فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 35

جب اللہ تعالیٰ اس کا معیت کا ذکر کرتے ہیں تو کبھی اس سے معیت عامہ مراد ہوتی ہے اور کبھی معیت خاصہ ۔ اس میں کہیں بھی یہ دلیل نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ پر موجود ہے ‘ اور اس کا وجود عین مخلوقات کا وجود ہے۔ اور اس طرح کے دیگر عقائد جو کہ جہمیہ نے ایجاد رکر لیے تھے۔ جو کہ حلول عام ‘ وحدت الوجود ؛ اور اتحاد کے قائل ہیں ۔ اس لیے کہ اس قول کے مطابق کسی ایک قوم کو چھوڑ کر دوسری قوم کی تخصیص نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ ہی کسی ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ کی تخصیص کی جاسکتی ہے۔ بلکہ اس عقیدہ کے مطابق تو اللہ تعالیٰ بکروں کے باڑوں اور گھوڑوں کے اصطبل میں اور چوپاؤں کے شکم کے اندر بھی ویسے ہی موجود ہوگا؛ جیسا کہ وہ عرش کے اوپر ہے[جبکہ یہ کسی بھی مسلمان کا عقیدہ نہیں ]۔

جب اللہ تعالیٰ خود اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ وہ کسی ایک قوم کو چھوڑ کر دوسری کے ساتھ ہے تو یہ اس سابقہ بیان کردہ عقیدہ کے نقیض پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اس عقیدہ کے مطابق کسی ایک قوم کو چھوڑ کر دوسری کی تخصیص ممکن نہیں رہتی۔ بلکہ اس عقیدہ کے مطابق وہ اصطبل میں بھی ایسے ہی ہے جیسے عرش پر۔

قرآن کریم کبھی معیت کے اختصاص پر اور کبھی عموم پر دلالت کرتاہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معیت سے مراد اختلاط نہیں ۔

[عقیدہ حلول پر ردّ]

مزید برآں اس آیت کریمہ میں ان لوگوں پر بھی رد ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ظاہر قرآن عقیدہ حلول پر دلالت کرتا ہے ۔ لیکن کبھی ظاہر کے خلاف تأویل متعین ہوسکتی ہے۔ اور اسے اصل بناکر تاویل کردہ نصوص کو اس پر قیاس کیا جاتا ہے۔

اس کے جواب میں انہیں کہا جائے گا کہ : قرآن اس غلطی پر دلالت کرتا ہے۔جیسا کہ آپ کے ساتھ دوسرا شخص بھی اس مدلول کے غلط ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے۔اس کی کئی ایک وجوہات ہیں :

٭ پہلی وجہ:....عرب لغت میں لفظ ’’ مع‘‘ یعنی (ساتھ ) مصاحبت ‘ موافقت اور اقتران پر دلالت کرتا ہے۔ جب کہ عام استعمال میں یہ لفظ کسی موقع پر بھی یہ دلالت نہیں کرتا کہ پہلا دوسرے کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ ﴾۔[الفتح: ۲۹]

’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔‘‘

اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ مختلط ہوگئی ہیں ۔

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ـاتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ﴾ [التوبۃ۱۱۹]

’’اللہ کا تقوی اختیار کرو ‘اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ ۔‘‘

ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنْکُمْ﴾ [الأنفال۷۵]

’’اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ تم ہی سے ہیں ۔‘‘

ایسے ہی نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمان ِالٰہی ہے:

﴿وَ مَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌ﴾ [ھود۴۰]

’’اور آپ کے ساتھ بہت ہی تھوڑے لوگ ایمان لائے۔‘‘

نیز نوح علیہ السلام کے بارے میں ہی فرمان ِالٰہی ہے:

﴿فَاَنْجَیْنٰہُ وَ الَّذِیْنَ مَعَہٗ فِی الْفَلْکِ﴾ [ الأعراف ۶۴]

’’ہم نے [نوح علیہ السلام] کو اور ان کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا ۔‘‘

ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمان ِالٰہی ہے:

﴿فَاَنْجَیْنٰہُ وَ الَّذِیْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا ﴾ [الأعراف ۷۲]

’’غرض ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا۔‘‘

حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں فرمان ِالٰہی ہے:

﴿ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ﴾ [الأعراف ۸۸ ]

’’ اے شعیب!ہم آپ کو اور آپ کے ہمراہ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔‘‘

فرمان ِالٰہی ہے:

﴿اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ 

[النساء ۱۴۶ ]

’’ہاں جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور خالص اللہ ہی کے لیے دینداری کریں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں ۔‘‘

فرمان ِالٰہی ہے:

﴿ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴾ [الانعام ۶۸]

’’ اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں ۔‘‘

فرمان ِالٰہی ہے:

﴿وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ اِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ ﴾ [ المائدۃ ۵۳]

’’اور ایماندار کہیں گے: ’’ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔‘‘

فرمان ِالٰہی ہے:

﴿اَلَمْ تَری اِِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِِخْوَانِہِمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ﴾ [الحشر۱۱]

’’کیا آپ نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ضرور بالضرور ہم تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے ۔‘‘

اور حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمان ِالٰہی ہے:

﴿اہْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیْکَ وَ عَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمْ﴾ [ہود ۴۸]

’’فر ما دیا گیا کہ اے نوح!ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر،جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وہ امتیں ہونگی جنہیں ہم فائدہ تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا ۔‘‘

فرمان ِالٰہی ہے:

﴿وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُہُمْ تِلْقَآئَ اَصْحٰبِ النَّارِ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴾

[ الأعراف ۴۷]

’’جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھیری جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔‘‘

فرمان ِالٰہی ہے:

صفحہ 4 از 35