فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 25 از 35

اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ رافضیوں کے کلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں قدح لازم آتی ہے۔

صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عموم و خصوص:

یہ بات واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی عموم و خصوص ہے۔جیسا کہ محبت اور ولایت میں اور ایمان میں اور ان دوسری صفات میں ہوتا ہے جن میں قدر ‘ نوع اور صفات کے اعتبار سے لوگ آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں ۔اس کی دلیل صحیح بخاری کی روایت ہے ؛حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے مابین کچھ اختلاف ہوگیا‘ تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کوکچھ برا بھلا کہہ دیا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میرے اصحاب کو برا نہ کہو اس لیے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد(سیر بھر وزن)یا آدھے(کے ثواب) کے برابر بھی(ثواب کو) نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[صحیح بخاری:ج2:ح887]

خالد و عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کانام لینے میں امام مسلم منفرد ہیں ۔یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور ان جیسے دوسرے لوگوں سے فرما رہے ہیں میرے صحابہ کوبرابھلا نہ کہو۔یعنی عبدالرحمن بن عوف اور ان کے امثال کو ۔ اس لیے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے امثال سابقین اولین میں سے ہیں جو کہ فتح سے پہلے ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔یہ لوگ اہل بیعت رضوان ہیں ۔یہ حضرات ان لوگوں کی نسبت خاص ہیں اورافضل ہیں جو صلح حدیبیہ ؛یعنی اہل مکہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصالحت ‘کے بعد اسلام لائے ۔ان میں حضرت خالد بن ولید ‘ عمرو بن العاص ‘ اور عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہم اور ان کے امثال صحابہ شامل ہیں ۔یہ ان لوگوں کی نسبت سبقت رکھتے ہیں جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے؛ اور انہیں طلقاء کا نام دیا گیا؛ جیساکہ سہیل بن عمرو ؛ حارث بن ہشام؛ ابو سفیان بن حرب ؛ اور اس کے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ ؛ اور ابو سفیان بن الحارث؛ عکرمہ بن ابی جہل؛ اورصفوان بن امیہ رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام۔حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی تو جو علم کے لحاظ سے ان لوگوں پر سبقت لے گئے جو ان سے پہلے ایمان لائے تھے۔جیسا کہ حارث بن ہشام؛ ابو سفیان بن حارث ‘اور سہیل بن عمرو ۔یہ حضرات ان بعض لوگوں پر سبقت لے گئے تھے جو فتح سے پہلے ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے سے پہلے ایمان لانے والے کئی لوگوں پر علمی لحاظ سے سبقت لے گئے تھے۔

یہاں پر مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں صحبت کا شرف پانے والوں کو روک دیا تھا کہ وہ پہلے ایمان لانے والوں کی دل آزاری کریں ۔اس لیے کہ یہ لوگ پرانی اورسابق صحبت کی وجہ سے ایسی خصوصیت و امتیازیت رکھتے ہیں جس میں دوسرے لوگوں کے لیے ان کا سہیم و شریک ہونا ممکن نہیں ۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمادیا: ’’ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد(سیر بھر وزن)یا آدھے(کے ثواب) کے برابر بھی(ثواب کو) نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

جب یہ حال ان لوگوں کا ہے جو فتح کے بعد اسلام لائے اوراللہ کی راہ میں جہاد کیا۔یہ لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لانے اور جہاد کرنے والے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [اصحاب سابقین] کے تابعین میں سے ہیں ۔تو پھر اس انسان کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کیسے کیا جاسکتا ہے جس کا شمار کسی طرح سے بھی صحابہ میں نہ ہوتا ہو؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ’’میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو‘‘صحیحین میں کئی اسناد سے ثابت ہے۔ان میں سے ایک یہی سابقہ سند ہے جوکہ گزر چکی۔صحیح مسلم میں یہی روایت بعینہٖ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! ، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو ان کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[سبق تخریجہ]

نبوت و صداقت کی رفاقت اوررافضی حسد:

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے رفیق سفر بنایا ہو کہ مبادا وہ آپ کے معاملہ کو ظاہر کردے۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں یہ چند وجوہ کی بنا پر باطل ہے۔

پہلی وجہ:....قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے الفت و محبت کا سلوک کرتے تھے۔ ان کے مابین کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اس سے رافضی کا [دشمنی اور بغض کا]دعوی باطل ثابت ہوگیا۔

دوسری وجہ:....حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مومن و محب رسول ہونا تواتر معنوی کے ساتھ معلوم ہے۔اوریہ کہ آپ کو تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل تھی۔یہ تواتر اور اس کی شہرت حاتم طائی کی سخاوت اورعنترہ کی شجاعت؛اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور موالات کے تواتر سے بھی زیادہ ہے۔ان کے علاوہ دیگر بھی معنوی تواترات ہیں جن میں تمام اخبار و روایات کا ایک مقصود پر اتفاق ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی محبت میں شک کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بھی دوسرے کی محبت میں شک کرنا ‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔، مگرروافض کے تعصب و عناد کا کیا علاج؟روافض کے عناد کا یہ عالم ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما حجرہ نبویہ میں مدفون ہیں ۔اور بعض آپ کے ساتھ غار میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے موجود ہونے کا انکار کرتے ہیں ۔ مگر رافضی قوم سے اس طرح کی بہتان تراشی کوبعید نہیں ہے ۔ اس لیے کہ روافض بہتان تراش قوم ہیں جو ایسی چیزوں کاانکار کرتے ہیں جن کا ثابت ہونا ضرورت کے تحت معلوم ہے ‘ اور معقولات و منقولات ایسی چیزوں کو ثابت کرنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جن کا منفی ہونا ضرورت کے تحت معلوم ہے۔

صفحہ 25 از 35