فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 35

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

[اور ان کے جوابات]

رافضی مصنف کہتا ہے : تیسری بات :جو آیات قرآنیہ آپ کے فضائل میں وارد ہوئی ہیں ؛ جیسے:

٭اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی﴾ [ اللیل ۱۷] 

٭اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ ﴾ [الفتح ۱۶] یہاں پر داعی سے مراد ابوبکر ہیں ۔آپ بدر کے موقع پر چھپر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہرہ دار تھے ۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا مال خرچ کیا اور ان کی موجود گی میں نمازیں پڑھائیں ۔

٭ جواب میں ہم کہتے ہیں :’’ غار کے واقعہ میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے رفیق سفر بنایا ہو کہ مبادا وہ آپ کے معاملہ کو ظاہر کردے۔

٭ مزیدبرآں یہ کہ آیت اس کے نقیض پر دلالت کرتی ہے: اس لیے کہ : ’’ لَا تَحْزَنْ‘‘ کے الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بے صبری اور اللہ تعالیٰ پرعدم یقین ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات پرعدم رضامندی؛ اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر عدم ایمان کو ظاہر کر رہے ہیں ۔‘‘اس لیے کہ اگر یہ حزن وملال اطاعت گزاری میں تھا تو پھر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منع کرنا محال ٹھہرا۔ اور اگریہ حزن و ملال نافرمانی میں تھا تو پھر جس چیزکی فضیلت ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ رذیلت ٹھہری ۔ 

٭ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ[﴿فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْمُؤْمِنِیْنَ﴾میں ‘‘ ’’پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مؤمنین پر اپنا سکون نازل فرمایا ‘‘]۔ میں سکینہ نازل کرنے کا ذکر فرمایا تو اس میں واضح طور پر اہل ایمان کو سکون و اطمینان کے مورد میں آپ کا شریک قرار دیاہے، مگر آیت زیر تبصرہ میں یہ صراحت موجود نہیں ۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور نقص نہیں ہوسکتا۔‘‘

٭ نیز آیت قرآنی﴿وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی﴾۔حضرت ابو الدحداح رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے ۔ آپ نے اپنے ایک پڑوسی کے لیے ایک کھجور کا درخت خریدا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انسان کو اس کھجور کے درخت کے بدلہ میں جنت میں ایک درخت کی بشارت سنائی تھی ؛مگروہ نہ مانا۔یہ بات حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ نے سن لی تو انہوں نے پورا باغ خرید کر اپنے پڑوسی کوہبہ کردیا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عوض جنت میں ایک باغ کی خوشخبری سنائی۔

٭ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ ﴾ [الفتح ۱۶] مراد یہ ہے کہ :ہم عنقریب ایک قوم کی طرف بلائیں گے۔یہاں پرمقصود وہ لوگ ہیں جو صلح حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ غزوہ خیبر کی غنیمت پانے کے لیے آپ کے ساتھ جائیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کرمنع کردیا کہ: ﴿قُلْ لَنْ تَتَّبِعُوْنَا﴾۔’’ فرمادیجیے: ’’ ہر گزہمارے ساتھ نہ چلیے۔‘‘اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خیبر کے غنائم کو ان لوگوں کے لیے خاص کردیا تھا جو کہ صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے۔ پھر فرمایا:﴿قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ﴾ [الفتح ۱۶]یہاں مراد یہ ہے کہ : ہم تمہیں اس کے بعد ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ کے لیے بلائیں گے جو کہ بہت سخت لڑاکو ہوں گے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بہت سارے غزوات کی دعوت دی جیسے غزوہ مؤتہ ؛ حنین؛ تبوک وغیرہ۔تو یہاں پر داعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ داعی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوں ۔ اس لیے کہ آپ نے عہد و پیمان توڑنے والوں ‘ وعدہ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور دین اسلام سے نکل جانے والوں سے قتال کیا۔ اور وہ لوگ اسلام قبول کرتے ہوئے آپ کی اطاعت میں داخل ہوئے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 

’’ یَا عَلِیُّ حَرْبِیْ حَرْبُکَ‘‘

’’ اے علی تیری جنگ میری جنگ ہے ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنا کفر ہے۔‘‘

٭ نیز یہ کہ : بدر کے جھونپڑے میں آپ کا انیس و غمخوار ہونے میں فضیلت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے مانوس ہونے کی وجہ سے ہر انیس و غمخوار سے بے نیاز تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ : اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جنگ کرنے کا حکم دیا تو خرابی پیدا ہوگی ؛ اس لیے کہ وہ بھاگ جائے گا جیسا کہ اس سے پہلے کئی غزوات میں بھاگ چکا ہے [تو اسے اپنے پاس بلالیا]۔ اب کون سا عمل افضل ہے ؟ وہ جو جہاد کو ترک کردے یا پھر اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۔‘‘

٭ یہ جھوٹ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خرچ کیا کرتے تھے، اس لیے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مال دار نہ تھے۔اس کا باپ انتہائی درجہ کا قلاش انسان تھا۔جو کہ عبداللہ بن جدعان کے دسترخوان پر ایک مد یومیہ کے بدلہ آواز لگایا کرتا تھا؛ اور اس سے اپنی روزی حاصل کرتا ۔ اگر ابو بکر غنی و مالدار ہوتا تو پہلے اپنے باپ کو کفایت کرتا۔ لیکن ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ عہد جاہلیت میں ایک پیشہ ور معلم تھا۔‘‘ اوراسلام میں درزی کا پیشہ اختیار کیا ۔ جب آپ لوگوں کے ولی الامر بنے تو انہوں نے آپ کو درزی کا کام کرنے سے روک دیا‘ تو کہنے لگے: مجھے تو روزی کی ضرورت ہے۔ اس پر لوگوں نے آپ کے لیے بیت المال سے تین درہم یومیہ وظیفہ مقرر کیا۔

٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال کی وجہ سے غنی تھے۔ اس وقت جنگ یا لشکر کی تیاری کی ضرورت نہ تھی۔ اور ہجرت کے بعد تو ابوبکر کے پاس بالکل کچھ بھی نہیں تھا۔ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوتے تو ان کے بارے میں اسی طرح قرآن نازل ہوتا جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آیت﴿ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ﴾ اتری تھی۔

صفحہ 1 از 35