فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 35

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ہم کسی سے لڑنے کیلیے نہیں آئے ہم تو صرف عمرہ کرنے آئے ہیں ، در حقیقت قریش کو لڑائی ہی نے کمزور کردیا، اس سے ان کو بہت کچھ نقصان پہنچا ہے، اگر وہ چاہیں تو میں ان سے کوئی مدت مقرر کر لوں ، لیکن وہ میرے اور کفار عرب کے درمیان نہ پڑیں ۔ نتیجہ میں اگر میں غالب آ جاؤں اور اس وقت قریش چاہیں کہ اس دین میں داخل ہوں جس میں اور لوگ داخل ہوئے ہیں تو وہ ایسا کریں ۔ اور اگر میں غالب نہ آؤں تو پھر وہ آرام اٹھائیں ۔کیونکہ اس صورت میں ان کا مقصود پورا ہوجائے گا، اور اگر وہ اس کو منظور نہ کریں ، تو قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اپنی اس حالت میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں گا، تاآنکہ قتل کردیا جاؤں ، اور بے شک اللہ اپنے دین کو جاری رکھے گا۔‘‘

بدیل نے کہا :’’جو کچھ آپ نے کہا میں قریش سے جا کر یہی کہہ دوں گا۔

چنانچہ وہ گیا اور قریش سے جا کر کہا کہ:’’ ہم تمہارے پاس اسی شخص کے پاس سے آرہے ہیں ، اور ہم نے انہیں کچھ کہتے ہوئے سنا ہے، اگر تم چاہو تو ہم بیان کردیں ۔ تو ان کے بے وقوفوں نے کہا کہ ہمیں اس کی کچھ حاجت نہیں کہ کسی بات کی خبر دو۔ لیکن عقل مندوں نے کہا :’’ تم نے ان سے جو کچھ سنا ہے بیان کرو ۔ بدیل نے کہا:’’ میں نے ان کو یہ یہ کہتے سنا ہے؛ پھر جو کچھ آپ نے فرمایا تھا بیان کردیا۔

تو عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ لوگو! کیا میں تمہارا باپ نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں !

عروہ نے کہا: ’’کیا تم میری اولاد کی طرح نہیں ہو؟ انہوں نے کہا ہاں !

عروہ نے کہا: کیا تم مجھ سے کسی قسم کی بدظنی رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں !

عروہ نے کہا :کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے عکاظ والوں کو تمہاری نصرت کے لیے بلایا مگر جب انہوں نے میرا کہا نہ مانا، تو میں اپنے اعزہ اور اولاد کو جس نے میرا کہنا مانا، اس کو تمہارے پاس لے آیا۔

انہوں نے کہا ہاں !یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔

عروہ نے کہا :’’اچھا، اب میری ایک بات مانو! اس شخص (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )نے تمہارے سامنے ایک اچھی بات پیش کی ہے، اس کومنظور کرلو، اور مجھے اجازت دو کہ میں اس کے پاس جاؤں ۔

سب نے کہا: اچھا آپ جائیے، چنانچہ عروہ آپ کے پاس آئے گفتگو کرنے لگے۔ آپ نے اس سے ویسی ہی گفتگو کی جیسی کہ بدیل سے کی تھی۔‘‘

عروہ نے کہا: اے محمد !یہ بتاؤ کہ اگر تم اپنی قوم کی جڑ(بنیاد) بالکل کاٹ ڈالو گے؟ تو اس میں تمہارا کیا فائدہ ہوگا؟ کیا تم نے اپنے سے پہلے کسی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا استحصال کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوجائے کہ تم مغلوب ہو جاؤ تو پھر کیا ہوگا؟ اور نتیجہ میں تو یہی آخری بات معلوم ہو رہی ہے، کیونکہ میں تمہارے ہمراہ ایسے لوگ اور ایسے مختلف آدمی دیکھ رہا ہوں جو بھاگ جانے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔ سنو!وہ تمہیں میدان جنگ میں تنہا چھوڑ دیں گے۔ - امام احمد رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں کہ: ’’ یہ ایسے لوگ ہیں جو بھاگ جائیں گے اور آپ کو اکیلا چھوڑ دیں گے - ۔ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ)نے یہ سن کر عروہ سے کہا کہ:

’’ امصص ببظر اللات‘‘ (تو لات بتنی کی شرمگاہ چوسے! کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت سے بھاگ جائیں گے، اور انہیں تنہا چھوڑ دیں گے؟

عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ: ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔

عروہ نے کہا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھ پر تمہارا ایک احسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک بدلہ نہیں دیا تو میں ضرور تم کو جواب دیتا ۔ [حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ] عروہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا اور جب وہ آپ سے بات کرتا تو ازراہ خوشامد آپ کی داڑھی میں ہاتھ ڈال دیتا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے، جن کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور خود ان کے سر پر تھا ۔جب عروہ اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف بڑھانے لگتا، تو مغیرہ نے اپنی تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے۔ اور کہتے کہ: عروہ اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے ہٹالے۔

عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا :یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ۔

عروہ نے کہا: اے بے وقوف کیا تو سمجھتا ہے کہ میں تیری بے وفائی کے انتقام کی فکر میں نہیں ہوں ۔

مغیرہ نے جو زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کے پاس نشست و برخاست کرتے تھے، انہوں نے کسی کو قتل کر ڈالا اور اس کا مال لے لیا تھا، اور اس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’ تمہارا اسلام قبول کرتا ہوں ۔ جب کہ مال تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘

اس کے بعد عروہ گوشہ چشم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھنے لگا۔

راوی کہتا ہے کہ:’’ اس نے یہ حال دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم لعاب تھوکتے، تو وہ صحابہ میں کسی نہ کسی کے ہاتھ پر پڑتا جس کو وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا، اور جب آپ کوئی حکم دیتے تو وہ بہت جلد اس کی تعمیل کرتے۔ جب آپ وضو کرتے، تو وہ لوگ آپ کے وضو ء سے گرنے والے پانی پر لڑتے تھے (ایک کہتا تھا ہم اس کو لیں گے، دوسرا کہتا تھا کہ ہم لیں گے)۔

صفحہ 12 از 35