فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 35

جب وہ لوگ بات کرتے تھے تو آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے تھے۔ اورآپ کی طرف بوجہ تعظیم آنکھ بھر کر نہ دیکھتے تھے۔ پھر عروہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ گیا اور کہا :’’اے لوگو اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا، قیصر وکسری اور نجاشی کے دربار میں گیا، مگر اللہ کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے مصاحب اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد کی یہ تعظیم کرتے ہیں ۔ اللہ کی قسم! جب تھوکتے ہیں ، تو وہ جس کسی کے ہاتھ پڑتا ہے، وہ اس کو اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔ اور جب وہ کسی بات کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو ان کے اصحاب بہت جلد اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ جب وضو کرتے ہیں ، تو ان کے غسالہ وضوء کیلیے لڑتے مرتے ہیں ۔ اپنی آوازیں ان کے سامنے پست رکھتے ہیں ۔ نیز بغرض تعظیم ان کی طرف دیکھتے تک نہیں ۔ بے شک انہوں نے تمہارے سامنے ایک عمدہ مسئلہ پیش کیا ہے، لہٰذا تم اس کو مان لو۔

چنانچہ بنی کنانہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ: مجھے بھی اجازت دو کہ میں بھی ان کے پاس جا کر ان کو دیکھوں ۔ تو لوگوں نے کہا کہ: اچھا تم بھی ان کے پاس جاؤ۔

جب وہ آنحضرت اور آپ کے اصحاب کے سامنے آیا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے اور وہ اس قوم میں سے ہے، جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کیا کرتے ہیں ، لہٰذا تم قربانی کے جانور اس کے سامنے کرو، جب قربانی کے جانور اس کے سامنے لائے گئے اور لوگوں نے لبیک کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا، اس نے یہ حال دیکھا، تو کہنے لگا، سبحان اللہ!ایسے اچھے لوگوں کو کعبہ سے روکنا زیبا نہیں ہے، پھر جب وہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹا توکہنے لگا کہ:’’ میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ انہیں قلادے پہنائے گئے تھے اور ان کا اشغار کیا ہوا تھا (یعنی ان اونٹوں کے کوہان پر اس لیے زخم لگایا جاتا ہے تاکہ وہ حج کا ہدیہ متصور کیے جائیں ) ، لہٰذا میں تو یہ مناسب نہیں سمجھتا کہ ان لوگوں کو کعبہ سے روکا جائے ۔‘‘

پھر ان میں سے ایک اور شخص کھڑا ہوا، جس کا نام مکر زبن حفص تھا؛ اس نے کہا کہ مجھے بھی اجازت دو کہ میں بھی محمد کے پاس جاؤں ۔لوگوں نے کہا کہ اچھا تم بھی جاؤ۔ چنانچہ جب وہ مسلمانوں کے پاس آیا، تو رسول اللہ نے فرمایا، یہ مکرز ہے، اور یہ ایک بدکار آدمی ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہا تھا کہ سہیل بن عمرو نامی ایک شخص کافروں کی طرف سے آیا۔

معمر کہتے ہیں ، مجھ سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کرکے یہ بیان کیا کہ جب سہیل آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اب تمہارا کام آسان ہوگیا۔‘‘

معمر کہتے ہیں کہ: زہری نے مجھ سے اپنی حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ جب سہیل بن عمرو آیا، تو اس نے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان میں صلح نامہ لکھ دیجئے ۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ: لکھ :’’بسم اللّٰہ الرحمنٰ الرحیم‘‘

سہیل نے کہا:’’ اللہ کی قسم! ہم رحمن کو نہیں جانتے کہ وہ کون ہے؟، کفار نے یہ اس لیے کہا کہ وہ لفظ رحمن کو اللہ کا نام جانتے ہی نہ تھے۔ آپ یوں لکھوائیے:’’باسمک اللھم‘‘ جیسا کہ آپ پہلے لکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے کہا: ہم تو بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ہی لکھوائیں گے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس پر اصرار نہ کرو، باسمک اللھم لکھ دو۔ پھر آپ نے فرمایا :لکھو:’’ ہذا ماقاضی علیہ محمد رسول اللہ ’’یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کررہے ہیں ۔‘‘ 

سہیل نے کہا اللہ کی قسم! اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو ہم آپ کو کعبہ سے نہ روکتے، اور نہ آپ سے جنگ کرتے، آپ من جانب محمد بن عبداللہ لکھیے۔

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی قسم !بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اور اگر تم لوگ میری تکذیب ہی کرتے ہو، تو محمد بن عبداللہ لکھ لو۔‘‘

زہری کہتے ہیں کہ:’’ یہ سب باتیں آپ نے اس لیے منظور کرلیں کہ آپ فرما چکے تھے کہ وہ جس بات کی مجھ سے درخواست کریں گے، بشرطیکہ اس میں وہ اللہ کی حرمت والی چیزوں کی عظمت کریں تو میں اسے قبول کر لونگا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’علی ان تخلوا بیننا وبین البیت فنطوف بہ ۔‘‘

’’اس بات پر کہ اے کفار مکہ تم ہمارے اور کعبہ کے درمیان میں راہ صاف کردو، تاکہ ہم اس کا طواف کرلیں ۔‘‘سہیل نے کہا کہ:اللہ کی قسم!ہم یہ بات اس سال منظور نہیں کریں گے، کیونکہ ڈر ہے کہ عرب یہ نہ کہیں کہ ہم مجبور کردیئے گئے، بلکہ اگلے برس یہ بات پوری ہوجائے گی۔ چنانچہ حضرت نے یہی لکھوادیا۔

پھر سہیل نے کہا :’’یہ بھی لکھوا دیجئے کہ :’’وعلی أنہ لا یاتیک منا رجل وإن کان علی دینک إلارددتہ ۔‘‘’’اس بات پر کہ اے محمد ہماری طرف سے جو شخص تمہارے پاس جائے اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو تب بھی تم اسے ہماری طرف واپس لوٹا دینا۔‘‘

مسلمانوں نے کہا:’’ سبحان اللہ!وہ مشرکوں کے پاس کیوں واپس کردیا جائے گا، حالانکہ وہ مسلمان ہو چکا ہے۔اسی حالت میں ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو کھڑ کھڑاتے ہوئے مکہ کے نشیب سے آئے تھے مسلمانوں کے درمیان آگئے۔ تو انہوں نے کہا: محمد یہی سب سے پہلی بات ہے جس پر ہم آپ سے صلح کرتے ہیں کہ تم ابوجندل رضی اللہ عنہ کو مجھے واپس دے دو۔ جس پر رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے ابھی تحریر ختم نہیں کی۔ ابھی سے ان شرائط پر عمل کیونکر ضروری ہوسکتا ہے؟

سہیل نے کہا:’’ اللہ کی قسم ہم تم سے کسی بات پر صلح کبھی نہ کریں گے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اچھا اس ایک آدمی کی تم مجھے اجازت دے دو۔‘‘

سہیل نے کہا: میں ہرگز اس کی اجازت نہ دونگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی اجازت دے دو۔

اس نے کہا میں نہ دونگا۔ مکرز نے کہا میں اس کی اجازت آپ کو دیتا ہوں ۔

ابوجندل رضی اللہ عنہ نے کہا: مسلمانو!کیا میں مشرکوں کے پاس واپس کردیا جاؤں گا؟ حالانکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے اسلام کیلیے کیا کیا مصیبتیں اٹھائی ہیں ۔ درحقیقت ابوجندل کو اللہ کی راہ میں بہت سخت تکلیفیں دی گئی تھیں ۔

صفحہ 13 از 35