فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 35

نیز آپ فرماتے ہیں : ’’ جو کوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے ۔ اس لیے کہ وہ قرآن کریم کو جھٹلا رہا ہے۔‘‘

اہل علم کا ایک گروہ جیسا کہ امام ابو القاسم سہیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’یہ معیت خاصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور کے لیے ثابت نہیں ہوئی۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ : ’’ ان دو کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے ۔‘‘اس میں لفظی و معنوی طور پر ان دونوں ہستیوں کی خصوصیت ظاہر ہوتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ محمد رسول اللہ ‘‘کے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا تھا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ کو ’’خلیفہ ء رسول اللہ ‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کیا جانے لگا۔ پس ’’خلیفہ‘‘کی اضافت اس ’’رسول‘‘ کی طرف کرتے جن کی اضافت اللہ کی طرف ہے۔یعنی مضاف إلیہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف یہ اضافت اس قول کی صحیح تحقیق و تطبیق بن کرسامنے آتی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’ بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘ نیز یہ قول کہ : ’’ان دو کے متعلقتیرا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرااللہ ہے ۔‘‘

ان کے بعد جب حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہیں امیر المؤمنین کہا جانے لگااور وہ مخصوص خطاب ختم ہوگیا جو کہ سارے صحابہ میں سے صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امتیازی شان تھی [یعنی خلیفہ ء رسول]۔

[صحابی کی تعریف]:

مزیداس چیز سے یہ مؤقف واضح ہوتا ہے کہ اس صحبت میں عموم و خصوص پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ :

’’فلاں کو ایک گھڑی کی صحبت نصیب ہوئی ہوئی؛ فلاں کو ایک دن کی صحبت نصیب ہوئی ؛ ایک ہفتہ کی ؛ ایک ماہ کی؛ اور سال کی صحبت نصیب ہوئی ۔ اور فلاں نے تمام عمر صحبت میں گزار دی ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ ﴾ [النساء۳۶] 

’’ اور پہلو کے ساتھی سے ۔‘‘

اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے: ’’ اس سے مراد سفر کا ساتھی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : اس سے مراد بیوی ہے۔ ان دو میں سے ہر ایک کو قلیل و کثیر صحبت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیوی کو صاحبہ کے الفاظ سے بھی پکار ا ہے ۔ ارشاد فرمایا :

﴿ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ ﴾ [الأنعام ۱۰۱] 

’’ اللہ تعالیٰ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں ۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ الرسالۃ‘‘ جسے عبدوس بن مالک نے آپ سے روایت کیا ہے ؛ میں فرماتے ہیں :

’’ جس انسان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ایک سال کے لیے حاصل ہوا ؛ یا ایک ماہ یا ایک دن یا ایک گھڑی کے لیے ؛ یا پھر ایمان کی حالت چہرہ نبوت کا دیدار بھی کرلیا‘ وہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار ہوگا اور اس کے لیے صحبت کا اسی قدر اجر ہوگا جس قدر وقت اس نے آپ کی ہمراہی میں گزارا ہے۔‘‘ [یہ کتابچہ حافظ ابن ابی یعلی نے عبدوس بن مالک کے حالات زندگی تحریر کرتے ہوئے نقل کیا ہے ۔ دیکھیں : طبقات حنابلہ ۱؍۲۴۱۔ ]

یہ جمہور اہل علم وفقہاء اور اہل کلام کا عقیدہ ہے۔وہ ہر اس انسان کو صحابی شمار کرتے ہیں [جس نے ایمان کی حالت میں دیدار نبوت کی سعادت حاصل کی ہو] بھلے اسے کم وقت صحبت میں رہنے کے لیے ملا ہو یا زیادہ۔ اس میں اختلاف بہت ہی ضعیف ہے۔ جمہور کے قول پر دلیل وہ حدیث ہے جسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((یأتِی علی الناسِ زمان یغزو فِئام مِن الناسِ؛ فیقال لہم: ہل فِیکم من رأی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ فیقولون : نعم ؛فیفتح لہم۔ ثم یغزو فِئام مِن الناسِ فیقال لہم: ہل فِیکم من رأی من صحِب رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ فیقولون: نعم ؛ فیفتح لہم۔ ثم یغزو فِئام مِن الناسِ فیقال لہم: ہل فِیکم من رأی من صحِب من صحِب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ فیقولون :نعم؛ فیفتح لہم)) [صحیح مسلم:ح:1968۔]

’’ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگوں گا گروہ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں ! ہے؛ تو پھر ان کو فتح حاصل ہوگی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں لوگ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو؟

تو وہ کہیں گے کہ: جی ہاں ہے؛ تو پھر انہیں فتح حاصل ہو گی۔پھر کہیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کے ساتھی(تابعی)کو دیکھا ہو؟

تو وہ کہیں گے کہ:’’ جی ہاں ہے! تو پھر انہیں فتح حاصل ہو گی۔‘‘

یہ صحیح مسلم کے الفا ظ ہیں ۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں ایک جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو لوگ کہیں گے کہ:’’ دیکھو کیا تمہارے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی صحابی ہے؟

تو ایک صحابی پایا جائے گا؛ جس کی وجہ سے ان لوگوں کو فتح حاصل ہوگی ۔پھر ایک دوسری جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو لوگ کہیں گے :’’کیا ان میں کوئی ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟

صفحہ 7 از 35