فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 28 از 35

’’ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین حق پر ہی پایا۔‘‘ اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ صبح و شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نہ آتے ہوں ۔ جب مسلمان سخت آزمائش(تکلیف)میں تھے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکلے۔ جب برک غماد پہنچے تو ان سے علاقہ کے سردار ابن دغنہ کی ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا: ابوبکر کہاں کا ارادہ ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ: مجھ کو میری قوم نے نکال دیا اس لیے میں چاہتا ہوں کہ زمین کی سیر کروں اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں ۔

ابن دغنہ نے کہا :’’ تم جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ نکلا جا سکتا ہے اس لیے کہ تم بے مال والوں کے لیے کماتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو اور عاجز و مجبور کا بوجھ اٹھاتے ، مہمان کی ضیافت کرتے ہو اور حق(پر قائم رہنے) کی وجہ سے آنے والی مصیبت پر مدد کرتے ہو۔ میں تمہارا پڑوسی ہوں تم لوٹ چلو اور اپنے ملک میں اپنے رب کی عبادت کرو۔ چنانچہ ابن دغنہ روانہ ہوا تو ابوبکر کو ساتھ لے کر واپس ہوا اور کفار قریش کے سرداروں میں گھوما اور ان سے کہا کہ ابوبکر جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے جو تنگدستوں کے لیے کماتا ہے صلہ رحمی کرتا ہے، عاجزوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان کی مہمان نوازی کرتا ہے، راہ حق میں پیش آنے والی مصیبت میں مدد کرتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن دغنہ کی پناہ منظور کرلی ۔

اور ابوبکر کو امان دے کر ابن دغنہ سے کہا کہ ابوبکر کو کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں کریں ، نماز پڑھیں ، لیکن ہمیں تکلیف نہ دیں اور نہ اس کا اعلان کریں ، اس لیے کہ ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے بچے اور عورتیں فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔ ابن دغنہ نے ابوبکر سے یہ کہہ دیا۔ چنانچہ ابوبکر اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرنے لگے اور نہ تو نماز اعلانیہ پڑھتے اور نہ قرات اعلانیہ کرتے۔

پھر ابوبکر کے دل میں کچھ خیال پیدا ہوا، تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور باہر نکل کر وہاں نماز اور قرآن پڑھنے لگے، تو مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کے پاس جمع ہو جاتے، ان لوگوں کو اچھا معلوم ہوتا، اور ابوبکر کو دیکھتے رہتے ابوبکر ایسے آدمی تھے کہ بہت روتے اور جب قرآن پڑھتے تو انہیں آنسوں پر اختیار نہیں رہتا تھا، مشرکین قریش کے سردار گھبرائے اور ابن دغنہ کو بلا بھیجا وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے ابن دغنہ سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کریں ، لیکن انہوں نے اس سے تجاوز کیا اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنالی۔ اعلانیہ نماز اور قرآن پڑھنے لگے اور ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے بچے اور ہماری عورتیں گمراہ نہ ہو جائیں اس لیے ان کے پاس جا کر کہو کہ اگر وہ اپنے گھر کے اندر اپنے رب کی عبادت پر اکتفا کرتے ہیں تو کریں اور اگر اس کو اعلانیہ کرنے سے انکار کریں تو ان سے کہو کہ تمہارا ذمہ واپس کر دیں ۔ اس لیے کہ ہمیں پسند نہیں کہ ہم تمہاری امان کو توڑیں اور نہ ہم ابوبکر کو اعلانیہ عبادت کرنے پر قائم رہنے دے سکتے ہیں ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ:’’ ابن دغنہ ابوبکر کے پاس آیا اور کہا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذمہ ایک شرط پر لیا تھا، یا تو اسی پر اکتفا کرو یا میرا ذمہ مجھے واپس کر دو۔ اس لیے کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ عرب اس بات کو سنیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے ذمہ میں لیا تھا، اور میرا ذمہ توڑا گیا۔ ابوبکر نے جواب دیا کہ میں تیرا ذمہ تجھے واپس دیتا ہوں اور اللہ کی پناہ پر راضی ہوں ۔‘‘

اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ ہی میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے، میں نے ایک کھاری زمین دیکھی، جہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور دو پتھر یلے کناروں کے درمیان ہے جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی، جس نے بھی ہجرت کی مدینہ ہی کی طرف کی اور جو لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے وہ بھی مدینہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری کی، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’تم ٹھہرو مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کا حکم ہوگا۔‘‘

ابوبکر نے عرض کیا:’’ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا! آپ کو امید ہے کہ اس کی اجازت ملے گی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ چلنے کے لیے رک گئے اور دو اونٹ جو ان کے پاس تھے ان کو چار مہینے تک سمر کے پتے کھلاتے رہے۔

ابن شہاب بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ:

ہم ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مکان میں ٹھیک دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا(دیکھو)وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منہ پر چادر ڈالے ہوئے تشریف لا رہے ہیں ۔ آپ کی تشریف آوری ایسے وقت تھی جس میں آپ کبھی تشریف نہ لاتے تھے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان اللہ کی قسم!ضرور کوئی بات ہے جبھی تو آپ اس وقت تشریف لائے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی آپ کو اجازت مل گئی آپ اندر تشریف لائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’اپنے پاس سے اوروں کو ہٹا دو۔‘‘ 

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ!میرے (ماں )باپ آپ پر فدا ہوں جائیں یہاں تو صرف آپ کی گھر والی ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے بھی رفاقت کا شرف عطا ہو ؟ آپ نے فرمایا: ہاں (رفیق سفر تم ہو گے)۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے (ماں ) باپ آپ پر قربان! میری ایک اونٹنی آپ لے لیجئے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہم تو بقیمت لیں گے۔‘‘

صفحہ 28 از 35