فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 34 از 35

’’پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں ۔‘‘

صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے والدین و اولاداور سب لوگوں سے بڑھ کر مجھے عزیز تر نہ سمجھے۔‘‘[البخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الایمان (ح:۱۴)، صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۴۴)۔]

توابوبکر رضی اللہ عنہ غم زدہ ہونا آپ کے کمال ایمان و محبت اورموالات و خیر خواہی؛آپ کی حفاظت پر حرص‘ آپ کے دفاع؛اور آپ سے ہر قسم کی تکلیف و پریشانی دور کرنے پر مستعد ہونے کی دلیل ہے۔اگرچہ اس صورت میں غم کی وجہ سے انسان پرایک گونہ کمزوری آجاتی ہے ۔ پس یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ عدم حزن کے ساتھ ان صفات سے موصوف ہونا ہی آپ کے حق میں مامور بہ تھا۔ورنہ صرف غم و حزن سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ اور اس میں کوئی ایسی دلالت نہیں جس سے اس فعل کا گناہ ہونا لازم آتا ہو جس پر ملامت کی جاسکتی ہو۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غمگین ہونا انسان کی اپنی اولاد پر غمگین ہونے سے بڑھ کر ہے۔اس لیے کہ کسی بھی انسان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کی اولاد کے لیے محبت سے بڑا واجب ہے۔

٭ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارے میں خبر دی ہے کہ آپ اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام پر غمگین ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَسَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ فَہُوَ کَظِیْمٌ٭قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْھٰلِکِیْنَ٭ قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ....﴾

[یوسف۸۴۔۸۶]

’’ ہائے میرا غم یوسف پر! اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں ، پس وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا، یہاں تک کہ گھل کر مرنے کے قریب ہوجائے، یا ہلاک ہونے والوں سے ہوجائے۔اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں ۔‘‘

یہ اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں ؛ وہ اپنے بیٹے پر اس قدر غمگین ہیں ۔لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے آپ پر طعن و تشنیع کی جائے۔تو پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر قتل کے خوف سے غمگین ہوں ؛تو آپ کو کیسے گالی و طعن تشنیع کی جاسکتی ہے؛ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دنیا و آخرت کی سعادت معلق ہے۔

پھر شیعہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر انتہائی غم و ہمّ کا اظہار کیا تھا اورایک غم خانہ بنایا؛ شب و روزاس ’’ بیت الاحزان‘‘(غم خانہ) میں گزارا کرتی تھیں ۔لیکن اس چیز کو قابل مذمت نہیں سمجھتے۔حالانکہ یہ غم ایک ایسی چیز پر ہے جو گزر چکی ہے؛ اور پھر کبھی واپس آنے والی نہیں ۔ جب کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بات پرخوف زدہ اور غمگین تھے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل نہ کردیا جائے۔یہ ایسا غم و حزن ہے جو آپ کی حفاظت و چوکیداری کو متضمن ہے۔اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ اس طرح سے غمگین نہیں ہوئے ؛جیسے پہلے ہوئے تھے؛ اس لیے کہ اب غمگین ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ پس یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غم و ملال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے غم و ملال سے زیادہ اکمل تھا۔ اگر آپ کاغم زدہ ہونا مذموم فعل تھا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تو غمگین ہوئی تھیں ۔وگرنہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر غم و اندوہ کا اظہار کیا ان کی نسبت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بات کے سب سے بڑے حق دار ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے معاملہ میں غم و اندوہ میں مبتلاہونے پر آپ پر کوئی ملامت نہ کی جائے۔ [حقیقت یہ ہے کہ جاہل اپنے طور پر کسی کی مدح کرتا ہے دراصل وہ مذمت ہوتی ہے]۔

اگر شیعہ یہ کہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے قتل کیے جانے کا غم تھا۔‘‘

توہم کہیں گے:یہ تمہارے اس قول کے متناقض ہے کہ:حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے انہیں ساتھ لے لیا تھا کہ کہیں آپ کا معاملہ ظاہر نہ کردیں ۔‘‘

یہ بھی کہا جائے گا کہ : جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر واجب کیا ہے ؛ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جو برتاؤ تواتر کے ساتھ معلوم ہے ؛ اس کی روشنی میں تمہارا یہ دعوی باطل ہے۔

پھر یہ بھی کہا جائے گا: مان لیجیے ! آپ اپنی جان پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غمگین ہوئے تھے ؛ تو کیا اس وجہ سے اس بات کے مستحق ہوگئے کہ آپ پرگالم گلوچ کی جائے۔بالفرض یہ مان بھی لیں کہ آپ کو اپنے قتل کیے جانے کے خوف کی وجہ سے غم و ملال تھا تو پھر بھی یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کی وجہ سے آپ پر سب و شتم کیا جائے۔

٭ پھر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ غمگین ہونا گناہ کا کام تھا؛ تو تب بھی آپ اس پرمصر نہیں رہے؛ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا تو آپ رک گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو بہت ساری چیزوں سے منع کیا تھا اوروہ ان باتوں سے رک گئے تھے۔ اور اس نہی سے پہلے جو کام انہوں نے کیے ان پر کوئی مذمت نہیں کی گئی۔

٭ مزیدبرآں روافض کہتے ہیں :حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما جاگیر فدک اور دوسری میراث کے چھوٹ جانے پر غم سے نڈھال ہوگئے۔اس کاتقاضا یہ ہے کہ یہ لوگ دنیاوی فوائد کے چھوٹ جانے پر غمگین ہوئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لِکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا آتَاکُمْ ﴾ [الحدید۲۳]

صفحہ 34 از 35