Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لشکر پر ان حقوق کی ادائیگی لازم قرار دینا جن کو اللہ نے فرض کیا ہے

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے قائدین و امراء کو اس بات کی تاکید کرتے تھے چنانچہ جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فلسطین روانہ کیا تو ان کو تاکید فرمائی: ظاہر و باطن میں اللہ سے تقویٰ لازم پکڑنا، اپنی خلوت میں اللہ سے حیا کرنا وہ تمہارے ہر کام کو دیکھتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ میں نے تم کو ان لوگوں پر مقدم کیا ہے جو تم سے اسلام میں سبقت رکھتے ہیں اور صاحب احترام ہیں لہٰذا آخرت کے لیے عمل کرنے والوں میں سے بنو اور اپنے عمل سے اللہ کی رضا طلب کرو اور اپنے ساتھیوں کے لیے باپ بن کر رہو۔ نماز کا اہتمام کرو، نماز کا اہتمام کرو، اس کا جب وقت ہو جائے تو اذان دو اور کوئی بھی نماز اس وقت تک نہ پڑھو جب تک لشکر کے لوگ اذان سن نہ لیں اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو اللہ سے تقویٰ اختیار کرو اور اپنے ساتھیوں پر تلاوت قرآن لازم کر دو اور انہیں جاہلیت کے واقعات بیان کرنے سے روکو، اس سے ان کے مابین عداوت جنم لے گی۔ دنیا کی چمک دمک اور رنگینیوں سے اعراض کرو، یہاں تک کہ اپنے ان اسلاف سے جا ملو جو گذر چکے ہیں اور ان ائمہ میں سے بنو جن کی مدح قرآن میں بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَئِمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ‌ وَكَانُوۡا لَـنَا عٰبِدِيۡنَ ۞ (سورۃ الأنبياء آیت 73)

ترجمہ: اور ان سب کو ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے وحی کے ذریعے انہیں نیکیاں کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید کی تھی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔

یہ وہ اہم ترین اللہ، قائدین اور لشکر کے حقوق ہیں جنہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے قائدین کی نصیحتوں اور خطوط میں ذکر فرمایا ہے۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 251)