فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 35

اور ایک روایت میں آپ فرماتے ہیں :

’’[ (مگر اس جنگ صفین)کا عجیب حال ہے کہ] ہم ایک کام کو سنبھالتے ہیں تو دوسرا بگڑ جاتا ہے ہم حیران ہیں کہ اس کے انسداد کی کیا تدبیر کریں ۔‘‘[صحیح مسلم:ح:139۔صحیح بخاری: ح:1370۔]

یہ جملے آپ نے صفین کے موقع پر اس وقت ارشاد فرمائے جب حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما اور ان کے اصحاب کے مابین صلح کی وجہ سے خوارج کا ظہور ہوا۔

عمرہ حدیبیہ کے موقع کی یہ تمام ایسی روایات ہیں جن کے صحیح ہونے پر اہل علم محدثین کااتفاق ہے؛ اور ان سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خصوصیت ظاہر ہوتی ہے۔اس خصوصیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی دوسرا آپ کا شریک و سہیم نہیں ؛ نہ ہی حضرت عمر ‘ نہ ہی علی اور نہ ہی ان دونوں کے علاوہ کوئی۔

ان میں اللہ اور اس کے رسول پر آپ سے بڑھ کر ایمان رکھنے والا اور اللہ اور اس کے رسول کا آپ سے بڑا اطاعت گزار کوئی دوسرا نہیں تھا۔اور نہ ہی شوری میں آپ سے پہلے کوئی دوسرا بولتا تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف آپ کی رائے پر بہت بڑے کارناموں میں فیصلے کیا کرتے تھے۔ اور آپ ہی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں کلام شروع کیا کرتے ۔اور آپ ہی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود گی میں فتوی دیا کرتے تھے؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس فتوی کی تائید فرماتے اور اسے برقرار رکھتے تھے۔ یہ مقام و مرتبہ آپ کے علاوہ کسی دوسر ے کے حصہ میں نہیں آیا۔

جب بنو خراعہ میں سے آپ کا جاسوس حاضر خدمت ہوا‘اور یہ بتایا کہ :’’ میں اپنے پیچھے قریش کواس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی نے بہت سے قبائل اور حبشیوں اوردیگر جماعتوں کو آپ سے لڑنے کے لیے اکٹھا کیا ہے؛ وہ آپ سے لڑیں گے اور بیت اللہ اللہ تک پہنچنے سے روکیں گے۔‘‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: لوگو!مجھے اس معاملہ میں بتاؤ کہ کیا کرنا چاہئے ؟کیا کافروں کے اہل و عیال پر ٹوٹ پڑیں اور ان کو تباہ کردیں ؛یا پھر ہم بیت اللہ کی طرف سفر جاری رکھیں ‘ اور جو ہماری راہ میں رکاوٹ بنیں اس سے لڑیں ۔ 

اس موقعہ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! ہم تو صرف اللہ کے گھر کا ارادہ کرکے حاضر ہوئے ہیں کسی سے لڑنا اور مارنا یا اسے لوٹنا ہماری غرض نہیں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلیں اگر کوئی ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بنے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’پھر اٹھو اور اللہ کا نام لے کر چلو۔‘‘

اور ایسے ہی جب عروہ بن مسعود ثقفی جو کہ قبیلہ بنو ثقیف کا سردار تھا ؛جو کہ قریش کا حلیف قبیلہ تھا؛ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بات چیت کی اور کہا: یہ مختلف گروہوں سے ملے ہوئے لوگ ہیں ‘ اور امام احمد کی روایت کے متعلق اوباش قسم کے لوگ ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو بھاگ جائیں گے اور آپ کو اکیلا چھوڑ دیں گے - ۔ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ)نے یہ سن کر عروہ سے کہا کہ:’’ امصص ببظر اللات‘‘ (تو لات بتنی کی شرمگاہ چوسے)! [حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ’’لات‘‘ بتنی کانام اس لیے لیا تھا کہ عروہ بن مسعود ثقفی کا تعلق بنو ثقیف سے تھا؛ اوریہ قبیلہ اسی بت کا پجاری تھا ۔ لہٰذا حقیقت میں یہ اس معنی میں گالی نہیں ہے جیسے ظاہری الفاظ سے نظر آرہا ہے ‘بلکہ یہ اس کے مشرک ہونے پر اسے عاردلائی جاری ہے کہ اگر تم لوگ مشرک ہوکر بھی یہ سمجھتے ہو کہ سب مل کر ہم سے لڑو گے تو کیا مسلمان موحد ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ۔‘‘تفکر و تدبر علی ہذا التاویل ۔[دراوی جی ]] کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت سے بھاگ جائیں گے، اور انہیں تنہا چھوڑ دیں گے؟

عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ: ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔

عروہ نے کہا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھ پر تمہارا ایک احسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک بدلہ نہیں دیا تو میں ضرور تم کو جواب دیتا ۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس سے پہلے جناب عروہ بن مسعود کے ساتھ کوئی احسان کیا تھا۔ تو اس نے اس احسان کی حرمت کا احساس کرتے ہوئے اس بات پر کوئی جواب نہ دیا۔

اسی لیے علماء کرام رحمہم اللہ میں سے بعض نے کہاہے کہ : ’’ یہ حدیث مصلحت اور ضرورت کے پیش نظر شرمگاہ کا صراحت کے ساتھ نام لینے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ اس کا شمار ممنوعہ فحاشی کے امور میں نہیں ہوتا۔

اور جیساکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جس انسان کو سنو کہ وہ جاہلیت کی طرح کی گریہ و زاری کررہا ہے تو اسے برا بھلا کہو‘ اور اس کی رعایت نہ کرو۔‘‘ [رواہ احمد ]

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو ایسے ہی آہ و بکاکرتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا: ’’اے فلاں ! تمہارے باپ کی ایسی تیسی ....۔‘‘ جب آپ سے کہا گیا کہ : آپ نے یہ کیا کہہ دیا ؟توآپ نے جواب دیا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘‘[مسند أحمد ۵؍۱۳۶۔]

پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ صلح کی تو ظاہری طورپر اس میں مسلمانوں کی ہزیمت اور پسپائی تھی ۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری میں اور اس کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے ایسا ہی کیا؛ آپ کویقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد فرمائیں گے۔حالانکہ باقی اکثر لوگوں کو اس بات پر غصہ آرہا تھا ‘اوران پر یہ بات بہت گراں گزررہی تھی۔ حتی کہ حضرت عمر‘ حضرت علی ‘ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہم [اس بات کو برداشت نہیں کررہے تھے]۔یہی وجہ تھی کہ جب حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے باقی لوگوں پر آپ کی فضیلت کا اظہار کرنے کے لیے تکبیر کہی۔

صفحہ 16 از 35