فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 33 از 35

یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ : امام کو درپیش خوف کہ کفار مسلمانوں پر غلبہ نہ حاصل کرلیں ‘اس خوف سے بڑھ کر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے گروہ آپس میں ایک دوسرے پر غالب آجائیں ۔ اس لحاظ سے ائمہ ثلاثہ کا دشمن سے خوف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خوف سے کئی گنازیادہ تھا۔ اور اس خوف کا مقتضی بھی بہت بڑا تھا۔ مگر اس کے باوجود یہ لوگ اپنے دشمن اور پیش جنگ لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں یقین و صبر استقامت اور ثابت قدمی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اپنے دشمن کے ساتھ برتاؤ میں نہ صرف کامل بلکہ اکمل تھے۔تو پھر کیسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ یقین و ثبات اور صبر و استقامت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اور کامل تھے۔کیا یہ صرف حماقت و تکبر اور اخبار متواتر سے معلوم حقائق کے علاوہ بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے۔

نبی کریم کے مقابلہ میں سب اہل اسلام ناقص ہیں ۔ مزید یہ کہ ہم عصمت ابی بکر کے قائل نہیں ہیں ۔

حزن ایمان کے منافی نہیں :

[اعتراض]: رافضی مصنف نے کہا ہے:’’یہ آیت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بے صبری ؛اللہ تعالیٰ پر عدمِ ایمان؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قضاء و تقدیر پر عدمِ رضامندی کوظاہر کر رہی ہے۔‘‘

[جواب ]: رافضی کی یہ تمام باتیں ایک کھلا ہوا جھوٹ ہیں ۔آیت میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس دعوی پر دلالت کرتی ہو۔اس کی دو وجوہات ہیں : 

پہلی وجہ:....کسی چیز سے روکنا اس کے وقوع پذیر ہونے کی دلیل نہیں ہے۔[یعنی ’’ لَا تَحْزَنْ ‘‘سے وقوع حزن لازم نہیں آتا]۔ بلکہ نہی کے الفاظ جہاں کہیں بھی وارد ہوئے ہیں ان سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ فعل ممنوع ہے تاکہ کہیں بعد میں اس فعل کا وقوع نہ ہوجائے۔ اس کی مثال سمجھنے کے لیے یہ آیات ملاحظہ ہوں : ۔

۱....﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَ لَا تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ﴾ (الأحزاب:۱۰)

’’اے نبی ! اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو ؛ کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کرو۔‘‘

یہاں پریہ دلیل کہیں بھی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کی اطاعت کرتے تھے۔ایسے ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

۲....﴿وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ﴾ (القصص:۸۸)

’’اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔‘‘

۳....﴿وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ﴾ (القصص:۸۸)

’’اللہ کے ساتھ کسی اورکو معبود نہ بنانا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کبھی بھی شرک کا ارتکاب نہیں کیا ۔ خصوصاً نبوت کے بعد تو شرک سے معصوم ہونے پر تمام امت کا اتفاق ہے ۔ اس لیے کہ آپ کو شرکیہ اعمال سے منع کردیا گیاتھا۔اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿لَا تَحْزَنْ﴾؛کہیں بھی اس بات پر دلالت نہیں کرتاکہ آپ واقعی غمگین ہوئے بھی تھے۔لیکن عقلی طور پر یہ ممکن ہے کہ آپ غمگین بھی ہوئے ہونگے۔لیکن اس قسم کی نہی اس لیے وارد ہوتی ہے کہ اس فعل کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ 

دوسری بات:....اگرفرض کیجیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غم زدہ ہوئے بھی تھے تو محض اس لیے کہ کفار کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل نہ کردیں ۔آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان نثار کرنے کے لیے تیار تھے۔یہی وجہ ہے کہ:جب آپ ہجرت کے اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو دوران سفر ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگتے کبھی آگے ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ دشمن عقب سے آپ پر حملہ آور ہو گا تو پیچھے چلتا ہوں اور جب اگلی جانب سے خطرہ محسوس کرتا ہوں تو آپ کے آگے ہو جاتا ہوں ۔‘‘، جب غار کے قریب پہنچے تو عرض کیا کہ ٹھہریے! تاکہ میں غار میں داخل ہو کر اس کو صاف کرلوں ۔[سیرۃ النبی لابن کثیر(۱؍۴۵۲) مستدرک حاکم(۳؍۶) دلائل النبوۃ(۲؍۴۷۶)]

امام احمد رحمہ اللہ نے ’’مناقب الصحابہ ‘‘ میں ذکر کیا ہے: فرماتے ہیں : ہم سے وکیع نے حدیث بیان کی ؛ وہ نافع سے اوروہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ؛ وہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں ؛آپ فرماتے ہیں :

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو غار ثور کے راستہ پر چل پڑے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہجرت کے اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ دوران سفر ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگتے کبھی آگے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ دشمن عقب سے آپ پر حملہ آور ہو گا تو پیچھے چلتا ہوں اور جب اگلی جانب سے خطرہ محسوس کرتا ہوں تو آپ کے آگے ہو جاتا ہوں ۔‘‘ جب غار کے قریب پہنچے تو عرض کیا کہ ٹھہریے! تاکہ میں غار میں داخل ہو کر اس کو صاف کرلوں ۔‘‘

امام نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مجھ سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ: ابن ابی ملیکہ نے یہ بھی کہا ہے: اس موقع پرحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غار میں ایک سوراخ دیکھا، اس کے آگے اپنا پاؤں رکھ کر اسے بند کردیا ؛ اور عرض گزار ہوئے :یارسول اللہ! اس میں اگر سانپ یا بچھو وغیرہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے مجھ کو کاٹے۔‘‘[سیرۃ النبی لابن کثیر(۱؍۴۵۲)، مستدرک حاکم(۳؍۶) دلائل النبوۃ(۲؍۴۷۶)[فضائل الصحابۃ ۱؍۶۲]۔]

اس صورت میں واقعی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات پر راضی نہ تھے۔ نہ ہی ان معنوں میں جیسا کہ رافضی خبیث افتراء پردازنے ذکر کیا ہے؛اس لیے کہ آپ ہرگزاس بات پر راضی نہ تھے کہ وہ زندہ رہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا جائے۔اورنہ ہی اس بات پر راضی تھے کہ ان دونوں کو قتل کردیا جائے۔ بلکہ آپ چاہتے تھے کہ اپنی جان و مال اور اہل عیال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کردیں مگر آپ پر آنچ نہ آئے۔ ایسا کرنا ہر مؤمن پر واجب ہے ۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام مؤمنین میں سے پختہ ایمان والے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ ﴾ [الأحزاب۶]

صفحہ 33 از 35