فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 23 از 35

صحیحین میں بھی اس طرح کی روایت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تبلیغ رسالت پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام لوگوں نے شروع میں آپ کی تکذیب کی تھی۔ اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت زیدو علی رضی اللہ عنہما آپ کے گھر میں تھے۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی تکذیب نہیں کی؛ اس لیے آپ کا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتاجن کو تبلیغ کی گئی ہو۔

یہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت کہ: یارسول اللہ ! آپ کے ساتھ اس معاملہ میں اورکون ہے ؟توآپ نے فرمایا: ایک غلام اورایک آزاد ۔‘‘

یہ مسلم شریف کی دوسری روایات کے موافق ہے۔اس سے مرادیہ ہے کہ : جن کو دعوت دی گئی اور جن تک تبلیغ رسالت کی گئی ان میں یہ دوحضرات شامل تھے۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا : ’’اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال و جان سے میری غمخواری کی ۔‘‘ یہ بھی آپ کی خصوصیت ہے‘ جس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک و سہیم نہیں ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی دیگر متواتر روایات بھی نقل کی گئی ہیں ۔جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ پڑھا، تو فرمایا :

’’ یقین سمجھو کہ اللہ سبحانہ نے ایک بندہ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا(چاہے جس کو پسند کرے) اس نے اس چیز کو اختیار کر لیا، جو اللہ کے ہاں ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر)رونے لگے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ: ایسی کیا چیز ہے، جو اس بوڑھے کو رلا رہی ہے، اگر اللہ نے کسی بندہ کو دنیا کے اور اس عالم کے درمیان میں ، جو اللہ کے ہاں ہے،اس نے اختیار دیا اور اس نے اس عالم کو اختیار کر لیا، جو اللہ کے ہاں ہے(تو اس میں رونے کی کیا بات ہے، مگر آخر میں معلوم ہوا کہ)۔وہ بندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب میں زیادہ علم رکھتے تھے، پھر آپ نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم نہ روو کیونکہ یہ بات یقینی ہے سب لوگوں سے زیادہ مجھ پراحسان کرنے والا اپنی صحبت میں اور اپنے مال میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں اپنی امت میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے لیکن اسلام کی محبت ( کافی ہے)مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازہ کے سوا کسی کے دروازہ کو بے بند نہ چھوڑا جائے۔‘‘[صحیح بخاری:ح 452]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض میں جس مرض میں آپ نے وفات پائی ہے، اپنا سر ایک پٹی سے باندھے ہوئے باہر نکلے اور منبر پر بیٹھ گئے، پھر اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ:

’’لوگو!ابوبکر سے زیادہ اپنی جان اور اپنے مال سے مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا، تو یقیناً ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کی دوستی افضل ہے۔‘‘[صحیح بخاری:ج1:ح453]

دوسری روایت میں ہے : ’’ میں اپنی امت میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے لیکن اسلامی بھائی چارہ ہی کافی ہے ۔‘‘اور ایک روایت میں ہے: ’’ لیکن آپ میرے بھائی اور میرے صحابی ہیں ۔‘‘

ان تمام روایات سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت کے فضائل و اختصاص آپ کے مناقب ؛دعوت میں کردار ‘ اور ادائے حقوق میں آپ کی وہ خصوصیات واضح ہوتی ہیں جن میں کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ہے۔ حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گوناگوں اوصاف و محامد کی بناپر خلیل رسول (آپ کے گہرے دوست) تھے۔ بشرطیکہ بنی نوع انسان میں آپ کا کوئی خلیل موجود ہو۔یہ تمام نصوص صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کہ : جناب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام مخلوق خدامیں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب اور آپ کے نزدیک سب سے افضل تھے۔جیسا کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو غزوہ ذات السلاسل پر بھیجا۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا :

’’ یارسول اللہ ! ازواج مطہرات میں سے آپ کو کون عزیز تر ہے؟ آپ نے جواباً فرمایا:’’عائشہ رضی اللہ عنہا ۔ ‘‘ میں نے عرض کیا اور مردوں میں سے آپ کس کے ساتھ زیادہ محبت رکھتے ہیں ؟

فرمایا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔‘‘

میں نے عرض کیا ان کے بعد اور کس سے ؟ فرمایا:’’ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔‘‘

اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ دریافت کرتے چلے گئے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درجہ بدرجہ متعدد صحابہ کا ذکر کیا ۔[صحیح بخاری۔ باب غزوۃ ذات السلاسل،(ح:۴۳۵۸) صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۴)۔]

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے: حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں اس اندیشہ کے تحت خاموش ہوگیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے آخر میں نہ کر دیں۔‘‘[بخاری ۵؍۵؛ مسلم ۴؍۱۸۵۶] 

زیر تبصرہ آیت کی مزید توضیح:

٭ اس کی مزید وضاحت اس آیت قرآنی میں غار کے واقعہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے کہ اس وقت میں جب کہ باقی تمام مخلوق آپ کی مدد سے عاجز آگئی ؛ اس وقت اس شخصیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جنہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید حاصل تھی۔ جیسا کہ آیت کریمہ میں ہے :

﴿اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ﴾ [التوبۃ۴۰]

’’اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے ۔‘‘

یعنی اس حالت میں آپ کو نکالا گیا جب آپ کے ساتھ صرف ایک آدمی کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اس لیے کہ ایک سب سے آخری کم عدد ہے جو کہ انتہائی قلت پر دلالت کرتاہے۔ پھر اس کے بعد ارشادفرمایا:

﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ۴۰]

’’جب آپ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

صفحہ 23 از 35