فصل :....[حجیت اجماع کی بحث] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل :....[حجیت اجماع کی بحث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

مزیدبرآں سلف صالحین اس انسان پر بہت سخت انکار کرتے تھے جو اجماع کی مخالفت کرتا۔ اور ایسے انسان کو گمراہوں میں سے شمار کیا کرتے تھے۔ اگریہ بات ان کے ہاں مشہور ہوتی تو وہ اس کا انکار نہ کرتے۔اس لیے کہ وہ اسی چیز کا انکار کرتے تھے جس کے [غلط ہونے کے ]بارے میں انہیں دوٹوک طور پر معلومات ہوتی تھیں ۔اور کسی کو یہ اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ اجماع کے خلاف کوئی بات کرے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سلف صالحین کے ہاں اجماع کو قطعی حجت سمجھا جاتا تھا۔

عقول کے مدارک مختلف ہوتے ہیں ۔کسی چیز کے قطعی ہونے پر ان کا اتفاق تواطی اور شعور کے بغیر ممکن نہیں ہوتا ۔ وگرنہ قطعی ہونا واجب نہ ہوتا۔اور اگر کوئی ایسی چیز نہ ہوتی جو قطعیت کا فائدہ دیتی ؛ یا ظنیت کا ہی فائدہ دیتی ؛ تو بہت سارے گروہ اپنی ہمتوں اور طبائع کے اختلاف و افتراق کے باوجود کسی ایسی چیزکو ہر گز قطعی نہ کہتے جو کہ قطعی نہ ہوتی۔

پس اس سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں پاس ایسے قطعی دلائل موجود تھے جو کہ اجماع کی حجیت کو واجب کرتے تھے جس کی اتباع واجب ہوجاتی ہے اور مخالفت حرام ٹھہرتی ہے۔

مزید برآں کہ شیعہ اور اہل سنت والجماعت دونوں کا اتفاق ہے کہ: اگر علی رضی اللہ عنہ بھی ان تینوں کے ساتھ ہوں تو ان کا اجماع حجت ہوجاتا ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ ایسا صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معصوم ہونے کی وجہ سے ہو۔ اس لیے کہ خود کسی کی عصمت اجماع کے بغیرثابت نہیں ہوسکتی۔اس باب میں ان کی بنیاد ہی دوسروں سے عصمت کی نفی ہے ۔ اس لیے کہ نص اور معقول میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے غیر کی عصمت کی نفی کی جاسکتی ہو۔

اس سے روافض کا تناقض واضح ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے دین کی اصل بنیاد ہی اجماع پر رکھی تھی؛ اورپھر خود ہی اس کے خلاف کرنے لگے۔اور یہ بات بھول گئے کہ اجماع پر قدح کرنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عصمت پر قدح کرنے کے مترادف ہے۔پھر ان کے پاس کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی جس کا سہارا لے سکیں ۔ان کا یہی حال ان کے ان اقوال و عقائد میں ہے جن میں یہ لوگ باقی امت سے منفرد ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ یہ لوگ آخری سرے کو لے لیتے ہیں جس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی ۔‘‘ یعنی اصول کو چھوڑ دیتے ہیں اور فروع کو لے لیتے ہیں ۔

اگر ان لوگوں کے ہاں اجماع حجت نہیں ہے تو پھرعصمت ہی ثابت نہیں ہوتی۔ اور اگر اجماع حجت ہے تو پھر معصوم کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔توثابت ہوا کہ ہر دو صورتوں میں یہ جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کا قول صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے حجت ہو۔اس سے لازم آتا ہے کہ اجماع حجت ہو۔ وگرنہ اس سے شیعہ اور سنہ ہر دو کے قول کا بطلان لازم آئے گا۔

[اجماع پر شیعہ کے اعتراضات]:

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’ اجماع میں سب لوگوں کا قول معتبر ہوتا ہے اور یہ بات موجود نہ تھی۔بلکہ نہ ہی اہل مدینہ یا ان میں سے بعض لوگوں کا کوئی اجماع تھا۔اور یقیناً اکثر لوگ قتل عثمان پر متفق تھے۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:ہم قبل ازیں اس کا جواب دے چکے ہیں ، ہم نے بیان کیا تھا کہ ارباب حل و عقد کے اجماع میں چند افراد کے شرکت نہ کرنے سے کچھ حرج واقع نہیں ہوتا۔اس لیے کہ اس میں اہل شوکت اور ارباب حل و عقد کی موافقت درکار ہوتی ہے۔تاکہ امام مقاصد امامت کی تنفیذپرقادر ہوسکے۔بھلے سردارطبقہ کے اہل حل و عقد لوگ چند ایک ہی کیوں نہ ہوں ؛اورباقی لوگ ان کے موافق ہوں ۔ان کے بیعت کرلینے سے امامت منعقد ہو جائے گی۔یہی وہ درست بات ہے جس پر اہل سنت والجماعت کاربندہیں ۔اور امام احمد رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ کا مذہب ہے۔جب کہ اہل قدر میں سے ہر ایک نے اس کی تعداد متعین کی ہے؛ یہ سب باطل باتیں ہیں ۔ 

اگر اس سے مراد اولویت کے استحقاق پر اجماع ہو تو اس وقت یا تو تمام لوگ معتبر ہوتے ہیں یا پھر ان میں سے جمہور کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ یہ تینوں باتیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پائی جاتی تھیں ۔

٭ یہ بات غلط ہے کہ اکثر لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ بخلاف ازیں آپ کو قتل کرنے پر باغیوں کی ایک چھوٹی اور ظالم جماعت متفق تھی۔جن کا تعداد کل امت کا ہزارواں حصہ بھی نہیں بنتی تھی۔اور یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اکثر لشکر‘ اور آپ سے جنگ کرنے والے ‘ او رجنگ سے بیٹھ جانے والے لوگ قاتلین عثمان میں سے نہیں تھے۔ یہ چند ایک وہ لوگ تھے جو بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہوگئے تھے۔

خلافت عثمان میں امت اسلامیہ کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ جب کہ آپ کو قتل کرنے والوں کی تعداد ایک ہزار بھی نہیں پہنچتی ۔حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

’’خداقاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرے، وہ چوروں کی طرح بستی کی پچھلی جانب سے داخل ہوئے۔ اللہان کو ہر طرح سے غارت کرے؛ان میں سے وہی لوگ بھاگنے میں کامیاب ہوئے جو راتوں رات بھاگ گئے تھے ۔‘‘


صفحہ 6 از 6