فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 22 از 35

’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اسی دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے آئے اور اپنے دونوں زانو ننگے کردیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمہارا ساتھی کسی سے جھگڑ پڑا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد عرض کیا: میرے اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تنازع تھا۔ میں نے جلد بازی سے کام لیا، پھر مجھے ندامت کا احساس ہوا تو میں نے کہا:’’ معاف کردیجیے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے، میں اس مقصد سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے ابوبکر! اللہ تمھیں معاف فرمائے۔‘‘

پھرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نادم ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کو آئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ پاکر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈر کردوبار کہا:اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادتی سرزد ہو ئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہتعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تھا۔ تم نے مجھے جھٹلایا، مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری تصدیق کی اور اپنی جان و مال سے میری ہمدردی کی۔ اب کیا تم میرے رفیق کو میرے لیے رہنے دو گے یا نہیں ؟‘‘

آپ نے دو مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے رنج نہ پہنچایا‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلي اللّٰه عليه وسلم ، باب قول النبی صلي اللّٰه عليه وسلم ’’ لو کنت متخذا خلیلاً(ح:۳۶۶۱)۔]

ایک دوسری روایت میں ہے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان لڑائی ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر غصہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے چل دیئے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی پیچھے ہولیے اور معافی چاہی مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاف نہیں کیا اور دروازہ بند کرلیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے :یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈر کردوبار کہا:اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادتی سرزد ہو ئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہتعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تھا۔ تم نے مجھے جھٹلایا، مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری تصدیق کی۔‘‘ [بخاری]

یہ صحیح حدیث ہے ؛اس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت کی تخصیص ہے ۔ جیسا کہ خود فرمان نبوت سے ظاہر ہے :

’’ اے لوگو! کیا تم میرے لیے میری ساتھی کو نہیں چھوڑو گے۔‘‘ اور پھر اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا تو میں نے نبوت کا اعلا ن کہ: ’’ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں ۔‘‘ تم نے مجھے جھٹلایا ۔ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ سچ فرماتے ہیں ۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی بات کو نہیں جھٹلایا۔اور جب تمام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلارہے تھے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کررہے تھے ۔‘‘

یہ توایک کھلا ہوا معاملہ ہے۔ آپ نے ان تمام لوگوں سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی جن تک رسالت پہنچی تھی۔یہ حق بات ہے کہ آپ پہلے انسان ہیں جن تک جب اللہ کا پیغام پہنچا تو فوراً ایمان لے آئے۔ یہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے موافق ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا: یارسول اللہ ! آپ کے ساتھ اس معاملہ میں اورکون ہے ؟توآپ نے فرمایا: ایک غلام اورایک آزاد ۔ اس دن آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما تھے۔‘‘[مسلم ۱؍۵۶۹؛ نسائی ۱؍۲۸۳] 

جہاں تک حضرت خدیجہ ‘ حضرت زیداور حضرت علی رضی اللہ عنہم کا تعلق اس حدیث کے حوالے سے ہے ‘ توان حضرات کا شمار آپ کے کنبہ کے افراد میں ہوتا تھا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تمام ماجرا سنایا ۔ تو آپ نے تبلیغ کا حکم نازل ہونے سے قبل ہی آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ پر ایمان لانا ابھی واجب نہیں ہوا تھا۔ اس لیے کہ آپ پر ایمان لانا اس وقت سے واجب ہوا ہے جب سے تبلیغ رسالت کا حکم ملا۔ پس تبلیغ رسالت کا حکم ملنے کے بعدآزاد مردوں سب سے پہلے تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اس لیے کہ اس وقت ابھی یہ واجب نہیں ہوا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت بچے تھے؛ اور بچے پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا۔

کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کوتبلیغ رسالت اور ایمان کی دعوت سے پہلے کسی کو تبلیغ کی ہو یا پھر ایمان کی دعوت دی ہو۔لیکن یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پا رہے تھے ؛ جب آپ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ سے اس معاملہ کی خبرملی ہوگی تو آپ بھی تبلیغ رسالت سے قبل ایمان لے آئے ہونگے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ظاہر ہوتا ہے :

’’ اے لوگو! میں تمہاری طرف مبعوث ہوا؛ میں نے اعلان کیا : ’’ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کی طرف سے رسول ہوں ۔ توتم لوگوں نے مجھے جھٹلایا ‘ ابوبکر صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق کی۔‘‘

صفحہ 22 از 35