فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 31 از 35

’’ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ یقیناً ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقیناً پوری طرح قادر ہے۔ وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بالاتفاق مہاجرین [وانصار]میں سب سے افضل تھے۔

جب اس کلام کی روشنی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا صاحب ایمان ہونا لازم آتا ہے۔تو پس یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انتہائی اہم اور پرخوف و خطر سفرہجرت؛وہ سفر جس نے تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا تھا؛لوگوں کے دلوں میں آپ کا جلال و قدر گامزن ہوئے‘ اسلام کا پرچم بلندکیا؛ایسے سفر کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایسی ہستی کا ہی انتخاب کرسکتے تھے جو آپ کے خاص الخواص میں سے ہو۔ اور جس پر آپ کو بھر پور اعتماد اور اطمینان و بھروسہ حاصل ہو۔ اس لیے کہ تاریخ اسی چیز کو عزت کے ساتھ جگہ دیتی ہے جو تمام لوگوں کے سامنے عزت کے ساتھ عیاں و بیان ہو ۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل اور دوسرے لوگوں سے امتیازیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔ یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ایسی خصوصیت ہے جس میں کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل و اشرف تھے۔

٭٭٭

[اعتراض]:شیعہ مصنف کا یہ قول ہے کہ ’’غم زدہ ہونا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ناقص ہونے پر دلالت کرتا ہے۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں : پہلی بات: ناقص کی دو اقسام ہیں ۔[اول ]:وہ نقص جو ایمان کے منافی ہو۔ 

[دوم]: اوروہ نقص جوکامل کی نسبت کم ہو۔

اگرمصنف کی مراد پہلی قسم ہے ؛توپھریا باطل ہے ۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَ لَا تَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ﴾ (النحل:۱۶؍۱۲۷)

’’ آپ غم نہ کریں اور جوتدبیریں وہ کر رہے ہیں ان سے تنگ دل نہ ہوں ۔‘‘

عام اہل ایمان کے حق میں فرمایا:﴿وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْاوَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْن﴾(آل عمران:۱۳۹)

’’سستی نہ کرو اور غم زدہ نہ ہو اور تم ہی غالب رہو گے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْم٭لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (الحجر:۸۷۔۸۸)

’’ نیز ہم نے آپ کو سات ایسی آیات دی ہیں جو بار بار دھرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی دیا ہے۔لہٰذا ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو جو سامان حیات دے رکھا ہے ادھر نظر اٹھا کربھی نہ دیکھیں اور نہ ہی ان کے لیے غمزدہ ہوں اور ایمان لانے والوں سے تواضع سے پیش آئیے ۔‘‘ 

اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی ایک مواقع پر غمزدہ ہونے سے اور حزن و ملال کرنے سے منع کیا ہے۔ اہل ایمان کو بھی جملہ طور پر حزن و ملال سے منع کیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ حزن ایمان کے منافی نہیں ہے۔

اگر رافضی مصنف کی مراد یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے سے اکمل کی نسبت ناقص ہیں ؛ تو پھراس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے کامل ہیں ؛ اس میں اہل سنت والجماعت میں سے کسی ایک کا بھی کوئی اختلاف نہیں ۔لیکن اس میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جو حضرت علی ‘ یا حضرت عثمان یا حضرت عمر رضی اللہ عنہم یا پھر کسی دوسرے صحابی کے آپ سے افضل ہونے پر دلالت کرتی ہو۔ اس لیے کہ یہ لوگ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے۔اگرآپ کے ساتھ ہوتے بھی ؛ تو پھر بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان لوگوں کا حال حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے حال سے زیادہ اکمل ہوتا۔اس لیے کہ صحابہ کرام کے احوال اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حالت کے متعلق معروف یہ ہے کہ : خوف و خطرہ کے وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ باقی تمام لوگوں کی نسبت زیادہ کامل ایمان والے ‘ یقین و الے اور صبرو ثبات والے ہوا کرتے تھے۔ اور شک و شبہ کے اسباب کے وقت آپ کا ایمان و اطمینان سب سے بڑھ کر ہوا کرتا تھا۔ اور جب کبھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی و خوشنودی کے متلاشی ہوتے۔اور آپ کے لیے بھی تکلیف دہ چیز سے سب سے بڑھ کر دور رہنے والے ہوتے ۔

یہ بات ہر اس انسان کو معلوم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں اور وفات کے بعد کے احوال صحابہ کرام سے جانکاری رکھتا ہے۔ حتی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ؛ تو آپ کی وفات اہل ایمان کے لیے بہت بڑی مصیبت اور آزمائش تھی۔ حتی کہ اکثر اعراب مرتد ہوگئے۔ پیکر ایمان جناب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی حواس پر قابو نہ رکھ سکے ؛ حالانکہ آپ قوی ایمان اور یقین محکم رکھنے والے انسان تھے۔ مگر ان حالات میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ثابت قدم رکھا؛ جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ایمان میں دوسروں کی نسبت زیادہ کامل تھے۔ آپ کے یقین میں اطمینان ہوا کرتا تھا۔ اور آپ کا علم حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام کی نسبت زیادہ کامل تھا۔اس موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا :

’’تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا۔ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، نہیں مرے گا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا﴾ [آل عمران ۱۴۴]

صفحہ 31 از 35