فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 35

حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا :’’ کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟ حضرت نے فرمایا کیوں نہیں میں ضرور سچا نبی ہوں ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟ فرمایا:’’درست ہے‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم ذلت کو کیوں گوارا کررہے ہیں ؟

آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ کا فرستادہ ہوں ، اور اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔ وہ میرا مددگار ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ہمیں بتایا نہیں کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ پہنچ کر اس کا طواف کریں گے؟

آپ نے فرمایا: ’’یہ ٹھیک ہے۔ کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ امسال ہی طواف کعبہ کریں گے؟‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں ۔

آپ نے فرمایا:’’ تو آپ ضرور خانہ کعبہ جا کر اس کا طواف کریں گے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور کہا:کیا محمد رسول اللہ سچے نبی نہیں ہیں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا :بے شک۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم سچے اور ہمارے دشمن جھوٹے نہیں ہیں ؟

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ درست ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم ذلت کیوں گوارا کریں ؟

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انسان! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور حکم ربانی کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اللہ ان کا ناصر ہے۔ لہٰذا ان کی رکاب تھام لیجیے، اللہ کی قسم! وہ حق پر ہیں ۔‘‘

میں نے کہا :’’کیا وہ ہم سے بیان نہ کرتے تھے کہ ہم کعبہ جائیں گے، اور اس کا طواف کریں گے۔

تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں کہا تھا؛ مگر کیا تم سے یہ بھی کہا تھا کہ تم اسی سال کعبہ جاؤ گے ۔

میں نے کہا: یہ تو نہیں کہا تھا۔ ابوبکر نے کہا :پھر تم کعبہ ضرور جاؤگے اور اس کا طواف کروگے۔‘‘

[زہری کہتے ہیں :] ’’ فاروق اعظم کہتے تھے:’’ اس گستاخی کے کفارہ میں میں نے بہت سی عبادتیں کیں ۔‘‘

راوی کا بیان ہے:’’ پھر جب صلح نامہ کی تحریر سے فراغت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا :’’ اٹھو اور سر منڈوالو، اور قربانی پیش کرو۔‘‘

راوی کہتا ہے: اللہ کی قسم! کوئی شخص بھی ان میں سے نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا۔ جب ان میں سے کوئی نہیں اٹھا، تو آپ خود ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ اور ان سے یہ سب پورا واقعہ بیان کیا، جو لوگوں سے آپ کو پیش آیا تھا۔ 

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ یہ بات چاہتے ہیں ، تو اچھا ذرا آپ باہر تشریف لیجائیے۔ اور ان میں سے کسی کے ساتھ کلام نہ کیجئے ۔یہاں تک کہ آپ اپنے قربانی کے جانورں کی قربانی کردیجئے اور سر مونڈنے والے کو بلائیے تاکہ وہ آپ کے سر کے بال صاف کر دے۔

چنانچہ آپ باہر تشریف لائے اور ان میں سے کسی سے کچھ گفتگو نہیں کی، یہاں تک کہ آپ نے سب کچھ پورا کرلیا، یعنی قربانی کے جانور قربان کردیئے اور اپنا سر بھی مونڈوالیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب یہ دیکھا تو اٹھے اور انہوں نے قربانیاں کیں ۔ایک نے دوسرے کا سر مونڈ دیا۔ اژدہام کی وجہ سے عین ممکن تھا کہ ایک دوسرے کو مار ڈالے، (اس کے بعد)آپ کے پاس کچھ مسلمان عورتیں آئیں تو اللہ نے آیت نازل فرمائی :

﴿ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِذَا جَائَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِِیْمَانِہِنَّاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِِیْمَانِہِنَّ فَاِِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِِلَی الْکُفَّارِ ........وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ﴾ [الممتحنۃ ۱۰]

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو، اللہ ان کے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے ۔پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، ........اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔‘‘ تک نازل فرمائی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن دو مشرک عورتوں کو جو ان کے نکاح میں تھیں طلاق دیدی۔ ان میں سے ایک کے ساتھ تو معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کرلیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ لوٹ کر آئے تو ابوبصیر رضی اللہ عنہ جو قریشی نسل تھے؛آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے؛وہ مسلمان تھے۔ کفار نے ان کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوا بھیجا کہ ہم سے جو معاہدہ آپ نے کیا ہے اس کا خیال کریں ۔ چنانچہ آپ نے ابوبصیر کو ان دونوں کے حوالہ کردیا۔

وہ دونوں ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو لے کر چلے جب ذوالحلیفہ میں پہنچے؛ تو وہ لوگ اترکے اپنے چھوارے کھانے لگے ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک شخص سے کہا :’’ اے فلاں اللہ کی قسم تیری تلوار بہت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اس شخص نے نیام سے اپنی تلوار نکالی؛ اور کہا : ہاں اللہ کی قسم !یہ تلوار بہت عمدہ ہے میں نے اس کو کئی مرتبہ آزمایا ہے۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے دکھلاؤ۔ میں بھی اسے دیکھوں ۔

چنانچہ وہ تلوار اس نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو دیدی؛ ابوبصیر نے اسی سے اس کو مار ڈالا اور اس کو ٹھنڈا کردیا۔ لیکن دوسرا شخص بھاگ گیا اور مدینہ آکر ڈرتا ہوا مسجد میں گھس گیا ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو فرمایا: ’’ یہ کچھ خوف زدہ ہے۔‘‘ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو اس نے کہا :’’ اللہ کی قسم !میرا ساتھی قتل کردیا گیا؛ اور قریب تھا کہ میں بھی قتل کردیا جاتا۔‘‘

پھر حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ آئے ؛اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم !اللہ نے آپ کو بری کردیا آپ تو مجھے کفار کی طرف واپس کر چکے تھے؛ لیکن اللہ نے مجھے ان کافروں سے نجات دی ۔‘‘

صفحہ 14 از 35