Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فارس و روم کی قوتوں کا صفایا کرنے کا راز

  علی محمد الصلابی

اسلامی فتوحات کی تحریک میں غور و فکر کرنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لشکر کو کس قدر توفیق بخشی۔ یہ ظفر مند لشکر عراق و شام کی طرف روانہ ہوا اور روم و فارس کی طاقت و شوکت کو توڑنے اور جنگ کی تاریخ میں تھوڑے سے وقت میں ان کے ملک کو فتح کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس فتح کی سرعت و تیزی کا سبب دو طرح کے عوامل و اسباب ہیں: ایک وہ عوامل جو مسلم فاتحین سے متعلق ہیں اور دوسرے ان اقوام سے متعلق ہیں جن کے ممالک کو مسلمانوں نے فتح کیا۔

مسلمانوں سے متعلق عوامل:

1۔ دین حق پر مسلمانوں کا ایمان جس کی خاطر وہ قتال کر رہے تھے۔

2۔ رزق و موت اور قضاء و قدر کے سلسلہ میں مسلمانوں کا اپنے رب پر یقین کامل۔

3۔ جنگی صفات مسلمانوں میں گھر کر چکی تھیں۔

4۔ دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کی رواداری اور عدل و انصاف۔

5۔ جزیہ و خراج مقرر کرنے میں مسلمانوں کی رحمت و شفقت اور ان سے کیے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنا۔

6۔ مسلمانوں کے پاس عظیم قائدین اور مجاہدین کی ثروت و قوت۔

7۔ اسلامی جنگی منصوبہ بندی کا مستحکم ہونا۔

(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: صفحہ 222، 227)

مفتوحہ ممالک سے متعلق اسباب وعوامل:

 روم و فارس کی کمزور ہو چکے تھے ان کے اندر ظلم کا دور دورہ تھا، فساد عام ہو چکا تھا، بد اخلاقیاں اور بری عادات پھیل چکی تھیں، ان کی تہذیب کو بڑھاپا لاحق ہو چکا تھا، ان کے بادشاہوں کے ظلم نے ان کا جنازہ نکال دیا تھا، یہ اللہ کے منہج سے منحرف ہو چکے تھے، ان کے اندر اللہ کی سنت نافذ ہو چکی تھی جو رحم، مجاملت اور تبدیلی قبول نہیں کرتی۔

اور ان کے بالمقابل مسلمان، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے صحیح منہج کے ذریعہ سے شرف بخشا، انہوں نے اس پر عمل کیا اور غلبہ و تمکین کے اسباب اختیار کیے، اس کی شرائط کو پوری کیا اور قوموں اور حکومتوں کے قیام اور معاشرہ کی اصلاح کے سلسلہ میں اللہ کے قوانین فطرت کو اپنایا۔

میری بات سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ روم و فارس کی کمزوری نے مسلمانوں کے سامنے بڑے پیمانے پر راستہ ہموار کیا۔ مذکورہ اسباب کی بنا پر دونوں سلطنتوں کی کمزوری کے باوجود انہوں نے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے بڑے زور شور سے تیاری کی، لاکھوں تربیت یافتہ فوجی تیار کیے جو تعداد اور جنگی ساز و سامان میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ فوقیت رکھتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے وہ اسلحہ بھی استعمال کیا جو مسلمانوں کے پاس میسر نہ تھا۔ مثلاً ہاتھی اور آنکس و شکنجے جنہیں وہ قلعوں کے پیچھے روانہ کرتے اور مسلمانوں کا شکار کرتے اور اسی طرح یہ گمان بھی صحیح نہیں ہے کہ رومیوں نے مسلمانوں کو اہمیت نہ دی، جس کی وجہ سے انہوں نے تیاری نہ کی۔ اس خیال کی تردید ابن عساکر کی اس روایت سے ہوتی ہے: ’’ہرقل قیصر روم نے اپنے جرنیلوں کو حمص میں اکٹھا کیا اور ان سے کہا: میں نے تمہیں متنبہ کیا تھا لیکن تم نے میری بات نہ مانی۔ عرب مہینہ بھر کا سفر کرکے آتے ہیں اور تم پر حملہ کر کے چلے جاتے ہیں، ان کو زخم تک نہیں آتا۔ اس پر قیصر کے بھائی نے کہا: بلقاء میں محافظ فوج بھیج دیجیے۔ اس نے وہاں محافظ فوج تعینات کر دی اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو ان پر ذمہ دار بنایا۔ یہ محافظ فوج وہاں برابر ڈٹی رہی، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں وہاں اسلامی افواج پہنچیں۔‘‘

( تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: صفحہ 338)