فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 30 از 35

چھٹی وجہ:....اگر معاملہ ایسے ہی تھا جیسے رافضی خبیث کا دعوی ہے‘ تو پھرایسا ہوسکتا تھا کہ : جب دشمن غار تک پہنچ گیا اور غار کے منہ پر ٹہلنے لگا۔تو اس وقت آپ کے لیے ممکن تھا کہ باہر نکل آتے اور دشمن کو آپ کی خبر کردیتے۔پس اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی دوسرا فرد و بشر نہیں تھا جو آپ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یا دشمن سے بچا سکتا۔ پس اس حالت میں غور کرنا چاہیے کہ اصل دشمن کون ہے وہ جو آپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہو‘اور ایسے موقع کو غنیمت جانے جب کوئی بھی دشمن اپنے حریف پر قابو پالیتا ہے تو پھر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں اکیلے تھے۔ اور دشمن غار کے دہانے تک پہنچ چکا تھا۔اور غار والے کو بچانے والا یا ان کا دفاع کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ اور دشمن بھی معمولی نہ تھے ؛ ایسے لوگ تھے جو اس وقت مکہ میں غالب تھے۔ اور اگروہ آپ کو پکڑ لیتے تو مکہ بھر میں کوئی انہیں آنکھ دکھانے والا بھی نہیں تھا۔اور اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باطن میں مشرکین کے ساتھ ملے ہوئے تھے ؛ تو یہاں پر اسباب اور وسائل و حالات اس قدر بھر پور تھے کہ آپ کو پکڑ کر دشمن کے حوالے کردیا جاتا ۔جب قدرت کامل ہو‘اور فعل کے دواعی موجود ہوں تو اس فعل کو پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔جب ایسا کچھ ہوا نہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کے دواعی موجود نہیں تھے یا پھر اس پر قدرت حاصل نہیں تھی۔ہم دیکھتے ہیں کہ قدرت تو موجود تھی؛ تومعلوم ہوا کہ دواعی اور اسباب موجود نہیں تھے۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس بات کو ہر انسان جانتا ہے۔ سواللہ کی ذات پاک ہے جس نے روافض کو بصیرت و فراست سے محروم کردیا۔

٭ ان بہتان تراشوں کا حال یہ ہے کہ :ان میں وہ لوگ بھی ہیں جوکہتے ہیں :ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی انگلی سے دشمن کی طرف اشارہ کررہے تھے تو سانپ نے آپ کو ڈس لیا ۔تو آپ نے انگلی پیچھے کھینچ لی۔اورآپ سے درد ختم ہوگئی ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا: ’’ اگر تم نے دوبارہ عہد توڑا تووہ تمہارا ہاتھ توڑ دے گا۔‘‘

اور آپ نے دوبارہ اس عہد کو توڑا ؛ پھر اسی سبب سے آپ کی موت واقع ہوئی۔

٭ اس بات کا جھوٹ ہونا کئی وجوہات کی بناپر ظاہر ہے ۔ ہم ان میں سے بعض کی تفصیل بیان کر چکے ہیں ۔

٭ اور میں سے بعض کہتے ہیں کہ : آپ نے اپنا ٹخنہ ظاہر کیا تھا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے ؛ تو سانپ نے آپ کو ڈس لیا۔یہ بھی پہلے جھوٹ کی طرح کا ایک دوسرا جھوٹ ہے۔

[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر بے صبری کی تہمت ]:

[اعتراض]:شیعہ کا یہ قول کہ: یہ آیت آپ کے نقص پر دلالت کرتی ہے ؛ اس لیے کہ آیت میں :﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ کے الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بے صبری ؛اللہ تعالیٰ پر عدمِ ایمان؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قضاء و تقدیر پر عدمِ رضامندی؛ اور بے صبری کو ظاہر کر رہے ہیں۔‘‘

[جواب]:پہلی بات :....ہم کہتے ہیں : شیعہ کے اقوال باہم متناقض ہیں ، وہ پہلے کہہ چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غار میں اپنے ساتھ اس لیے رکھا تھا کہ اگر وہ مکہ میں رہا تو آپ کے راز کو واشگاف کردے گا،اس لیے کہ ابوبکر آپ کے دشمن تھے‘اور درپردہ ان لوگوں سے ملے ہوئے تھے جو آپ کو تلاش کررہے تھے۔ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ اگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھتے تھے ؛ تو جب آپ کی تلاش میں وہاں پہنچ گیا تھا؛تو آپ کو خوش ومسرور ہونا چاہیے تھا؛ اور آپ کو اطمینان ملتا۔نیزیہ کہ دشمن غار کے دہانے تک پہنچا‘اور اوپر ادھر ادھر تلاش کرتے رہے ؛ تو یہ ایک بہترین موقعہ تھا کہ انہیں خبر کردی جاتی۔ نیز یہ کہ : آپ کا بیٹا عبداللہ قریش کی خبریں آپ تک پہنچایا کرتا تھا؛ آپ کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ اس کے ذریعہ سے دشمن کو خبر کردیتے۔

نیز آپ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آپ دونوں کی سواریاں تھیں ۔ آپ کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ اپنے غلام سے ہی کہہ دیتے کہ دشمن کو خبر کردو۔

اب کہہ رہا ہے کہ وہ ضعیف القلب اور قلیل الصبر تھے۔اس کا یہ قول اس قول سے متناقض ہے جس میں وہ کہتا ہے: کہ ابوبکر منافق تھے۔اوراب ثابت کررہا ہے کہ آپ مؤمن تھے۔[ اللہ کی قسم! شیعہ کے کس وصف پر رشک کیا جائے وہ علم و فہم دونوں سے یک سر بے گانہ ہیں ]

جان لینا چاہیے کہ مہاجرین صحابہ میں کوئی بھی منافق نہ تھا۔ [بلکہ یوں کہیے کہ نفاق کا وجود ان میں محال تھا۔ اس لیے کہ مشرکین مکہ قوت و شوکت سے بہرہ ور تھے اور جو شخص مشرف باسلام ہوتا اسے جی بھر کر سزا دیتے۔ اس لیے جو شخص بھی دین اسلام کو قبول کرتا تھا وہ رضائے الٰہی کے لیے یہ خطرہ مول لیتا تھا کسی کے ڈر سے نہیں ]۔

نفاق [کا آغاز اسلام میں مدنی زندگی سے ہوا؛اور مدینہ کے]بعض انصاری قبائل میں تھا۔

کسی بھی مہاجر نے اپنے اختیار کے بغیر ہجرت نہیں کی۔مکہ کے کفار ہجرت کو اختیار نہیں کرتے تھے۔نہ ہی وہ اپنا وطن اور اہل و عیال چھوڑ کر اپنے دشمن کی مدد کے لیے کہیں جاتے تھے۔بلکہ ہجرت کو ان لوگوں نے اختیار کیا تھا جن کا وصف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؛ فرمایا:

﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ﴾ (الحشر:۸)

’’(فئے کا مال)ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ ٭نِ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا﴾ (الحج ۳۹۔۴۰)

صفحہ 30 از 35