فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 35

’’ ابوبکر! ان دو آدمیوں کے بارے میں آپ کو کیا خطرہ لاحق ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔ باب مناقب المہاجرین و فضلھم (ح: ۳۶۵۳،۳۹۲۲)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فصائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۱)۔]

اس حدیث کے صحیح ہونے پر اہل علم محدثین کا اتفاق ہے‘ اور اسے قبول وتصدیق حاصل ہے۔ نیز اس میں کبھی بھی دو افراد نے اختلاف نہیں کیا۔ اور قرآن کریم اس کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ آیت مبارکہ میں ہے:

﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ ۴۰]

’’ جب وہ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے :گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

[معیت الٰہی کی اقسام]:

کتاب اللہ لفظ ’’معیت ‘‘یعنی ساتھ ؛ دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔معیت عامہ : یعنی عام ساتھ؛ اور معیت خاصہ یعنی :خاص ساتھ ۔

معیت عامہ ؛[معیت عامہ علم کے ساتھ ہوتی ہے جیسے کہ اس آیت میں ] اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلٰی الْعَرْشِ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنْ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ﴾

’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو۔‘‘ [الحدید۴]

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اَلَمْ تَرَی اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوَی ثَلَاثَۃٍ اِِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ وَلَا اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَا اَکْثَرَ اِِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا ثُمَّ یُنَبِّیُٔہُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ﴾ [المجادلۃ ۷]

’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین آدمیوں کی کوئی سر گوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ کوئی پانچ آدمیوں کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی ہوں ، پھر وہ انھیں قیامت کے دن بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘

یہ معیت ہر سرگوشی کرنے والے کے لیے عام ہے۔ اورپہلی معیت تمام مخلوق کے لیے عام ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ہر تین سرگوشی کرنے والوں میں چوتھا‘اور پانچ میں چھٹا ہوتاہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ابوبکر! ان دو آدمیوں کے بارے میں آپ کو کیا خطرہ لاحق ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔‘‘

اس لیے کہ جب اللہ ان کے ساتھ تھا تو وہی تیسرا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم بھی اس حدیث کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اگرچہ یہ معیت خاص ہے اور پہلی قسم کی معیت عام تھی۔

جب کہ معیت خاصہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیہماالسلام سے فرمایا تھا:

﴿قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَ اَرٰیٰ﴾ (طہ :۴۶)یہ معیت خاصہ ہے۔

یہاں پر فرعون اور اس کی قوم کو چھوڑ کر حضرت موسیٰ او رہارون علیہماالسلام کیلیے یہ تخصیص کی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تائید حضرت موسیٰ اور ہارون علیہماالسلام کو حاصل تھی؛ فرعون کو نہیں ۔

اسی طرح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

’’اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ! غم نہ کرنا ؛ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

تو اس کا معنی یہ ہوا کہ : اللہ ہمارے ساتھ ہے؛ ان مشرکین کے ساتھ نہیں جو آپ سے دشمنی رکھتے ہیں اور آپ کی طلب میں لگے ہوئے ہیں ۔جیسا کہ وہ لوگ جو اس وقت غار کے اوپر پہنچ چکے تھے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک نیچے اپنے قدموں کی طرف دیکھتا تواسے سب کچھ نظر آجاتا۔

ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ﴾ [النحل۱۲۸] 

بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقوی اختیار کیا اور جو احسان کرنے والے ہیں ۔‘‘

یہاں پر ظالموں اور فاجروں کو چھوڑ کر اہل احسان و تقوی کی تخصیص ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴾ [البقرۃ۱۵۳]

’’ بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔‘‘

یہاں پر گریہ و زاری کرنے والوں کو چھوڑ کر صبر کرنے والوں کی تخصیص ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ وَ بَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا وَ قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ﴾ [المائدۃ ۱۲]

’’اور بلاشبہ یقیناً اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے اور اللہ نے فرمایا بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘

اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾ [الأنفال ۱۲]

’’ جب آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ ۔‘‘

صفحہ 3 از 35