فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 35

تو کہیں گے : ہاں ؛ تو پھر اس کی وجہ سے ان کو فتح حاصل ہوگی۔‘‘ پھر ایک تیسری جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی؛ تو کہا جائے گا کہ:’’ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہے؟ اور ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں ایک چوتھی جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو ان سے کہا جائے گا کہ:’’ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے؟[یعنی تبع تابعین میں سے ہو] تو ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی ہوگا جس کی وجہ سے ان کو فتح حاصل ہو گی۔‘‘ [صحیح مسلم:ح 1969]

صحیح بخاری کی روایت میں تین بار کا ذکر ہے ؛ جیسا کہ پہلی روایت میں گزر چکا۔ لیکن اس کے الفاظ میں ( یأتِی علی الناسِ زمان یغزو فِئام مِن الناسِ)وارد ہوا ہے۔دوسری او رتیسری بار بھی ایسے ہی کہا گیا ہے۔ اوراس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہ تمام صحابہ ہوں گے۔ تمام روایات کا صحابہ کرام ‘ تابعین اور تبع تابعین کے ذکر پر اتفاق ہے۔یہی وہ تین قرون ہیں [جن کے بہترین ہونے کی بشارت دی گئی ہے ]۔ جب کہ بعض روایات میں چوتھے قرن کا ذکر بھی آیا ہے۔ لیکن تین قرون پر تمام لوگوں کااتفاق ہے۔ اس کی کئی روایات ہیں ۔ 

جیسا کہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔‘‘[صحیح بخاری:ح 868]۔

صحیحین میں ہی حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد متصل ہوں گے۔‘‘ 

حضرت عمران بیان رضی اللہ عنہ کرتے ہیں کہ :’’مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قرن کے بعد دو مرتبہ قرن کا ذکر فرمایا تھا یا تین مرتبہ۔‘‘

پھر ارشاد فرمایا:’’ تمہارے بعد کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بغیر طلب و خواہش کے گواہی دیں گے۔ وہ خیانت کریں گے اور امین نہ بنائے جائیں گے۔ وہ نذر مانیں گے اور اپنی نذر کو پورا نہ کریں گے۔‘‘اور ایک روایت میں ہے: ’’ وہ قسم أٹھائیں گے ‘ حالانکہ ان سے قسم کا نہیں کہا جائے گا۔‘‘[صحیح البخاری ‘ کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ‘ الباب الأول؛ [مسلم ؛ کتاب فضائل الصحابۃ ’باب : فضل الصحابۃ ....ثم الذین یلونہم؛ ح: 215]۔ ]

حضرت عمران رضی اللہ عنہ کو چوتھی بار[یعنی قرن چہارم ] کے متعلق شک ہے۔‘‘

حدیث مبارکہ کے یہ الفاظ : ’’اور ان سے گواہی طلب کرنے سے پہلے وہ گواہی دیں گے ۔‘‘ بعض علماء کرام نے اسے مطلق گواہی پر محمول کیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض علماء کرام رحمہم اللہ نے یہ بھی مکروہ سمجھا ہے کہ کوئی انسان حق گواہی بھی حق دار کے طلب کرنے سے پہلے دے؛ جب کہ اسے صحیح گواہی کا علم بھی ہو۔ اس کی تطبیق اس دوسری حدیث کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہے ‘ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے:

(( ألا أخبرکم بخیر الشہداء ؟ الذي یأتي بالشہادۃ قبل أن یسألہا )) [مسلم کتاب الأقضیۃ ؛ باب بیان خیر الشہود ‘ ۳؍۱۳۴۴۔ سنن أبي داؤد ‘ کتاب الأقضیۃ ‘ باب في الشہادات ؛ سنن الترمذي ۳؍۳۷۳؛ کتاب الشہادات الباب الأول۔]

’’ کیا میں تمہیں بہترین گواہ کے بارے میں خبر نہ دو ں ۔ وہ جوکہ پوچھنے سے پہلے ہی گواہی ادا کرے ۔‘‘

ایک دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ : یہاں پر مراد جھوٹ کی مذمت بیان کرنا ہے۔ یعنی وہ لوگ جھوٹی گواہی دیتے ہیں ۔جیسا کہ خیانت اور ترک وفاء پر بھی ان کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے کہ یہ امور منافقت کی نشانیاں ہیں ۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں ہے: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :

’’جب بات کرے تو جھوٹ بولے؛ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے ۔ اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔‘‘ یہ صحیح بخاری اور مسلم کی روایت ہے۔ [سبق تخریجہ]

جب کہ حق بات کی گواہی کے لیے گواہ جب اس کی ضرورت محسوس کرے ‘اور اسے پتہ چلے کہ جس کے حق میں گواہی دی جاری ہے وہ اس کا ضرورت مند ہے‘ مگراس نے گواہی دینے کے لیے سوال نہیں کیا ؛ تب بھی اس نے گواہی دیدی تو یقیناً اس نے عدل و انصاف قائم کیا۔ اور پوچھنے سے پہلے ہی اپنا واجب ادا کردیا۔یہ اس انسان سے افضل ہے جو صرف کہنے پر ہی حق ادا کرتا ہے ورنہ نہیں ۔ جیسا کہ وہ انسان جس کی امانت کسی دوسرے کے پاس ہو۔ اور وہ اس کے مانگنے سے قبل ہی اس کی امانت اس تک پہنچادے۔ یہ اس انسان سے افضل ہے جو کہ اس کے مالک کو مانگنے کی نوبت تک پہنچادے۔ دونوں اقوال میں سے یہ قول زیادہ ظاہرہے۔

یہ مسئلہ فقہاء کرام کے اس جھگڑے کے اختلاف سے مشابہت رکھتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی چیز کا دعوی کرے ‘اور حاکم مدعی علیہ سے سوال نہ کرے؛ تو کیا وہ خود جواب کا پوچھے گا ؟ تو صحیح بات یہ ہے کہ وہ اس سے جواب مانگے گا۔یہاں پر مدعی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ؛ اس لیے کہ احوال کی دلالت سوال سے بے نیاز کرتی ہے۔

سو پہلی حدیث میں ہے :((ہل فِیکم من رأی رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔)) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟اور پھر کہا : ((ہل فِیکم من رأی من صحِب رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟)) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو ؟تو یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا صحابی ہے۔

ایسے ہی تمام طبقات میں سوال کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔یعنی اس کے بعد ہے : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کے ساتھی کو دیکھا ہو ؟یہاں پر صاحب سے مراد دیکھنے والا ہے۔

جب کہ دوسری حدیث میں ہے: ’’دیکھو کیا تمہارے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی صحابی ہے؟

صفحہ 8 از 35