فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 35

آپ ان لوگوں کو خرید کر آزاد کرتے جنہیں ایمان لانے کی پاداش میں عذاب دیا جارہا ہوتا؛ جیسا کہ حضرت بلال ‘حضرت عمار اور دیگر مظلوم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ۔ آپ نے سات ایسے لوگوں کوخرید کر آزاد کیاجنہیں اللہ پر ایمان لانے کے جرم میں ستایا جاتا تھا۔ آپ علی الاطلاق اپنی صحبت میں سب سے زیادہ نفع بخش انسان تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال جاننے والے اہل علم کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت کئی وجوہات کی بنا پر باقی تمام صحابہ کرام کی صحبت سے اکمل تھی۔

٭ ان میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ آپ دن اور رات ؛ سفر اور حضر میں ہر وقت سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے والے تھے۔جیسا کہ صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ؛ آپ فرماتی ہیں :

’’ جب میں نے ہوش سنبھالا اس وقت میرے والدین اسلام لاچکے تھے؛ہم پر کوئی دن ایسا نہ گزرتا جب صبح و شام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف نہ لاتے ہوں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب المسجد یکون فی الطریق....‘‘(ح:۴۷۶)۔]

سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شروع شروع میں صبح و شام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر جایا کرتے تھے۔ اس وقت اسلام بہت کمزور تھا‘ اور دشمنان دین بہت زیادہ تھے۔ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انتہاء درجہ کی فضیلت اور صحبت میں خصوصیت کی علامت ہے۔

[ابوبکر رضی اللہ عنہ اور مشاورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ]:

مزید برآں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کے بعد بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے؛ اور مسلمانوں کے مختلف امور میں مشاورت اور بات چیت ہوتی۔یہ خصوصیت بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہے کسی دوسرے صحابی کو نہیں ۔

مزید برآں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا کرتے تو شوری میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کلام کرتے۔ بسا اوقات کوئی دوسرا پہلے بول پڑتا؛ اور بسا اوقات کوئی بھی آپ کے علاوہ نہیں بولتا ۔ تو پھر صرف آپ کی رائے کے مطابق ہی عمل کیا جاتا ۔اور جب کسی کی رائے آپ کی رائے کے خلاف ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مخالف کی رائے کو ترک کردیتے اور صرف آپ کی رائے کے مطابق عمل کرتے۔

پہلے واقعہ کی مثال؛ جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا ؛ تو سب سے پہلا مشورہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی دیا ۔ امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ :

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جب بدر کے دن قیدیوں کو گرفتار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا:’’ تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے لوگ ہیں ۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ وصول کر لیں ؛ اس سے ہمیں کفار کے خلاف طاقت حاصل ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ اللہ انہیں اسلام لانے کی ہدایت عطا فرما دیں ۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابن خطاب آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! میری وہ رائے نہیں جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے۔ بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہمارے سپرد کر دیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں ۔ عقیل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں ؛وہ ان کی گردن مار دیں ۔اور عباس کو حمزہ کے سپرد کردیجیے وہ ان کی گردن اڑا دیں ۔ اور اپنے رشتہ داروں میں سے ایک کا نام لیا کہ اسے میرے سپرد کردیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں ۔ [کیونکہ یہ کفر کے پیشوا اور سردار ہیں ]۔

ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان سب کو آگ میں جلادو۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین اختلاف پیدا ہوا۔ان میں سے بعض حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے رکھتے تھے اور بعض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے رکھتے تھے۔ اور بعض کی رائے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ والی تھی۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے۔‘‘اور پوری حدیث بیان کی۔ [اس روایت میں ہے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جب آئندہ روز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی رؤوں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ﴾ یہ بات نبی کی شان کے مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں (کافروں کو قتل کر کے)زمین میں کثرت سے خون (نہ)بہائے۔ سے اللہ عزو جل کے قول پس کھا جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے پس اللہ نے صحابہ کے لیے غنیمت حلال کر دی۔]

صفحہ 10 از 35