فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 21 از 35

8۔ جس حدیث میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جب عقبہ بن ابی معیط نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں چادر ڈالی تھی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو چھڑایا؛ آپ نے اس وقت فرمایا تھا: ﴿ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّی اللّٰہُ ﴾۔[غافر ۲۸]

’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ۔‘‘[صحیح بخاری(۳۶۷۸)]

9۔ جس حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام صلوٰۃ [صحیح بخاری(۶۷۸)،صحیح مسلم (۴۱۸) ] اور امیر حج مقرر کرنے کا واقعہ مذکورہ ہے۔[البخاری(۴۳۶۳)،صحیح مسلم(۱۳۴۱) ]

10۔ وہ حدیث جس میں وفات رسول کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صبروثبات اوراستقلال اور امت کی فرماں برداری کا ذکر کیا گیا ہے۔[صحیح بخاری(۳۶۶۷،۳۶۶۸) ]

11۔ وہ حدیث جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ان اعمال صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ نے ایک دن میں انجام دیے تھے؛ جس بھی انسان میں یہ تمام خصائل پائے جائیں ‘ اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔[صحیح مسلم (۱۰۲۸)۔]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کچھ فضائل ایسے بھی ہیں جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سہیم و شریک ہیں ، چنانچہ یہ احادیث نبویہ ملاحظہ ہوں :

11۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ یہ حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:’’ میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما آئے میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما گئے۔‘‘[البخاری،باب مناقب علی رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۷۰۶)، مسلم، باب من فضائل علی بن ابی طالب(ح۲۴۰۴)۔ ]

2۔ وہ حدیث جس میں کنوئیں سے پانی کھینچنے کا ذکر ہے۔[ بخاری،حوالہ سابق، (ح:۳۷۰۱)،صحیح مسلم۔حوالہ سابق (حدیث:۲۴۰۹)۔ ]

3۔ وہ گائے والی حدیث کہ:جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’ میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔[صحیح مسلم، کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار وعلی رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۷۸)۔]ان کی مثالیں اور بھی ہیں ۔

صحاح ستہ میں فضائل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیثیں صحیح ہیں :

۱۔ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ حضرت ہارون کوحضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہے بس یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

۲۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ کل میں ایک شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوگا ‘ اور جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں گے۔‘‘

۲۔ مباہلہ میں آپ کا داخل کیا جانا۔

۳۔ ایسے ہی حدیث کساء [چادر میں ڈھانکنے والی روایت ]۔

۴۔ ایسے ہی یہ روایت : فرمایا: ’’ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ ۔‘‘’’تم مجھ سے ہو ‘اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘لیکن اس میں آپ کی فضیلت ہے خصوصیت نہیں ۔اور ایسے ہی یہ آنے والے حدیث:

۵۔ یہ صفت جو کہ ہر مؤمن و مسلمان کے لیے واجب اور باعث فضیلت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عہد ہے کہ :

’’صرف مومن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کریں گے اورصرف منافق آپ سے بغض رکھیں گے ۔‘‘

۶۔ وہ روایت جس میں اراکین شوری کا ذکر ہے ۔

۷۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خبر دینا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو وہ حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت سعد اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہم سے راضی تھے۔[سبق تخریجہ] 

خاص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل کے متعلق صحاح ستہ میں وارد ہونے والی احادیث کی مجموعی تعداد دس تک پہنچتی ہے۔ان کے علاوہ بھی دیگر روایات ہیں مگر وہ آپ کے ساتھ مختص نہیں ۔ صحاح میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق بیس احادیث مذکور ہیں ، ان میں سے اکثر میں آپ کے خصائص بیان کیے گئے ہیں ۔

جو انسان یہ کہتا ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے صحیح سند کے ساتھ اتنے فضائل ثابت ہیں جو کسی دوسرے کے لیے نہیں ؛ تووہ جھوٹ بولتا ہے۔ یہ بات امام احمد اور دوسرے ائمہ و محدثین نے نہیں کہی۔آپ کے حق میں بھی وہی روایات وارد ہوئی ہیں جو کہ آپ جیسے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لیے ہیں ۔لیکن ان میں اکثر روایات ایسی ہیں جن کا جھوٹ اور غلط ہونا سب کو معلوم ہے۔ ایک ایسی دلیل جو صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو؛اور کسی بھی معارض سے خالی ہو ‘ وہ ان بیس دلیلوں سے بہتر ہے جن کے مقدمات باطل پر اور اسناد کمزور ہوں ۔ اوروہ ایسی صحیح احادیث سے ٹکراتی ہو جو کہ اس کے متناقض ہو۔

یہاں پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صحبت ایمانی میں وہ اختصاص حاصل ہے جس میں مخلوق میں سے کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ نہ ہی قدر کے اعتبار سے نہ ہی صفت کے اعتبار سے او نہ ہی نفع مندی کے اعتبار سے ۔ اس لیے کہ اگروہ وقت جمع کیا جائے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل بیٹھا کرتے تھے ؛ اور پھر حضرت عثمان و علی اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اجتماع کا وقت جمع کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا جانے والا وقت ان سب کے اوقات سے دوگنا ہی نہیں بلکہ کئی گنا زیادہ ہے۔

جب کہ ان سب کے مابین مشترکہ اوقات کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں ہیں ۔

جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت ‘معرفت؛اور ہر معاملہ میں آپ کی تصدیق یہ سب پرایسے غالب اور ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال کی معرفت رکھنے والے کسی بھی انسان پر مخفی نہیں اور جس انسان کو اس قوم کے احوال کی معرفت نہیں ہے تو اس کی گواہی ناقابل قبول اورمردود ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینی امور میں حاصل ہونے والی معاونت اور نفع کا بھی یہی حال ہے۔

ان امورکا شمار صحبت کے ان مقاصد اور محامد میں سے ہوتا ہے جن کی وجہ سے کسی صحابی کو دوسروں پر فضیلت دی جاسکتی ہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ہر لحاظ سے وہ اقدار و صفات وخصوصیات ثابت میں جن میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں ۔ اس کی دلیل :بخاری و مسلم میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :

صفحہ 21 از 35