فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 29 از 35

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے ان دونوں کے لیے جلدی میں جو کچھ تیار ہو سکا تیار کردیا اور ہم نے ان کے لیے چمڑے کی ایک تھیلی میں تھوڑا سا کھانا رکھ دیا۔ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے ازار بند کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلی کا منہ اس سے باندھ دیا اسی وجہ سے ان کا لقب(ذات النطاقین)دو ازاربند والی ہوگیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جبل ثور کے ایک غار میں پہنچ گئے ۔اور اس میں تین دن تک چھپے رہے۔ عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ جو نوجوان ہشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہیں رات گزاری ہے۔اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتی یہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے ۔اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے۔وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرت ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے۔ حتی کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ)بنو دیل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا۔ اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امین بنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا(چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا)۔اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا۔‘‘

ابن شہاب نے فرمایا:’’ سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کے بھتیجے عبدالرحمن بن مالک مدلجی نے بواسطہ اپنے والد کے سراقہ بن جعشم سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں : ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آ پڑے (جو اعلان کر رہے تھے)کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتل کردے یا پکڑ لائے تو اسے ہر ایک کے عوض سو اونٹ ملیں گے۔ اسی حال میں میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی آکر ہمارے پاس کھڑا ہوگیا؛ ہم بیٹھے ہوئے تھے ۔

اس نے کہا :اے سراقہ !میں نے ابھی چند لوگوں کو ساحل پر دیکھا ہے میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ہیں ۔سراقہ کہتے ہیں :’’ میں سمجھ تو گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں (مگر میں نے )اسے دھوکہ دینے کے لیے تاکہ وہ میرے حاصل کردہ انعام میں شریک نہ ہو سکے؛اس سے کہا یہ وہ لوگ نہیں بلکہ تو نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے جو ابھی ہمارے سامنے سے گئے ہیں ۔ پھر میں تھوڑی دیر مجلس میں ٹھہر کر کھڑا ہوگیا اور گھر آکر اپنی باندی کو حکم دیا کہ وہ میرے گھوڑے کو لے جا کر(فلاں )ٹیلہ کے پیچھے میرے لیے پکڑ کر کھڑی رہے۔ اور میں اپنا نیزہ لے کر اس کی نوک سے زمین پر خط کھینچتا ہوا اور اوپر کے حصہ کو جھکائے ہوئے گھر کے پیچھے سے نکل آیا حتی کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ گیا ۔بس میں نے اپنے گھوڑے کو اڑا دیا کہ وہاں جلد پہنچ سکوں جب میں ان حضرات کے قریب ہوا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گر پڑا فورا میں نے کھڑے ہو کر اپنے ترکش میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سے تیر نکالے ؛پھر میں نے ان تیروں سے یہ فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں ؟ تو وہ بات نکلی جو مجھے پسند نہیں تھی ۔

پھر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور میں نے ان تیروں کی فال کی پرواہ نہ کی اور گھوڑا مجھے ان کے قریب لے گیا حتی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت (کی آواز)سنی آپ ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ادھر ادھر بہت دیکھ رہے تھے ۔ میرے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں اس کے اوپر سے گر پڑا۔ میں نے اپنے گھوڑے کو للکارا جب وہ(بڑی مشکل سے)سیدھا کھڑا ہوا تو اس کے اگلے پاؤں کی وجہ سے ایک غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان تک چڑھنے لگا پھر میں نے تیروں سے فال نکالی تو اس میں میری ناپسندیدہ بات نکلی۔

پھر میں نے ان حضرات سے امان طلب کرتے ہوئے پکارا تو یہ ٹھہر گئے۔ میں سوار ہو کر ان کے پاس آیا تو ان تک پہنچنے میں مجھے جو موانع پیش آئے ان کے پیش نظر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین غالب ہوجائے گا ۔‘‘[صحیح بخاری:ج2:ح1108۔]

پانچویں وجہ:....جب آپ غار میں تھے تو آپ کے بیٹے عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ تک مشرکین کی خبریں پہنچایا کرتے تھے ۔ اور آپ کے ساتھ ایک غلام عامر بن فہیرہ بھی ہوا کرتا تھا۔ ان کے لیے ممکن تھا کہ قریش کو آپ کے بارے میں خبر دیدیں ۔

صفحہ 29 از 35