فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 35

اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ : جب حدیبیہ کے موقع پر مشورہ کیا گیاکہ : کیا ان لوگوں کے اہل و عیال پر شبخون مارا جائے جنہوں نے قریش کی مدد کی یا پھر بیت اللہ کی طرف سفر جاری رکھا جائے۔ او رپھر جو کوئی اس راہ میں رکاوٹ بنے ‘ اس سے لڑائی کی جائے۔اہل علم : اصحاب تفسیر و حدیث ‘مغازی و سیر و فقہ کے ہاں یہ حدیث معروف ہے۔اسے امام بخاری و احمد بن حنبل رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔

عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ:

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں چودہ سو صحابہ کرام کی ہمراہی میں تشریف لے چلے ۔یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پر پہنچے تو اپنے قربانی کوجانوروں کو ہار پہنائے اور انہیں نشانیاں لگائیں اور عمرہ کا احرام باندھا۔ اور اپنے آگے آگے بنو خزاعہ کے ایک آدمی کو بطور جاسوس روانہ کیا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے احوال سے آگاہ کرے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی برابر چلتے رہے یہاں تک کہ جب مقام غدیر الاشطاط میں پہنچے تو جاسوس نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ:’’ میں اپنے پیچھے قریش کواس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی نے بہت سے قبائل اور حبشیوں کو آپ سے لڑنے کے لیے اکٹھا کیا ہے۔‘‘

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ یحیٰ بن سعید نے ابن المبارک سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ : ’’ انہوں نے بہت ساری جماعتوں کو جمع کررکھا ہے۔وہ آپ سے لڑنے کے لیے تیار ہیں ۔ وہ آپ کوروکیں گے اور بیت اللہ تک نہیں جانے دیں گے۔‘‘

تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: لوگو!مجھے اس معاملہ میں بتاؤ کہ کیا کرنا چاہئے ؟کیا میں کافروں کے اہل و عیال پر ٹوٹ پڑوں اور ان کو تباہ کردوں [ جو ہم کو کعبہ سے روکنے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اگر وہ مقابلہ کے لیے آئے تو اللہ تعالیٰ مدد گار ہے اسی نے ہمارے جاسوس کو ان کے ہاتھ سے بچایا ہے] اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کو سوئے ہوئے یا مفرور کی طرح چھوڑیں گے۔اور اگر بچ گئے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں توڑ کر رکھ دیگا۔یا پھر ہم بیت اللہ کی طرف سفر جاری رکھیں ‘ اور جو ہماری راہ میں رکاوٹ بنیں اس سے لڑیں ۔

اس موقعہ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! ہم تو صرف اللہ کے گھر کا ارادہ کرکے حاضر ہوئے ہیں کسی سے لڑنا اور مارنا یا اسے لوٹنا ہماری غرض نہیں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلیں اگر کوئی ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بنے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’پھر اٹھو اور اللہ کا نام لے کر چلو۔‘‘

حضرت امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں نے کسی ایک کو ایسا نہیں دیکھا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ مشورہ کرتے ہوں ۔‘‘

حضرت امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن الحکم کی روایت میں ہے :

’’ پس وہاں سے اٹھ کر چلے یہاں تک راستے میں کسی جگہ پہنچے ۔‘‘

یہاں تک یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ نے آپ کی سند سے کتاب الحج اورمغازی میں نقل کی ہے۔

حضرت امام زہری رحمہ اللہ کی روایت جو کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی گئی ہے؛ اور جس پر امام بخاری اور امام احمد رحمہما اللہ کا اتفاق ہے ۔ اس روایت میں ہے :

’’اثنائے راہ میں بطور معجزہ کے خالد بن ولید (جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے)کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : مقام غمیم میں قریش کے ساتھ مقدمہ جیش پر ہیں ۔ تم داہنی طرف چلنا اور ادھر خالد کو مسلمانوں کا آنا ذرا بھی معلوم نہ ہوا تھا جب لشکر کا غبار ان تک پہنچا تو انہیں معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ اسی اثنا میں فوراً ایک شخص قریش کو خبر دینے کیلیے چل دیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر چلے جا رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ اس پہاڑی پر پہنچے جس کے اوپر سے ہو کر لوگ مکہ میں اترتے ہیں تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا:’’ حل حل(أٹھ اٹھ ؛ اور اسے اٹھانے کی) بہت کوشش کی گئی؛ مگر اس نے جنبش نہ کی صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قصویٰ بیٹھ گئی، قصوا بیٹھ گئی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ قصوی خود سے نہیں بیٹھی نہ اس کی یہ عادت ہے بلکہ اسے اس نے روکا ہے جس نے ہاتھی کو روکا تھا۔

پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کفار قریش مجھ سے جس بات کا سوال کرینگے اور اس میں اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کی تعظیم کریں گے تو میں ان کی اس بات کو منظور کرلوں گا۔ اس کے بعد آپ نے قصویٰ کو ڈانٹا تو اس نے جست لگائی، اور روانہ ہو گئی۔یہاں تک کہ حدیبیہ کے کنارے ایک گڑھے پر بیٹھ گئی، جس میں پانی بہت ہی تھوڑا سا تھا، لوگ اس سے تھوڑا تھوڑا پانی لیتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگوں نے اس کو پی لیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی، تو آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کردیا، اور حکم دیا کہ اس کو اس پانی میں ڈال دیں ۔‘‘

پس اللہ کی قسم !پانی فوراً ابلنے لگا، یہاں تک کہ سب لوگ اس سے سیراب ہو گئے۔ اتنے میں بدیل بن ورقا خزاعی نے اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ تھے اور تہامہ کے رہنے والے تھے،-امام احمد کے الفاظ کے مطابق ان میں مسلمان بھی تھے اور مشرک بھی- ساتھ لا کر کہا کہ:’’ میں نے کعب بن لوی اور عامر بن لوی کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ حدیبیہ کے گہرے چشموں پر فروکش ہیں ، ان کے ہمراہ دودھ والی اونٹنیاں ہیں ، ہر طرح سے ان کا سامان درست ہے اور وہ لوگ آپ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں ، اور آپ کو کعبہ سے روکنا چاہتے ہیں ۔‘‘

صفحہ 11 از 35