فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 27 از 35

اگر شیعہ یہ کہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غالباً آپ کے گھر سے نکلنے کا علم ہوگیا تھا ۔تو ہم کہیں گے کہ:آپ کے لیے کسی ایسے وقت میں نکلنا ممکن تھا جب کسی کو علم نہ ہوپاتا۔ جس طرح مشرکین مکہ کو آپ کے گھر سے نکلنے کا علم نہ تھا اسی طرح آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی اس ارادہ کو پوشیدہ رکھ سکتے تھے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ممکن تھا کہ آپ سے کوئی مدد نہ لیتے۔اور یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ بخاری ومسلم میں ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت نہ دی؛بلکہ فرمایا ذرا صبر کیجیے، آپ میرے ساتھ ہجرت کریں گے۔پھر ان دونوں حضرات نے اکٹھے ہجرت کی۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلوت کی حالت میں پہلے سے آپ کو ہجرت کی اطلاع دے دی تھی۔

[سفر ہجرت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رفاقت]:

بخاری ومسلم میں ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا ذرا صبر کیجیے، آپ میرے ساتھ ہجرت کریں گے۔[البخاری، کتاب مناقب الانصار۔باب ھجرۃ النبی رضی اللّٰہ عنہم واصحابہ الی المدینۃ (ح:۳۹۰۵) ]

صحیحین میں حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں :

’’(ایک دن)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس گھر تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا پھر فرمایا:

اپنے بیٹے سے کہہ دو کہ وہ اس کو میرے ساتھ میرے گھر تک لے چلے۔میں وہ کجاوہ اٹھاکر چلا؛ اور میرے والد اس کی قیمت وصول کرنے کے لیے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ پھر ان سے میرے والد نے کہا :

’’مجھے بتلائیے جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کو چلے تھے تو اس وقت آپ دونوں پر کیا گزری۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام (حدیث: ۳۶۱۵)، صحیح مسلم۔ کتاب الزہد، باب فی حدیث الھجرۃ(حدیث:۷۵؍۲۰۰۹)۔]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ:(غار سے نکل کر)ہم ساری رات چلے اور دوسرے دن بھی آدھے دن تک سفر کرتے رہے۔ جب دوپہر ہوگئی اور راستہ بالکل خالی ہو گیا اس پر کوئی شخص چلنے والا نہ رہا تو ہم کو ایک بڑا پتھر نظر آیا جس کے نیچے سایہ تھا دھوپ نہ تھی ہم اس کے پاس اتر پڑے۔اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھوں سے صاف و ہموار کر دی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سو رہیں ۔ پھر اس پر ایک پوستین بچھا کر عرض کیا: یا رسول اللہ!آپ تھوڑی دیر کے لیے آرام فرمائیے اور میں ڈھونڈ کر ادھر ادھر سے دودھ لاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے اور میں دودھ لینے کے لیے ادھر ادھر چلا۔ ناگہاں میں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو اپنی بکریاں لیے ہوئے اسی پتھر کی طرف آ رہا تھا وہ بھی اس پتھر سے وہی بات چاہتا تھا جو ہم نے چاہی تھی ۔

میں نے اس سے دریافت کیا تو کس کا غلام ہے؟ اس نے شہر مکہ والوں میں سے کسی شخص کا نام بتلایا میں نے اسے پہچان لیا ۔ میں نے پوچھا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں ۔

میں نے کہا تو دودھ دوہے گا؟ اس نے کہا: ہاں ۔یہ کہہ کر اس نے ایک بکری کو پکڑ لیا میں نے کہا اس کے تھن سے مٹی و نجاست اور بال صاف کرلو۔ اس نے تھن جھاڑ کر صاف کیا اور ایک پیالہ میں دودھ دھو دیا۔ میرے پاس ایک چھاگل تھی میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنے ہمراہ رکھتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پانی پی سکیں اور وضو کر سکیں ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور مجھے آپ کو بیدار کرنا اچھا نہ معلوم ہوا؛ لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے۔

پھر میں نے دودھ کے برتن پر تھوڑا سا پانی ڈالا حتی کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا ؛اور پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! پی لیجئے۔

آپ نے پی لیا میں بہت خوش ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں آیا؟

میں نے عرض کیا: ہاں !وقت آگیا چنانچہ آفتاب ڈھل جانے کے بعد ہم نے کوچ کیا اور سراقہ بن مالک ہمارے پیچھے لگ گیا ۔ہم اس وقت صحرائی علاقہ میں چل رہے تھے۔

میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہمارا کوئی تعاقب کر رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم فکر نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ پر بد دعا کی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا میں جانتا ہوں کہ تم دونوں نے میرے لیے بد دعا کی ہے تم میرے لیے دعا کرو تاکہ میں زمین سے نکل آؤں ۔اللہ کی قسم! میں تمہاری تلاش کرنے والوں کو واپس کر دوں گا۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی اور اس نے نجات پائی پھر سراقہ جس کسی سے ملتا تو کہتا میں تلاش کر چکا ہوں غرض جس سے ملتا اس کو واپس کر دیتا ابوبکر کہتے ہیں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام (حدیث: ۳۶۱۵)، صحیح مسلم۔ کتاب الزہد، باب فی حدیث الھجرۃ (حدیث:۷۵؍۲۰۰۹)۔]

سراقہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: آپ میرے اس ترکش سے ایک تیر لے لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں فلاں مقام پر میرے اور میرے اونٹ اور غلام ملیں گے ان میں سے جتنی آپ کو ضرورت ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے لیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے تیرے اونٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘ پھرجب ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ اس بات میں جھگڑنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے پاس اتریں ؟آپ نے فرمایا:’’ میں قبیلہ بنی نجار کے پاس اتروں گا۔‘‘ وہ عبدالمطب کے ننھیال تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عزت دی۔ پھر مرد اور عورتیں گھروں کے اوپر چڑھے اور لڑکے اور غلام راستوں میں پھیل گئے اور یہ پکارنے لگے اے محمد اے اللہ کے رسول اے محمد اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔[براء ابن عازب کی روایت کے یہ الفاظ صحیح بخاری میں نہیں ‘صرف مسلم میں ہیں ۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 3023۔]

صحیح بخاری میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں :

صفحہ 27 از 35