصححہ الألباني في صحیح الجامع الصغیر ۶؍۳۰۔]

ان [آیات و احادیث مبارکہ ] کا تقاضا ہے کہ امت کا اجماع صرف حق و صواب اور ہدایت پرہی ہو۔ اس کے سب سے زیادہ حق دار صحابہ ہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کرنا ایک جائز اقدام تھا۔

صفحہ 5 از 6