فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 15 از 35

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ لڑائی کی آگ ہے اگر کوئی مقتول کا مددگار ہوتا ‘تو یہ آگ بھڑک اٹھتی۔‘‘ جب یہ بات ابوبصیر نے سنی تو سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں کفار کی طرف واپس کردیں گے لہٰذا ۔وہ چلے گئے یہاں تک کہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔

اور اس طرف سے ابوجندل سہیل رضی اللہ عنہ بھی چھوٹ کر آرہے تھے؛ راستہ میں وہ بھی ابوبصیر سے مل گئے یہاں تک کہ جو قریشی مسلمان ہو کر آتا ابوبصیر سے مل جاتا۔ آخرکار ان سب کی ایک ٹولی ہوگئی۔ اللہ کی قسم! جب وہ کسی قافلہ کی خبر سنتے تھے کہ وہ شام کی طرف سے آرہا ہے تو وہ اس کی گھات میں لگ جاتے؛ اور ان کے آدمیوں کو قتل کردیتے اور ان کا مال لوٹ لیتے ۔

آخرکار قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو بھیجا اور آپ کو اللہ کا اور اپنی قرابت کا واسطہ دیا کہ آپ ابوبصیر کو ان باتوں سے منع کریں آئندہ سے جو شخص آپ کے پاس مسلمان ہو کر آئے وہ بے خوف ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو منع کرا بھیجا اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ....إلی قولہ تعالیٰ ....الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ﴾ [الفتح ۲۴۔۲۶]

’’ وہی ہے جس نے کافروں کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے....ضد رکھ لی، جو جاہلیت کی ضد تھی۔‘‘ تک نازل فرما کر ان کے تعصب کے اس حال کو ظاہر کیا ۔

ان کی جاہلیت یہ تھی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کا مضمون قائم رکھا اور نہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو قائم رکھا بلکہ مسلمانوں اور کعبہ کے درمیان حائل ہوگئے۔‘‘

امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن محمد المسندی سے وہ عبدالرزاق سے وہ أحمد سے وہ عبدالرزاق سے روایت کرتے ہیں ؛ آپ امام بخاری کے اساتذہ میں سے جلیل القدر شیخ ہیں ۔ان کی روایت میں جو الفاظ زیادہ ہیں وہ امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں ثابت ہیں ۔

صحیحین میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صلح نامہ لکھا اور لکھا:’’ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘

مشرکوں نے اعتراض کیا اور کہا:’’ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ لکھو؛ اگر تم اللہ کے رسول ہوتے تو ہم تم سے جنگ نہ کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کو مٹا دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ میں تو اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ 

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے اس کو مٹا ڈالا ۔ اور ان لوگوں سے اس بات پر صلح کی کہ آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تین دن تک مکہ میں رہیں گے اور وہاں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ہتھیار جلبان میں ہوں گے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جلبان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیام اور وہ چیز جو اس میں ہے۔‘‘[صحیح بخاری: کتاب الصلح ‘ باب : کیف یکتب ہذا ما صالح فلان ابن فلان ....؛ ح 2538۔ مسلم کتاب الجہاد والسیر ‘ باب صلح الحدیبیۃ ۳؍۱۴۰۹۔ سنن أبي داؤد کتاب المناسک ‘ باب المحرم یحمل السلاح۴؍۲۸۹۔]

صحیحین میں حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ ہم لوگ جنگ صفین میں شریک و موجود تھے کہ سہل بن حنیف نے کھڑے ہو کر کہا :لوگو! تم اپنی رائے کا قصور سمجھو ۔ہم لوگ تو جنگ حدیبیہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ۔اگر جنگ کی ضرورت دیکھتے تو ضرور لڑتے ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی۔ جہاں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سرور عالم سے کہا تھا: یا رسول اللہ!کیا ہم حق پر اور یہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ ارشاد ہوا: ہاں !

پھرانہوں نے کہا :کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مرے ہوئے لوگ دوزخ میں نہیں ہیں ؟

ارشاد ہوا:ہاں ! تو اس کے بعد انہوں نے پھر پوچھا بتائیے :تو پھر ہم اپنے مذہب کے بارے میں ان لوگوں سے کمزوریوں کو قبول کیوں کریں اور دین میں ان سے کیوں دبیں اور قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور ان کا فیصلہ کرے؛ کیا ہم واپس ہو جائیں ؟

تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب!میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے کبھی رسوا و ذلیل نہیں کرے گا۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے صبر نہ ہوسکا اور غصہ ہی کی حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا:

اے ابوبکر!کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا :کیوں نہیں ۔

کہنے لگے :’’کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ۔

عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے :’’پھر ہم کس وجہ سے اپنے دین میں کمزوری قبول کریں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا؟

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ‘اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سور فتح نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہی سے وہ آیات پڑھوائیں ؛ تو انہوں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ فتح ہے آپ نے فرمایا جی ہاں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دلی طور پر خوش ہو کر لوٹ گئے۔‘‘[صحیح مسلم: ح:136 ۔ صحیح بخاری:ح:427۔]

[رائے کی غلطی]:

مسلم کی ایک روایت میں ہے: [حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا]: اے لوگو! اپنی رائے کو غلط سمجھو؛ اللہ کی قسم! ابوجندل کے دن کا واقعہ میرے سامنے ہے اگر مجھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر سے لوٹا دینے کی طاقت ہوتی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوٹا دیتا۔

ایک روایت کے الفاظ ہیں :’’ اللہ کی قسم ہم نے اپنی تلواریں کسی کام کے لیے اپنے کندھوں پر کبھی نہیں رکھیں مگر یہ کہ ان تلواروں نے ہمارے کام کو ہمارے لیے آسان بنا دیا البتہ یہ معاملہ ( آسان )نہیں ہوتا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح:137۔]

صفحہ 15 از 35