فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ] - ردِ…

فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 35

پھر تیسری بارکہا جائے گا کہ:’’ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہے؟

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ اگر صحابی کے ساتھی کاحکم صرف دیدار کے ساتھ معلق ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار پریہ حکم بدرجہ اولی زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔

بخاری کے روایت میں ان تمام طبقات کے لیے’’ صَحِب‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ یہ تمام الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں جو کہ اس مسئلہ میں نص کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اگرچہ ان میں سے بعض الفاظ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہیں ‘اس لیے کہ آپ روایت کو بالمعنی نقل کرتے ہیں ۔ لیکن اس میں یہ دلیل پائی جاتی ہے کہ ان میں سے ایک لفظ کے معانی دوسرے لفظ میں پائے جاتے ہیں ۔اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے گئے کلام کے معانی کے زیادہ واقف و عالم ہیں ۔ 

مزید برآں اگرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلنے والا لفظ ’’رأی۔‘‘’’دیکھا‘‘ تھا؛ تو بھی یقیناً مقصود حاصل ہوگیا۔ اور اگر کسی ایک طبقہ یا تمام طبقات میں یہ لفظ ’’ صَحِب‘‘ تھا تو تب بھی مقصود حاصل ہوگیا۔ اس لیے کہ اگر اس سے دیدار مراد نہ ہوتا؛ تو پھر آپ کا مقصود واضح نہ ہوتا۔ اس لیے کہ صحبت اسم جنس ہے جس کی شرعی حد مقرر ہے؛ نہ کہ لغت میں ۔جب کہ عرف میں یہ مختلف فیہ ہے۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحبت کے لفظ کو کسی شرط کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ اور نہ ہی اس کی کوئی تقدیر مقرر کی ہے۔ بلکہ اس کے حکم کو مطلق طور پر معلق رکھاہے۔اور دیدار سے بڑھ کر اس کااطلاق کسی اور چیز پر نہیں ہوسکتا۔

مزید برآں جو کہا جاتا ہے : ’’ ایک گھڑی کی صحبت ؛ سال کی صحبت اور مہینہ بھر کی صحبت ‘‘ تو یہ صحبت کے کم و زیادہ ہونے کی دلیل ہے۔جب اسے بغیر کسی شرط کے مطلق طور پر بیان کیاگیا ہے تو اسے بغیر کسی شرعی دلیل کے مقید کرنا جائز نہیں ۔بلکہ اسے تمام موارد استعمال کے درمیان مشترکہ معانی پر محمول کیا جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف کسی کو دیکھ لینے سے یہ واجب نہیں کیاجاسکتا کوئی یوں کہے: فلاں اس کی صحبت میں رہا۔ لیکن جب وہ باقی لوگوں کوچھوڑ کر صرف اس کی اتباع و اقتداء کے نظریہ سے دیکھے ۔ تو خصوصیت صرف آپ کے ساتھ خاص ہے۔اس لیے کہ کفار اور منافقین میں سے جس کسی نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ان کا یہ دیکھنا معتبر نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان دیکھنے کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور آپ کی اتباع کرنا نہیں تھاکہ وہ آپ کے اعوان و انصار اور تصدیق کرنے والوں میں شامل ہو؛ آپ کے احکام میں آپ کی اطاعت گزاری بجالائے؛ آپ سے دوستی رکھے اورآپ کے دشمنوں سے دشمنی رکھے اور آپ سے اپنی جان و مال اور ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تمام اہل ایمان میں یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے ؛ آپ نے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا یہ حال ہے۔ اس لیے آپ صحابی تھے۔

اس کی دوسری دلیل صحیحین کی روایت ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے دینی بھائیوں کو دیکھوں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول کیا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم تو میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے؛ اور مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔‘‘[سبق تخریجہ]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:’’میرے بھائی ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ : آپ کی مراد وہ بھائی ہیں جو آپ کے صحابہ نہیں ہیں ۔ جب کہ ان لوگوں کے لیے صحبت کی خصوصیت ہے۔پھر آپ نے فرمایا: ’’وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے؛ اور مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔‘‘اس جملہ کو آپ نے اپنے ان بھائیوں جن کو آپ دیکھنا چاہتے تھے ؛ اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین حد فاصل بنادیا۔یہ بھائی وہ لوگ ہیں جنہیں آپ نے نہیں دیکھا او رانہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔

[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور امور دعوت]:

جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ اسم جنس قلیل و کثیر صحبت کے لیے عام ہے۔اس کی سب سے کم مقدار یہ ہے کہ ایک تھوڑا سا وقت ہی آپ کی صحبت میں گزارا ہو۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس صحبت کی سب سے بلند چوٹی اور اعلی ترین مقام پر فائز ہیں ۔ اس لیے کہ آپ کو شرف صحبت بعثت نبوی سے لیکر وقت وفات تک حاصل رہا۔ لوگوں کا اجماع ہے کہ آزاد مردوں میں سب سے پہلے آپ ہی ایمان لائے تھے۔ جیسا کہ اس بات پر بھی اجماع ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایمان لائی تھیں ؛ اور بچوں میں سے حضرت علی اور غلاموں میں سے حضرت زید بن حارثہ؛ رضی اللہ عنہم ۔ لیکن اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے کلمہ کس نے پڑھا؟ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پہلے ایمان لائے تھے تو آپ کو صحبت میں سبقت حاصل ہوگئی۔ جیسا کہ آپ کو ایمان میں سبقت حاصل ہے۔ اور اگر پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے تو پھر بھی اس بات میں کوئی شک نہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحبت زیادہ کامل اور نفع بخش تھی۔ اس لیے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دعوت کے کام میں شریک ہوگئے۔آپ کے ہاتھ پر اکابر اہل شوری اسلام لائے۔ جیسا کہ حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر‘حضرت سعد ‘ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہم ۔ نیز آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایذاء رسانوں سے دفاع کرتے تھے اور آپ کے ساتھ قبائل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے نکلتے ؛ اور امور دعوت میں آپ کے معین و مددگار ہوتے۔

صفحہ 9 از 35