فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 32 از 35

’’(حضرت)محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف رسول ہی ہیں آپ سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا شہید ہوجائیں تو اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جا گے اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا۔‘‘ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتی ہیں :

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مقام سنح پر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’ اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا۔آپ فرماتی ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: ’’اللہ کی قسم ! میرے دل میں یہی بات آئی تھی۔کہ اللہ تعالیٰ ضرور آپ کو دوبارہ مبعوث فرمائے گا‘ اور آپ منافقین کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے۔ پس اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کیا۔آپ کے چہرہ انور سے چادر اٹھائی پھر آپ پر جھکے اور آپ کے چہرے کو بوسہ دیا پھر روئے اور فرمایا اے اللہ کے نبی آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ! آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری ‘اور پاکیزہ موت پائی۔مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ آپ پر دو موتوں کو جمع نہیں کرے گا۔‘‘

پھرحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر نکلے [اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے]، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ:اے قسم اٹھانے والے!جلدی نہ کرو۔چنانچہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تشہد پڑھا ؛اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ؛ اور فرمایا:

’’تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا۔ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، نہیں مرے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

﴿اِِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ ﴾ [الزمر ۳۰]

’’یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَ سَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ﴾

’’(حضرت)محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف رسول ہی ہیں آپ سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا شہید ہوجائیں تو اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جا گے اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا ۔‘‘

سب لوگ(یہ سن کر)بے اختیار رونے لگے۔[البخاری ۵؍۶]

مزیدبرآں یوم بدر میں جھونپڑے کا قصہ؛ اور حدیبیہ کے دن آپ کا اطمینان و سکون معروف قصے ہیں ؛ جن کی وجہ سے آپ کی خصوصیت تمام صحابہ سے نمایا ہوتی ہے ۔ پھر آپ کی طرف بزدلی [یا ایمانی کمزوری]کو کیسے منسوب کیا جاسکتا ہے۔

نیز آپ کا مرتدین اور مانعین زکواۃ سے جہادکرنا؛اہل ایمان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا؛اور اس کے ساتھ ہی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو روانہ کرنا؛ ایسے امور ہیں جن سے آپ کا سب سے بڑا اہل ایمان ویقین ہونا واضح ہوتا ہے۔ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ : آپ سے کہا گیا: ’’آپ پروہ مصائب آئے کہ اگر پہاڑ پر آتے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا؛ اور سمندر پر آتے تووہ خشک ہوجاتا ؛ لیکن ہم نہیں دیکھتے کہ آپ کمزور ہوئے ہوں ۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ غار والی رات کے بعد کبھی بھی میرے دل میں رعب داخل نہیں ہوا۔ بیشک جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حزن و ملال دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’ اے ابوبکر تم پر کوئی غم نہیں ہونا چاہیے۔بیشک اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کو پورا کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے ۔‘‘

پھر ان سے یہ بھی کہا جائے گا کہ: جو کوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یقین و صبر کو دوسرے صحابہ کرام جیسے : حضرت عمر ‘ حضرت عثمان یا حضرت علی رضی اللہ عنہم سے تشبیہ دے ؛ یقیناً وہ بہت بڑا جاہل ہے۔اہل سنت کے ہاں حضرت عمر و عثمان اور حضرت رضی اللہ عنہم پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ۔لیکن رافضی نے جو یہ دعوی کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان صفات میں دوسرے تینوں صحابہ کرام سے اکمل و افضل ہیں ؛ یہ محض بہتان‘جھوٹ اور افتراء پردازی ہے۔ اس لیے کہ جو کوئی بھی حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کی سیرت پر غور کرے گا تو اسے پتہ چلے گا کہ مصائب ومشکلات میں یہ حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ کامل صبرو ثبا ت اور استقلال و استقامت والے ہوا کرتے تھے۔

لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کیا؛ آپ سے مطالبہ کیا کہ یا خلافت چھوڑ دیں یا پھرقتل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں ۔اوروہ برابرآپ کا محاصرہ کیے رہے یہاں تک کہ آپ کو قتل کردیا۔اس حالت میں بھی آپ لوگوں کو اپنے دفاع میں لڑنے سے منع کرتے رہے۔یہاں تک کہ آپ مظلومیت کی حالت میں شہید ہوگئے مگر اپنی ذات کا دفاع نہیں کیا۔تو کیا مصیبت میں اس سے بڑھ کر صبر کی بھی کوئی مثال ہوسکتی ہے۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا صبر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے صبر کی طرح نہیں تھا۔بلکہ آپ کے اہل لشکر اور آپ سے لڑنے والوں کو آپ کی وجہ سے بعض ایسی تکالیف بھی پہنچیں کہ ایسی تکالیف حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے نہیں پہنچی تھیں ۔حالانکہ جن لوگوں سے یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لڑرہے تھے وہ کافر تھے۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ؛ وہ دشمن کی تعداد کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی نسبت بہت کم تھے۔اور ان کا دشمن کئی گنا بڑی تعداد کا تھا۔جن کفار سے ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے جنگیں لڑیں وہ مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھے۔جب کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کالشکر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی نسبت بہت کم تھا۔

صفحہ 32 از 35