فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 35

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے افضل و اشرف ہستی ہیں جن پر امیر المؤمنین نے اپنا مال خرچ کیا۔ اور جس مال کے خرچ کرنے کا یہ لوگ دعوی کرتے ہیں تو اس کے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہیں ہوئی ؛ اس سے ان کے دعوی کا جھوٹ ہونا ثابت ہوگیا۔

٭ ’’نماز میں آپ کو امامت کے لیے آگے بڑھانے کی بات غلط ہے۔ اس لیے کہ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دیدی؛ توعائشہ نے حکم دیا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنایا جائے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ راحت ہوئی تو آپ نے تکبیر کی آواز سنی۔توآپ نے پوچھا: لوگوں کونماز کون پڑھا رہا ہے۔کہنے لگے : ابوبکر ۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے باہر لے چلو۔‘‘ حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان چلتے ہوئے باہر نکلے ۔‘‘ آپ نے ابوبکر کو قبلہ سے ہٹا دیا۔اور انہیں امامت سے معزول کرکے خود نماز پڑھانے لگے۔‘‘[یہاں پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختصار سے کام لیاہے۔جب کہ ابن مطہر نے اس کے بعد لکھا ہے:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی نماز پڑھائی ‘ اور پھر منبر پر چڑھے اور مختصر سا خطبہ دیا ‘ اس لیے کہ آپ پر مرض کا غلبہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قول و فعل میں معافی و تلافی چاہی ۔انہیں الوداع کہا اور نصیحت کی۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کیساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کی؛ اور لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کردیا۔پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ اور اپنے بستر مرگ پر دراز ہوگئے۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے لیے ہر طرح کی وصیت کی۔ اور انہیں علوم کی رہنمائی کی۔ اور آپ کے بعد جو کچھ لوگ ان کے ساتھ کریں گے اس پر صبر کرنے کی وصیت کی۔ اورپھر شیوخ اور ان کی مخالفت کا ذکر کیا ۔اور فرمایا: ’’ دیکھنا:جس قدر ہوسکے ان کے مابین ان کا خون بہانے کی کوشش نہ کرنا۔کیونکہ اس سے ان کے مابین فساد زیادہ پھیلے گا۔اور ان کے ساتھ جنگ کرنے سے جھگڑا بڑھے گا۔ اور دین اسلام تنزلی کا شکار ہوگا۔پس تم ان لوگوں کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے مضبوط پناہ گاہ اورفتنوں اور ان کے مابین جھگڑوں سے راہ نجات بن کر رہنا۔اور صرف مسلمانوں کی اصلاح ‘ ایتام؛ بیواؤں کی کفالت اور فرائض و نوافل کی ادائیگی تک محدود ہوکر نہ رہ جانا ۔‘‘]

رافضی [سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے ] کہتا ہے: ’’ ان لوگوں کے دلائل کا یہ حال ہے۔عقل مند کو چاہیے کہ وہ انصاف کی نظر سے دیکھے اور اتباع حق کا قصد کرے۔اتباع ہوی سے باز آئے۔ اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو ترک کردے۔ 

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسا کرنے سے منع کیا ہے ۔پس دنیا انہیں حق کو مستحق تک پہنچانے سے غافل نہ کردے۔ اور نہ ہی مستحق سے اس کا حق روکے۔ یہ آخری بات ہے جو ثابت کرنا اس مقدمہ میں ہمارا مقصود تھا۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[سلسلہ وار جوابات ]

جواب:اس سے یہ کہا جائے گا کہ:’’اس کلام میں اتنا زیادہ جھوٹ اور افتراء پرداوی ہے اور بہتان تراشی ہے کہ اتنا جھوٹ اسلامی فرقوں میں سے کسی ایک بھی دوسرے فرقہ کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ رافضی یہودیوں سے بہت زیادہ قوی مشابہت رکھتے ہیں ۔ اوریہودی بہتان تراش قوم ہیں ۔جو چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں سے پھونکیں مار کر اللہ تعالیٰ کے نور کو گل کردیں ‘مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے نور کو پورا کرنے کا ہے بھلے یہ بات کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرتی ہو۔ 

٭ باقی صحابہ کرام پر ائمہ اسلام حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت و عظمت ہرادنی عقل رکھنے والے انسان پر بھی ظاہر ہے۔ مگر رافضی حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنا چاہتے ۔ یہ لوگ ان آیات کے مصداق ہیں :

﴿فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلٰی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِِذْ جَائَہُ ﴾ [الزمر۳۲]

’’پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچ کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان گرامی ہے :

﴿فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴾ [یونس ۱۷]

’’پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔‘‘

ان کے علاوہ اس طرح کی دوسری آیات بھی ہیں ۔

رافضی تمام فرقوں سے زیادہ حق بات کو جھٹلانے والے اور جھوٹ کی تصدیق کرنے والے ہیں ۔اس باب میں پوری امت میں کوئی دوسرا ان کے برابر نہیں ہوسکتا۔

........[اب سلسلہ وار جوابات دیے جاتے ہیں ]........

[غارکی فضیلت]:

٭ رافضی کا کہنا ہے کہ: ’’ غار کے واقعہ میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔‘‘

٭ ہم شیعہ مصنف کے اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ:’’ غار کے واقعہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت نص قرآنی کی روشنی میں واضح ہوتی ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ ۴۰]

’’ جب وہ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے :گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ساتھی کے ساتھ ہے۔جیسا کہ موسیٰ اور ہارون علیہماالسلام سے فرمایا تھا:

﴿اِنَّنِیْ مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَ اَرٰی﴾ (طہ۴۶)

’’بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں ۔‘‘[ یہ معیت خاصہ ہے]

بخاری و مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’جب ہم غار میں تھے تو میں نے دیکھاکہ دشمنوں کے پاؤں ہمارے سر کے اوپر تھے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان کفار میں سے کوئی اپنے پاؤں پر نظر ڈالے تو ہم کو دیکھ لے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 2 از 35