فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 24 از 35

آیت کھل کر دلالت کررہی ہے کہ آپ کے ساتھی کو آپ کے بارے میں خوف تھا؛ وہ آپ سے سچی محبت کرنے والے اور سچے مدد گار تھے ؛اسی لیے آپ کے معاملہ میں غمگین ہورہے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حالت خوف میں انسان اسی چیز پر غمگین ہوتا ہے جو اسے محبوب ہو۔ جب کہ اگر دشمن کی ہلاکت کے اسباب پیش ہورہے ہوں توپھر اس پر کوئی غمگین نہیں ہوتا ۔

اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہوتے، جیسا کہ روافض کہتے ہیں ، تو وہ دشمن کی آمد پر ہمّ و غم کی بجائے فرح و سرور کا اظہار کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپ سے یہ نہ فرماتے :’’غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اظہار غم کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اللہ تعالیٰ کی حفاظت ونصرت ان کے شامل حال ہے۔‘‘[البخاری(۳۶۵۲)، مسلم( الزھد:۲۰۰۹)۔]

پس یہ خبر دی جاری ہے کہ : اللہ تعالیٰ ان دونوں کیساتھ ہے اور ان کی مدد کررہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ اور اہل ایمان کے لیے اس حالت میں نصرت الٰہی کی خبر دیں کہ وہ باطن میں منافق ہوں ۔اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی بھی خبر دینے میں معصوم ہیں ۔آپ حق کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔یہ بات اگرچہ جائزہے کہ آپ پر بعض لوگوں کا حال مخفی رہ جائے ؛ مگر اس سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ لوگ منافق ہی ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ ﴾ [التوبۃ۱۰۱] 

’’اور کچھ تمہارے گردو پیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ، آپ ان کو نہیں جانتے ان کو ہم جانتے ہیں ۔‘‘

پس ان لوگوں کے متعلق ایسی خبردینا جائز نہیں جو ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تبوک والے سال جب پیچھے رہ جانے والے اپنے عذر پیش کرتے ہوئے قسمیں اٹھاتے ہوئے آئے؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ظاہری باتوں کو قبول فرماتے رہے۔اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کرتے رہے۔ لیکن آپ نے ان میں سے کسی ایک تصدیق نہیں فرمائی۔ مگر جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ پیش خدمت ہوئے اور اپنا معاملہ سچائی کے ساتھ پیش کردیا تو آپ نے فرمایا: ’’ اس انسان نے سچ کہا۔‘‘

یا یہ الفاظ ارشاد فرمائے:’’ ان نے تم سے سچی بات کہی ۔‘‘[بخاری ۶؍۷؛ مسلم ۴؍۲۱۲۰]

ایسے ہی حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:

’’آپ نے فلاں اور فلاں کو تو دیا ‘ مگر فلاں انسان کو چھوڑ دیا حالانکہ وہ مؤمن ہے ۔‘‘[سنن أبی داؤد ‘ کتاب السنۃ ‘ باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان ونقصانہ ۴؍۳۰۴۔ سنن نسائی ‘کتاب الإیمان وشرائعہ باب تأویل قول اللّٰہ: قالت الأعراب آمنا۔۸؍۱۰۳....]

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’[مؤمن ہے ]یا مسلم ہے ؟‘‘آپ نے دو یا تین بار یہ کلمات دھرائے۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی خبر دینے کاانکار کیا اور ان کے بارے میں صرف ظاہری اسلام کے علم کا ہی اظہار کیا ۔

تو پھر آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیسے یہ فرماسکتے تھے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے ؛ اوراس کا کوئی علم آپ کو نہ ہوتا ۔ بغیر علم کے بات کرنا جائز نہیں ۔مزید برآں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو برقرار رکھا ہے؛ اس کا انکار نہیں کیا۔پس اس سے معلوم ہوا کہ : یہ فرمانا: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔’’ بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘ وہ سچی خبر ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا اور اس پر راضی رہا۔ان اخبار میں سے نہیں جن کا انکار کیا ہو‘اور عیب لگایا ہو۔ 

مزید برآں یہ بھی معلوم ہے کہ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ ایک شخص جو ہر طرف سے دشمنوں کے نرغہ میں ہو، اور تمام لوگ اس کے دشمن ہو‘ اور اسے قتل کرنا چاہتے ہوں ؛ اس انسان کے عزیز و اقارب و رشتہ دار اس کی مدد و نصرت پر قادر نہ ہوں ؛ایسا شخص دوران سفر اپنی رفاقت کے لیے کسی ایسے شخص کا انتخاب کیسے کرسکتا ہے جو باقی لوگوں میں سے اکیلا محبت و دوستی اور غم وپریشانی کا اظہار کررہا ہو‘ لیکن باطن میں وہ پکا دشمن ہو۔اور ساتھ لے جانے والا یہ گمان کررہا ہو کہ وہ میرا دوست اور غمخوارہے۔ایسا تو کوئی بیوقوف ترین انسان بھی نہیں کرسکتا۔ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو جو اپنے کامل و اکمل باعلم و خبردار و ہوشیاررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی جہالت و حماقت منسوب کرتے ہیں جس کا ارتکاب کوئی ادنی اور جاہل انسان بھی نہیں کرسکتا۔[یا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاہل و غبی تصور کرتے ہیں ]۔

مغل بادشاہ خدا بندہ کا عجیب قصہ :

مجھے مغل بادشاہ خدا بندہ ؛ جس کے لیے رافضی مصنف نے یہ کتاب تألیف کی تھی؛ اس کے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ : جب اس کتاب کے رافضی مصنف نے اس کے سامنے اپنا جھوٹا کلام پیش کیا ؛ اور ابو بکر پر زبان طعن دراز کی ؛ اور کہا: ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اورآپ سے بغض رکھتے تھے؛ مگر اس کے ساتھ رافضی یہ بھی کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سب سے عظیم سفر سفرہجرت میں آپ کو خوف کی وجہ سے اپنے ساتھ ہمراہی بنایا ۔تو اس کے جواب میں اس بادشاہ نے ایسی بات کہی جس کے بعد ان روافض کو ایسے بیہودہ جھوٹ گھڑنے اور بولنے سے رک جانا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی باتوں سے مبراء و منزہ رکھاہے۔لیکن رافضیوں کے اس من گھڑت جھوٹ نے اسے یہ کلمہ کہنے پر مجبور کیا ؛ اس نے کہا: ’’ پھر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم عقل تھے ۔‘‘ [معاذ اللّٰہ] ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی رافضیوں کی بتائی ہوئی باتوں پر چلتا ہے وہ قلیل العقل ہی ہوتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اورصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ایسی باتوں سے بری رکھا ہے۔

صفحہ 24 از 35